logo logo
AI Search

گاؤں کی واٹر سپلائی پر زکوٰۃ کی رقم لگانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گاؤں کی واٹر سپلائی پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے گاؤں میں واٹر سپلائی کی موٹر خراب ہے، جس پر سات آٹھ لاکھ کا خرچہ آئے گا، میرے  پاس زکوۃ کی رقم جمع ہے، کیا وہاں خرچ کرسکتا ہوں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں واٹر سپلائی کی موٹر پر زکوۃ کے پیسے ڈائریکٹ خرچ نہیں کرسکتے کیونکہ زکوٰۃ  کی ادائیگی کے لئے مستحق زکوۃ کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے ورنہ زکوۃ ادا نہیں ہوگی، ہاں اگرعاقل بالغ مستحق زکوۃ مال پرقبضہ کرکے اپنی طرف سے اس کام میں لگادے توکوئی حرج نہیں کہ اس کے قبضہ کرنے سے زکوۃ اداہوگئی، اب اس کااپنی  طرف سے اس کام کے لیے دینانفلی کام ہے۔

  زکوٰۃ، تو وہ شرعاً مال کے ایک معین حصے کا شرعی فقیر کو مالک بنانا ہے، چنانچہ تنویرالابصار میں ہے:

’’ھی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیر ھاشمی و لا مولاہ مع قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالیٰ‘‘

ترجمہ: اللہ عزوجل کی رضا کے لئے شارع کی طرف سے مقرر کردہ مال کے ایک جزء کا مسلمان فقیر کو مالک کردینا، جبکہ وہ فقیر نہ ہاشمی ہو اور نہ ہی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کرلیا جائے۔ (تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار، جلد 3، صفحہ 203 تا 206 ملتقطا، مطبوعہ کوئٹہ)

  درمختارمیں ہے

"و حيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما و كذا في تعمير المسجد"

ترجمہ: زکوۃ کی رقم کے ساتھ کفن دینے کا حیلہ فقیر پر صدقہ کرنا ہے پھر وہ کفن دے دے تو ثواب دونوں کو ملے گا اور یہی طریقہ مسجد کی تعمیر میں اپنا یا جا سکتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکوۃ، ج 02، ص 271، دار الفکر، بیروت)

  سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: "زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا) ہے۔ جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہو، کیسا ہی کارِ حَسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میت یا تنخواہِ   مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہوسکتی۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 269، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

  بہار شریعت میں ہے "زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین  یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کر نا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ''اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔'' (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 890، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3718
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1446 ھ/11 اپریل 2025 ء