وراثت کے مال اور کاروبار پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وراثت کے مال اور کاروبار پر زکوٰۃ کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید کا انتقال ہوگیا ہے۔ انہوں نے وراثت میں ایک رہائشی فلیٹ (جو کہ انہوں نے رہنے کے لئے لیا تھا)، ایک دکان (جو کرائے پر دی ہوئی تھی اور اب بھی کرائے پر ہے)، ایک کاروبار (جو کرائے کی دکان میں قائم ہے، اس میں الیکٹرک کا سامان فروخت کیا جاتا ہے اور مذکورہ کاروبار اس وقت ورثہ کی رضامندی سے بڑا لائق وامین بیٹا چلا رہا ہے)، ایک استعمال کی موٹر سائیکل اور ایک کار چھوڑی ہے۔ مرحوم کی بعض اولادبالغ جبکہ بعض نابالغ ہیں، نیز ابھی تک ترکہ کی باقاعدہ تقسیم کاری بھی نہیں ہوئی ہے، ایسی صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرحوم کے چھوڑے ہوئے اموال کی زکوۃ ورثہ پر لازم ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی توکن اموال میں ہوگی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں جن اشیاء کی زکوۃ کسی بھی وارث پر لازم نہیں ہوگی، وہ درج ذیل ہیں:
(۱)رہائشی فلیٹ، (۲)کرائے پر دی ہوئی دکان، (۳)کار اور(۴) موٹر سائیکل۔
مذکورہ اشیاء میں سے جن کی زکوۃ بالغ ورثہ پر لازم ہوسکتی ہے، وہ درج ذیل ہیں:
(۱)دکان کا کرایہ کہ اس میں بالغ ورثہ کا جتنا حصہ بنتا ہے، اگر وہ ہر ایک کے لئے ان کے اعتبار سے حاجت اصلیہ اور قرض سے فارغ و زائد ہے، نیز وہ تنہا خود یا پھر دیگر حاجت اصلیہ سے زائد اموالِ زکوۃ سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتا ہے، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں یہ نصاب میں شمار ہوگا اور بالغ ورثہ پر اس کی زکوۃ بھی واجب ہوگی، جبکہ نابالغ ورثہ پر ان کے حصوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
(۲) الیکٹرک سامان کا کاروبار کہ جسے اب بڑا بیٹا بالغ ورثہ کی اجازت سے چلا رہا ہے، تو اس میں موجود سامان تجارت وغیرہ میں ہر بالغ وارث کا جتنا حصہ بنتا ہے، اگر وہ تنہا خود یا پھر دیگر حاجت اصلیہ سے زائد اموالِ زکوۃ سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتا ہے، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں بالغ ورثہ پر ان کے حصوں کی زکوۃ لازم ہوجائےگی، جبکہ نابالغ ورثہ کے حصوں پر اس کی بھی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ فی الحال تقسیم کاری نہ ہونے اور اس کے نتیجے میں مذکورہ اموال پر قبضہ نہ ہونے سے بھی مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا، اور مذکورہ اموال میں سے جن میں زکوۃ لازم ہوتی ہے، ان میں شرائط کی موجودگی میں زکوۃ لازم ہوجائے گی۔
تفصیل:
مُورِث کے فو ت ہوتے ہی ترکہ اگرچہ ورثہ کی ملکیت میں آجا تا ہے، تاہم زکوۃ صرف اموال نامی پر لازم ہوتی ہے، لہٰذا ترکہ میں شامل وہ اموال جو کہ غیر نامی ہیں، جیسے رہائش کا گھر، کرائے پر دی ہوئی دکان، استعمال کی سواری وغیرہ، ان پر اصلاً زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، اگرچہ ورثہ بعد میں ان میں تجارت کی نیت ہی کیوں نہ کرلیں۔ البتہ اموالِ نامی پرشرائط کی موجودگی میں زکوۃ لازم ہوتی ہے اور بیان کردہ صورت میں دُکان کا کرایہ جو کہ کرنسی کی صورت میں وصول ہوتا ہے، وہ اور کاروبارکے لئے موجود سامانِ تجارت اموال نامی ہیں، لہذا ان میں سے اپنے حصے میں آنے والے مال کی زکوۃ دیگر شرائط کی موجودگی میں صرف بالغ ورثہ پر لازم ہوگی اور چونکہ راجح قول کے مطابق مُورث کا مالِ تجارت ورثہ کے حق میں بھی مال تجارت رہتا ہے، اگرچہ ورثہ اس میں خود الگ سے تجارت کی نیت نہ کریں، لہذا ہماری صورت میں بھی مذکورہ مال تجارت، بالغ و نابالغ دونوں طرح کے ورثہ کے حق میں مال تجارت رہے گا، بلکہ بالغ ورثہ نے تو بڑے بیٹے کو کاروبار سنبھالنے اور اسے جاری رکھنے کا کہہ کر صراحتاً اپنی نیت تجارت کو بھی ظاہر کردیا، لہٰذا ان کے حق میں تو یہ بالاتفاق مال تجارت ہوگیا، بہر حال مذکورہ مال تجار ت کی زکوۃ شرائط کی موجودگی میں بالغ ورثہ پران کے حصوں میں لازم ہوگی، جبکہ نابالغ ورثہ پر ان کے حصوں کی زکوۃ نابالغی کی وجہ سے لازم نہیں ہوگی۔
نوٹ: ہمارے یہاں والد، دادا یا ان کے وصی کی عدم موجودگی میں نابالغ کا بڑا لائق وامین بھائی اس کے لئے عرفاً ودلالۃً وصی کی طرح ہوتا ہے، لہذا اسے تمام وہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو وصی کو ہوتے ہیں، اور وصی نابالغ کا مال اس کے لئے تجارت میں لگاسکتا ہے، یوں بڑے بھائی کے مذکورہ کاروبار میں موجود اپنے نابالغ بھائی بہنوں کے حصوں میں ان کے لئے کاروبار کرنے میں بھی شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں۔
زکوۃ لازم ہونے کے لئے مال کا نامی ہونا ضروری ہے، اس کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے:
”ان نصاب الزکوۃ المال النامی ومعنی النماء فی ھذہ الاشیاء لا یکون بدون التجارۃ“
یعنی زکوۃ کا نصاب مالِ نامی ہوتا ہے اور ان اشیا (یعنی مکان، پلاٹ وغیرہ)میں نمو کا معنی تجارت کے بغیر نہیں پایا جاتا۔ (المبسوط، ج02، ص 198، مطبوعہ بیروت)
بیان کردہ صورت میں دکان کی مالیت پر تو زکوۃ نہیں ہوگی کہ اسے کرایہ پر دیا ہوا ہے، البتہ اس کے کرائے پر حاجت اصلیہ سے زائد ہونے کی صورت اور دیگر شرائط کی موجودگی میں زکوۃ لازم ہوسکتی ہے۔
کرایہ اگر حاجت اصلیہ سے زائد ہو تو اس پر دیگر شرائط کی موجودگی میں زکوۃ لازم ہونے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ” (کرائے کے) مکانات پر زکوٰۃ نہیں، اگرچہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگا اس پر زکوٰۃ آئے گی، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدرِ نصاب ہو۔ “ (فتاوی رضویہ، ج10، ص161، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وراثت میں ورثہ کے حصے میں مال غیر تجارت آئے، تو اگرچہ وہ بعد میں اس میں تجارت کی نیت بھی کرلیں جب بھی وہ مال تجارت نہیں ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں تبیین کے حوالےسےہے:
”لو ورثہ ونواہ للتجارۃ لا یکون لھا“
اگر (مال تجارت کے علاوہ کسی اور) چیز کا وراث ہوا اور اس میں تجارت کی نیت کی تو وہ تجارت کے لئے نہیں ہوگی۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 01، ص 174، مطبوعہ مصر)
مورث کےمال تجارت میں اگر ورثہ بھی تجارت کی نیت کرلیں جب تو بالاتفاق وہ ورثہ کے حق میں بھی مال تجارت رہتا ہے، جبکہ مورث کی وفات کے بعد اگر ورثہ خوداس میں تجارت کی نیت نہ کریں، تو بھی راجح قول کے مطابق وہ ورثہ کے حق میں مال تجارت ہی رہتا ہے جب تک وہ تجارت کی نیت ختم نہ کرلیں۔ صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: مورث کے پاس تجارت کا مال تھا، اس کے مرنے کے بعد وارثوں نے تجارت کی نیّت کی تو زکوۃ واجب ہے۔ “ (بھارِ شریعت، ج 01، ح 05، ص 883، مکتبۃ المدینہ)
فتاویٰ عالمگیری میں بحوالہ محیط سرخسی ہے:
”وفي السائمة، ومال التجارة إن نوى الورثة الإسامة أو التجارة بعد الموت تجب و إن لم ينووا قيل تجب وقيل لا تجب كذا في محيط السرخسي“
سائمہ اور مال تجارت میں اگر ورثہ مورث کی موت کے بعد اسامت اور تجارت کی نیت کرلیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور اگر وہ نیت نہ کریں تو ایک قول یہ ہے کہ زکوٰۃ واجب ہوگی اور ایک قول یہ ہے کہ نہیں ہوگی، اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔(فتاوی عالمگیری، ج 01، ص 174، دار الفكر، بيروت)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
”فأما في مال التجارة والإسامة فإن نوى الورثة التجارة أو الإسامة بعد الموت تجب وإن لم ينووا قال بعضهم تجب لأن الوارث والموصى له خلف الميت فينتقل المال إليهما على الوصف الذي كان ما لم يوجد التعيين من جهتهما بأن وجدت منهما نية الابتذال والإعلاف وقال بعضهم لا بد من وجود النية لأن الملك قد زال عن الميت حقيقة وتجدد الملك للوارث والموصى له“
رہا مال تجارت اور سائمہ جانور، تو اگر ورثہ مورث کی موت کے بعد تجارت اور اسامت کی نیت کرلیں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوجائے گی اور اگر ان میں نیت نہ کریں تو بعض فقہا فرماتے ہیں زکوٰۃ واجب ہوگی، اس لیے کہ وارث اور موصی لہ میت کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کی ملکیت میں مال اسی طور پر آتا جس طرح و ہ مورث کے پاس تھا، جب تک کہ ان لوگوں کی جانب سے کوئی اور جہت متعین نہ ہوجائے، اس طرح کہ ان کی طرف سے ذاتی استعمال کی نیت ہو جائے یا سائمہ جانور میں معلوف بنانے کی نیت بن جائے اور بعض فقہا فرماتے ہیں (مال تجارت بننے کے لیے) وارث کا تجارت کی نیت کرنا ضروری ہے اس لیے کہ حقیقۃً اس مال کی ملکیت میت سے زائل ہوجاتی ہے اور وارث اور موصی لہ کے حق میں ملکیت نئے سرے سے پائی جاتی ہے۔ (تحفة الفقهاء، ج 01، ص 295، دار الكتب العلميۃ)
نوٹ: اس بارے میں اگرچہ دو اقوال موجود ہیں، تاہم راجح قول مورث کے مال تجارت کے ورثہ کے حق میں بلا نیت بھی مال تجارت باقی رہنے کا ہے، اس حوالے سے دارالافتاء اہلسنت کا ایک تفصیلی فتوی دار الافتاء اہلسنت کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے، اس کا لنک نیچے شیئر کردیا جارہا ہے، دلائلِ ترجیح کے لئے اس کی جانب رجوع کیا جاسکتا ہے۔
https: //www.fatwaqa.com/ur/fatawa/zakat-aur-ushr/wirasat-mein-milne-wale-maal-e-tijarat-par-zakat
نابالغ پر زکوۃ نہ ہونے کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے: ”نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 875، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مال وراثت پر اگرچہ قبضہ حاصل نہ ہو تب بھی اس میں زکوۃ واجب ہوجائے گی، اس حوالے سے تحفۃ الفقہاء میں ہے:
”أما الميراث إذا حال عليها الحول ولم يقبضها تجب فيها الزكاة في الذهب والفضة“
مال وراثت پر سال گزر گیا لیکن قبضہ حاصل نہ ہوا، تو سونا اور چاندی میں زکوۃ واجب ہوجائے گی۔ (تحفۃ الفقہاء، ج 01، ص 295، دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)
ہمارے بلاد میں ولی وو صی کی عدم موجودگی میں نابالغ کے لئے اس کا بڑا لائق وامین بھائی، وصی ہوتا ہے، اس حوالے سےفتاوی رضویہ میں ہے: ”ہمارے بلاد میں جبکہ یتیموں پرنہ باپ کا وصی ہونہ حقیقی دادا نہ دادا کا وصی تو اُن کا حقیقی جوان بھائی اگر لائق و امین ہو مثل وصی سمجھاجائے گا، اور امانت و دیانت اور بچوں پر رحمت و شفقت کے ساتھ جن تصرفات کا شرعاً وصی کو اختیار ہوتا ہے اسے بھی ہوگا اگرچہ صراحتاً باپ نے اس کو وصی نہ بنایا ہو کہ یہاں عرفاً و دلالۃً وصایت ثابت ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، ج 25، ص 334، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وصی کے لئے یتیم کے مال سے یتیم کے لئے تجارت کرنا جائز ہے، اس حوالے سے درر الحكام ميں ہے:
”(وله) أي للوصي (التجارة بمال اليتيم لليتيم )“
وصی کے لئے یتیم کے مال سے یتیم کے لئے تجارت کرنا جائز ہے۔ (درر الحکام، ج 02، ص 450، دار إحياء الكتب العربية)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0732
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1447ھ/09 مارچ 2026 ء