زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وعید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جو لوگ زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کرتے ان کے متعلق شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جو لوگ زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود ادا نہیں کرتے، ان کے متعلق شرعی رہنمائی فرما دیں۔
جواب
زکوٰۃ اعظم فرائضِ دین اور اہم ارکانِ اسلام میں سے ہے، اس کی فرضیت کا منکر کافر، اور فرض ہونے کے باوجود ادا نہ کرنے والا فاسق، اور ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے، اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں بتیس (32)مقامات پر نماز کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا اور مختلف انداز میں بندوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی کی طرف بلایا۔ قرآن کریم میں نازل فرمانِ خداوندی اور احادیث طیبہ میں وارد ارشادِ نبوی کے مطابق ہر مسلمان مرد و عورت جوعاقل، بالغ، آزاد، صاحبِ نصاب ہو اور اس کے نصاب پر سال گزر گیا ہو، تو اس پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔
زکوٰۃ فرض ہونے کے باجود زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لئے خدائے ذوالجلال نے دردناک عذاب کی وعید ارشاد فرمائی ہے، زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے بروزِ قیامت یہی مال ان لوگوں کی جان کے لئے وبال بن جائے گا کہ یہ مال دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اس تپے ہوئے مال سے ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو برابر داغا جائے گا، اور حدیث پاک کے مطابق جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے، وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے پر بطورِ عذاب مسلط کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی مختلف حدیثوں میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لئے مختلف وعیدات بیان کی گئی ہیں۔لہٰذا جس شخص پر زکوٰۃ فرض ہو، اس پر لازم ہے کہ بلا تاخیر فوراً اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے، زکوٰۃ فرض ہوجانے کے بعد اس کی ادائیگی نہ کرنا یا ادائیگی میں تاخیر کرنا، دونوں گناہ ہیں۔
زکوٰۃ کی فرضیت سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو۔ (القرآن الکریم، پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 43)
سنن الترمذی کی حدیثِ مبارک میں ہے:
”عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن فقال له: «إنك تأتي قوما أهل كتاب، فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم‘‘
ترجمہ: حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، تم ان کو اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، پھر اگر وہ اس کی اطاعت کر لیں، تو تم انہیں یہ بات سکھلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ اس کی اطاعت کرلیں تو تم انہیں یہ بات سکھلانا کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، یہ زکوٰۃ مال داروں سے لے کر فقراء کو دی جا ئے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 625، ص 257، دار ابن کثیر)
زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کو عذاب دئیے جانے سے متعلق قرآن پاک میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ (۳۵)﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں، سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔ جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔ (القرآن، پارہ 10، سورۃ التوبۃ، آیت 34۔35)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مذکورہ دردناک عذاب ان بخیلوں کو اس دن ہوگا، جب ان کے جمع کردہ سونے چاندی کو یا دوسرے زکاتی مال کی قیمت کے سونے چاندی کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، ان پر آگ دھونکی جائے گی، پھر اس تپے ہوئے سونے چاندی سے ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو برابر داغا جائے گا، جس کی تکلیف ان کی برداشت سے باہر ہوگی اور ساتھ میں رب تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ اس جرم کی سزا ہے جو تم نے ہمارے دئیے ہوئے مال کو کنز بنا کر جوڑے رکھا، اگر اسے کنز نہ بناتے تو اس مال پر ثواب پاتے، اب کنز دفینہ بنانے کا مزہ اچھی طرح چکھو۔‘‘ (تفسیرِ نعیمی، جلد 10، صفحہ 264، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”من آتاه اللہ مالا فلم يؤد زكاته مثل له مالہ يوم القيامة شجاعا أقرع، له زبيبتان، يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهزمتيه يعني بشدقيه ثم يقول أنا مالك أنا كنزك ثم تلا {وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ} الآية {بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ}‘‘
ترجمہ: جسے اللہ پاک نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی صورت میں کردیا جائے گا، جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی، وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، پھر وہ سانپ اس کے جبڑے پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ
(اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ عنقریب وہ جس میں بخل کیا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا)۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 188، مطبوعہ کراچی)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”زکوٰۃ اعظم فروضِ دین و اہم ارکانِ اسلام سے ہے، ولہٰذا قرآنِ عظیم میں بتیس جگہ نماز کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس فرضِ اہم کی طرف بلایا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ 172، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے: ”زکاۃ فرض ہے، اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔‘‘ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 874، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4858
تاریخ اجراء: 29رمضان المبارک1447ھ/19مارچ2026ء