logo logo
AI Search

زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے رقم چوری ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

زکوٰۃ کی رقم فقیر کو دینے سے پہلے چوری ہوگئی، تو کیا حکم ہے؟

مجیب:مفتی علی اصغر صاحب مدظلہ العالی
فتوی نمبر: Nor-11480
تاریخ اجراء:26شعبان المعظم 1442ھ/10اپریل2021ء

دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سے زائد سونا ہے وہ ہرسال زکوٰۃ بھی نکالتی ہیں اور اس سال بھی انھوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے رقم نکال کر الگ رکھی ہوئی تھی مگرشرعی فقیر یا اس کے نمائندے کو دینے سے پہلے خود ان ہی کے پاس سے رقم چوری ہوگئی، کیا ان کو اب الگ رقم سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی رقم شرعی فقیر یا اس کے وکیل کو دینے سے پہلے ضائع ہونے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، لہذا ان اسلامی بہن پر لازم ہے کہ اِس سال کی زکوٰۃ دوسری رقم سے ادا کریں۔

زکوٰۃ کی رقم محض الگ کرنے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی، جیساکہ ردالمحتامیں ہے:

(ولایخرج عن العھدۃ بالعزل)فلوضاعت لاتسقط عنہ الزکاۃ ،ولومات کانت میراثا عنہ ،بخلاف مااذا ضاعت فی یدالساعی لان یدہ کیدالفقراء

یعنی محض زکوٰۃ کی رقم الگ کرنے سے بری الذمہ نہ ہوگا لہٰذا الگ کی گئی رقم ضائع ہوگئی تو زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی اور اگر زکوٰۃ کی رقم الگ کر کے کوئی مرگیا تو وہ رقم میراث بن جائے گی، لیکن جب زکوٰۃ وصول کرنے والے عامل کے ہاتھ میں زکوٰۃ ضائع ہوئی تو پھر دوبارہ دینا لازم نہیں کیونکہ عامل کا قبضہ فقیر کے قبضے کی طرح ہے۔ (ردالمحتار،جلد3،صفحہ225،مطبوعہ کوئٹہ)

النہرالفائق میں ہے: 

لایخرج بالعز ل عن العھدۃ بل لابدمن التصدق بہ حتی لوضاعت لم تسقط عنہ کذا فی الخانیۃ

یعنی مال کو بنیت زکوٰۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگا بلکہ تصدق ضروری ہے حتی کہ اگر بنیت زکوٰۃ علیحدہ کیا گیا مال ضائع ہوگیا تو زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی۔ خانیہ میں بھی یونہی ہے۔ (النھرالفائق ،جلد1،صفحہ419،مطبوعہ کراچی)

بہارشریعت میں ہے: مال کوبہ نیت زکوٰۃ علیحدہ کردینے سے بری الذمہ نہ ہوگا، جب تک فقیروں کونہ دیدے، یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا، تو زکوٰۃ ساقط نہ ہوئی اور اگر مرگیا تو اس میں وراثت جاری ہوگی۔  (بھارشریعت،جلد1،صفحہ889،مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم