وکیل زکوۃ کا اپنی ضرورتمند بیوی کو زکوۃ دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوۃ کے وکیل کا اپنی بیوی کو زکوۃ دینا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید اپنے مستحق رشتہ داروں کے لیے اغنیاء اور مالداروں سے زکوۃ وصول کرتا ہے، اور مستحق رشتہ داروں تک پہنچاتا ہے، اور اس میں سے کچھ حصہ اپنی مستحق زکوۃ بیوی کو بھی دیتا ہے۔ کیا بیوی کو اس طرح زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب
اگر زکوۃ دینے والوں نے خاص افراد کو زکوۃ دینے کا نہیں کہا تو زید اپنی بیوی کو زکوۃ دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مستحق زکوۃ ہو (یعنی فقیرہ شرعیہ ہواور سید یا ہاشمی نہ ہو) ۔
بحر الرائق میں ہے:
رجل دفع زكاة ماله إلى رجل وأمره بالاداء فأعطى الوكيل ولد نفسه الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاويج جاز
ترجمہ: فتاویٰ ظہیریہ میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی زکوۃ دوسرے شخص کو دی اور اسے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو وکیل وہ زکوۃ اپنے بڑے یا چھوٹے بیٹے یا اپنی بیوی کو دے سکتا ہے جبکہ وہ محتاج ہوں۔ (بحر الرائق، ج 2، ص 263، دار الکتاب الاسلامی)
بہار شریعت میں ہے: وکیل کو اختیار ہے کہ مالِ زکاۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اور اگر لڑکا نابالغ ہے تو اُسے دینے کے لیے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے، مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے، جب مؤکل نے اُن کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لیے نہ کہہ دیا ہو ورنہ انھیں نہیں دے سکتا۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 888، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-2613
تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1445 ھ/30 مارچ 2024 ء