مجیب:ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتوی نمبر:Web-1960
تاریخ اجراء:11ربیع الثانی1446ھ/15اکتوبر2024ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے کے بجائے کسی غریب لڑکی کو شادی میں واشنگ مشین یا کوئی اور سامان دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جس کو زکوٰۃ میں واشنگ مشین یا کوئی اور سامان دینا ہے اگر وہ شرعی فقیر ہو اور سید یا ہاشمی نہ ہو تو اسے واشنگ مشین وغیرہ دے سکتے ہیں۔
شرعی فقیر (جس کو زکوٰۃ و دیگر صدقاتِ واجبہ دے سکتے ہیں) اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کی ملکیت میں ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی یا اس کے برابر سونا یا پیسے یا اس کے برابر حاجتِ اصلیہ سے زائد مال نہ ہو یا ہو لیکن وہ اتنا مقروض ہو کہ اس مال سے اس کا قرض مائنس کیا جائے، تو اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مال نہ رہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم