logo logo
AI Search

مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوۃ ادا ہوجائیگی؟

زکوۃ کی نیت سے قرض معاف کرنا

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-553
تاریخ اجراء: 13رجب المرجب  1443ھ/15فروری2022

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر کسی کے پاس  ہمارا قرض ہو اور ہم  اس کو قرض معاف کردیں تو کیا زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں قرض معاف کرنے سے قرض کی معافی تو درست ہو جائے گی مگر اس سے آپ کے دیگر اموال کی زکوۃ ادا نہیں ہو گی کیونکہ دین کی معافی، اسقاط (اپنا حق ساقط کرنا) ہے جبکہ زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک فقیر (فقیر کو مالک بنانا) شرط ہے۔ البتہ آپ مقروض کو زکوۃ دینا چاہتے ہیں اور وہ مستحق زکوۃ بھی ہے تو درست طریقہ یہ ہے کہ اپنے پاس سے زکوۃ ادا کرنے کی نیت سے اسے رقم دے دیں پھر اپنے قرض میں اس سے واپس لے لیں۔ یوں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور مقروض قرض سے بھی بری ہو جائے گا۔

ہاں فقیر پر قرض تھا اور وہ معاف کردیا تو جتنا معاف کیا اس کی زکوۃ ساقط ہوجائے گی۔ اور مالدار پر قرض تھا اور وہ معاف کیا تو اس کی زکوۃ ساقط نہیں ہوگی۔

بہارشریعت میں ہے: فقیر پر اُس کا قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی اور جُز معاف کیا تو اس جز کی ساقط ہوگئی اور اگر اس صورت میں یہ نیّت کی کہ پورا زکاۃ میں ہو جائے تو نہ ہوگی اور اگر مالدار پر قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی بلکہ اُس کے ذمّہ ہے۔۔۔ فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کردے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے، اگر وہ دینے سے انکار کرے تو ہاتھ پکڑ کرچھین سکتا ہے اور یوں بھی نہ ملے تو قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرے کہ اُس کے پاس ہے اور میرا نہیں دیتا۔ (بہارشریعت، ج01، حصہ05، ص890، 889، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم