زکوۃ کی رقم کی جگہ رہائش کیلئے مکان دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوۃ کی نیت سے شرعی فقیر کو رہنے کے لئے مکان دینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے پاس تقریباً 16 تولہ سونا موجود ہے اور پچاس لاکھ روپے کاروبار میں لگائے ہوئے ہیں، میں نے ایک مکان بنایا ہے جس کا کم از کم ماہانہ کرایہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے چالیس ہزار ہے، میں نے وہ مکان اپنی خالہ کو فری میں رہنے کے لئے دیا ہوا ہےاور نیت یہ ہے کہ اس سے میری زکوۃ ادا ہوتی رہے گی کیونکہ میری خالہ کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کیا اس طرح میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں صرف رہائش دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے غیر ہاشمی شرعی فقیر کو زکوۃ کے مال کا مالک بنا کر قبضہ دینا ضروری ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے: فقیر کو بہ نیتِ زکاۃ مکان رہنے کو دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ دیا بلکہ منفعت کا مالک کیا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 875، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1551
تاریخ اجراء: 02 رمضان المبارک 1445 ھ/13 مارچ 2024 ء