logo logo
AI Search

زکوٰۃ کی رقم سے غریب لڑکی کی شادی کروانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زکوٰۃ کی رقم سے غریب کی بچی کی شادی کروانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک خاندان جو کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور ان کے پاس ضروریات زندگی کا بھی کم سامان ہے، 50 ہزار ماہانہ آمدنی کے باوجود وہ بس گزارہ ہی کر رہے ہیں اور ان کے پاس کوئی خاص جمع پونجی یا مال موجود نہیں ہے۔ اب اس خاندان کی ایک بیٹی کی شادی ہے جس کے اخراجات وہ اٹھانے سے قاصر ہیں، کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے اس بچی کی شادی کروائی جا سکتی ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی رقم سے شادی کروانا اگر اس طور پر ہو کہ وہ رقم خود ہی براہِ راست شادی کے اخراجات مثلاً ہال وغیرہ کی بکنگ، براتیوں کی ضیافت، سجاوٹ یا کیٹرنگ وغیرہ پر خرچ کر دی جائے تو یہ درست نہیں، اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیونکہ زکوٰۃ میں مستحق کو مالک بنانا شرط ہے اور اس صورت میں کسی مستحق کو مالک بنانا نہیں پایا گیا۔ تاہم اگر زکوٰۃ کی رقم اس بچی کو یا اس کے والد یا سرپرست کو دے دی کہ اگر وہ چاہے تو اس سے شادی کے اخراجات کر لے، تو اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بشرطیکہ جسے زکوٰۃ کی رقم دی وہ مستحق زکوٰۃ ہو یعنی وہ غیر ہاشمی ہو اور اس کے پاس ساڑھے باون تولہ (یعنی 612.36 گرام) چاندی یا اس کی مالیت کی مقدار دَین سے فارغ اور حاجت اصلیہ سے زائد مال نہ ہو۔ یوں ہی اگر زکوٰۃ کی نیت سے اس بچی کو جہیز کا سامان خرید کر دیا یعنی اسے مالک بنا دیا اور وہ مستحق زکوٰۃ تھی تو جتنی اس سامان کی مالیت تھی اس قدر زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ اگر وہ بچی یا جسے زکوٰۃ کی رقم یا سامان دے رہے ہیں، وہ خود مالک نصاب ہے تو بہر صورت زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں:

”وقد أمر الله تعالى الملاك بإيتاء الزكاة لقوله عزوجل: ﴿وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ [البقرة: 43] والإيتاء هو التمليك؛ ولذا سمى الله تعالى الزكاة صدقة بقوله عز وجل﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾ [التوبة: 60] والتصدق تمليك فيصير المالك مخرجا قدر الزكاة إلى الله تعالى بمقتضى التمليك سابقا عليه“

ترجمہ:  بے شک اللہ تعالیٰ نے مالداروں کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ اور إیتاء (دینا) تملیک (یعنی کسی کو مالک بنا دینے) ہی کو کہتے ہے؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو صدقہ کا نام دیا، ارشاد ربانی ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾ اور صدقہ کرنا تملیک ہی ہوتا ہے۔ پس مال کا مالک زکوٰۃ کی مقدار مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکالنے والا ہوتا ہے، تملیک کے اُس تقاضے کے ساتھ جو اس (ادائیگی) سے پہلے واقع ہو چکا ہوتا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، فصل ركن الزكاة، جلد 2، صفحہ 454، دار الكتب العلمية، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

”ان ركنها التمليك من فقير مسلم لوجه الله تعالى من دون عوض“

ترجمہ: زکوٰۃ کا رکن کسی مسلمان فقیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بغیر کسی معاوضے کے (زکوٰۃ کے مال کا) مالک بنا دینا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”زکوٰۃ شریعت میں اللہ (عزوجل) کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس سے بالکل جدا کر لے۔ ...مباح کر دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکوٰۃ کھانا کھلا دیا زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یا لے جائے تو ادا ہو گئی، یوہیں بہ نیت زکوٰۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہو گئی۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 874، مکتبة المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”مصرف زکوٰۃ ہر مسلمان حاجت مند ہے جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں، بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت ... اور نصاب مذکورہ پر دسترس نہ ہونا چند صورت کو شامل: ایک یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو، اسے مسکین کہتے ہیں، دوم: مال ہو مگر نصاب سے کم، یہ فقیر ہے، سوم: نصاب بھی ہو مگر حوائج اصلیہ میں مستغرق، جیسے مدیون...بالجملہ مدار کار حاجت مندی بمعنی مذکور پر ہے، تو جو نصاب مَزبور پر دسترس رکھتا ہے، ہر گز زکوٰۃ نہیں پا سکتا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 109-110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ ابو البركات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 710ھ/1310ء) لکھتے ہیں:

”ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب وإن كان صحيحا مكتسبا“

ترجمہ: اور زکوٰۃ ایسے شخص کو دینا جائز ہے جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو، اگرچہ وہ تندرست اور کمانے والا ہو۔ (الكافي في شرح الوافي، کتاب الزكاة، باب المصرف، جلد 2، صفحہ 303، دار المنہاج القويم، دمشق)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنا دینا، انہیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں، مگر ادائے زکوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کے عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کر دینا جائز و کافی ہے، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، مگر جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی، بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69-70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”مستحقین زکوٰۃ کو زکوٰۃ یا فطرہ دیا جائے تو ادا ہوگا، ان کے علاوہ کسی اور کو دیا جائے تو ادا نہ ہوگا۔ نیز یہ بھی شرط ہے کہ وہ ہاشمی نہ ہوں، نیز یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰۃ و فطرہ ان کو اس طرح دیا جائے کہ وہ مالک ہو جائیں، ان کو مالک بنائے بغیر ان پر صرف کیا جائے تو زکوٰۃ و فطرہ ادانہ ہو گا۔ در مختار میں ہے:

”و يشترط أن يكون الصرف تمليكا لا إباحة ولا يصرف إلى بناء نحو مسجد و تكفين ميت

(یعنی شرط یہ ہے کہ مالِ زکوٰۃ کا خرچ کرنا بطورِ تملیک ہو، نہ کہ بطور اباحت، اور اسے مسجد وغیرہ کی تعمیر یا میت کو کفن دینے میں صرف نہیں کیا جا سکتا۔)“ اس سے ظاہر ہو گیا کہ زکوٰۃ و فطرہ کی رقم سے اگر کسی کی شادی کرا دی گئی یا کپڑے بنوا دئیے گئے تو زکوٰۃ ادانہ ہوئی، ہاں یہ کر سکتے ہیں کہ تخمینہ لگا کر اتنے روپے جتنے شادی میں خرچ ہوں گے، ان کو دے دیا جائے اور مالک بنا دیا جائے کہ وہ جو چاہیں کریں، کوئی ان پر پابندی نہ عائد کی جائے، یا سامان خرید کر، کپڑے خرید کر ان کو دے دیا جائے اور مالک بنا دیا جائے کہ وہ جو چاہیں کریں، خواہ اسے استعمال کریں یا فروخت کریں یا کسی اور کام میں صرف کریں۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 7، صفحہ 160-161، جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

فتاوی بریلی شریف میں ہے: ”بے حیلہ و تملیک فقیر خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور اگر وہ مستحق زکوٰۃ ہو تو اس بچی کو رقم زکوٰۃ دے کر مالک بنا دیں، اب وہ شادی میں خرچ کر سکتی ہے یا وہ آپ کو رقم زکوٰۃ واپس دے دے، اجازت دے دے کہ اس سے شادی میں صرف کرے تو کر سکتے ہیں، اس طرح زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی اور ثواب بھی ملے گا۔“ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ 88، زاویہ پبلشرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1132
تاریخ اجراء: 6 شوال المكرم 1447ھ/26 مارچ 2026ء