logo logo
AI Search

زکوۃ کی رقم سے اپنے والد کا قرض ادا کرنا کیسا؟

زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرض ادا کرنا

مجیب:مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1573
تاریخ اجراء:14رمضان المبارک1445 ھ/25مارچ2024 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے والد صاحب مقروض ہیں، لیکن وہ قرض ادا نہیں کر سکتے، کیا میں اپنی زکوۃ کی رقم سے ان کا قرض ادا کر سکتا ہوں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

آپ اپنی زکوۃ سے اپنے والد کے قرض کی رقم ادا نہیں کر سکتے، کیونکہ والد ان افراد میں سے ہیں جن کو شرعی فقیر ہونے کے باوجود زکوۃ نہیں دے سکتے۔ نیز یہ بات ذہن میں رکھیں کہ زکوۃ میں تو کل مال کے چالیس حصوں میں سے صرف ایک حصہ دیا جاتا ہے، تو اس ایک حصے کو والد صاحب کے علاوہ کسی اور شرعی فقیر، مستحق زکٰوۃ کو ادا کریں اور جو 39 حصے آپ کی ملک میں موجود ہیں اس مال سے خوش دلی سے والد صاحب کا قرض ادا کر کے دنیا و آخرت میں برکتیں حاصل کیجئے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم