logo logo
AI Search

کیا زکوٰۃ میں راشن دینا جائز ہے؟

زکوۃ میں راشن دینا کیسا ؟

مجیب: ابو مصطفی ماجد رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-144
تاریخ اجراء12رمضان المبارک 1443 ھ/14 اپریل 2022ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس کو زکوۃ دینی ہو کیا اس کو راشن یعنی آٹا دال چینی اور گھر کی تمام ضروریات کی اشیاء لے کر دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

زکوۃ کے طور پر رقم دینا ہی ضروری نہیں بلکہ راشن یا دیگر ضروریات کی چیزیں بھی بطور زکوۃ دے سکتےہیں، مگر یہ یاد رہے کہ زکوۃ میں صرف ان اشیاء کی موجودہ قیمت ہی شمار ہوگی، لانے اور لے جانے کے اخراجات زکوۃ میں شامل نہ ہوں گے۔ ہاں بطور زکوۃ رقم دینا اچھا ہے تا کہ وہ اپنی  کسی بھی قسم کی ضرورت (علاج، مکان کا کرایہ، کپڑے وغیرہ) میں خرچ کر سکے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم