logo logo
AI Search

زکوٰۃ سے بچنے کا حیلہ کرنے کی شرعی حیثیت؟

زکوۃ سے بچنے کے لیے حیلہ کرنا

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-2081
تاریخ اجراء: 02ربیع الثانی1445 ھ/18اکتوبر2023 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک شخص کے پاس 14 تولہ سونا ہے، اس نے زکوۃ سے بچنے کیلئے 7 تولہ سونا، اپنے چھوٹے بالغ بھائی کو، بتائے بغیر اس کی ملک کردیا، چھوٹا بھائی بہت دور رہتا ہے، اس سے جلد ملاقات نہیں ہوسکتی۔ البتہ پورا 14 تولہ سونا اس چھوٹے بھائی کے گھر میں ہی ہے، لیکن ایسی محفوظ جگہ لاکر میں رکھا ہے، جس کا چھوٹے بھائی کو بھی علم نہیں اور صرف وہ بڑا بھائی ہی اس لاکر کو کھول سکتا ہے۔ اب اس صورت میں دونوں کے پاس 7,7 تولہ سونا کے علاوہ اور کچھ بھی مال نہیں، تو اب زکوۃ سے متعلق کیا حکم ہوگا، نیز کیا اس بڑے بھائی کا زکوۃ سے بچنے کیلئے ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مذکورہ حیلہ کرنا بھی حرام ہے اور صورت مسئولہ میں حیلہ ہوا بھی نہیں۔ تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کا دوسرے کو اپنی چیز کا بغیر عوض مالک بنانا، ہبہ (یعنی گفٹ) کہلاتا ہے اور ہبہ کردہ چیز میں دوسرے کی ملکیت ثابت ہونے کیلئے چند چیزوں کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے، جس کے بغیر اُس چیز میں دوسرے کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ موہوب لہ یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہے، وہ موہوب یعنی ہبہ کردہ چیزکو قبول کرے چاہے یہ قبول کرنا قولاً ہو یا فعلاً۔ قول سے مراد تو یہ کہ کسی لفظ کے ذریعے ہبہ قبول کرے جیسے یوں کہے کہ میں نے اسے قبول کیا یا پھر اپنے فعل کے ذریعے قبول کرے یعنی جب ہبہ کرنے والا اپنی چیز اسے ہبہ کرے تو وہ اسے لےلے۔ جب تک موہوب لہ، اس ہبہ کردہ چیز کوقبول نہیں کرے گا، اس چیز میں اُس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی۔ نیز ہبہ کے مکمل ہونے کیلئے اور اس میں موہوب کی ملکیت ثابت ہونے کیلئے، موہوب لہ کا موہوبہ چیز پر کامل طور پر قبضہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، بغیر قبضہ کے ہبہ تام نہیں ہوتا، اور وہ چیز ہبہ کرنے والے ہی کی ملک رہتی ہے۔

صورت مسئولہ میں جب س بڑے بھائی نے اپنا سات (7) تولہ سونا، اپنے بالغ بھائی کی ملک کیا تو چونکہ اسے بتائے بغیر کیا، جس کی بنا پر اُس کی طرف سے اس ہبہ کو قبول کرنا نہیں پایا گیا۔ اور مزید یہ کہ اُس بڑے بھائی نے اس سونے پر اپنے چھوٹے بھائی کو قبضہ بھی نہ دیا، جس کی وجہ سے یہ ہبہ کسی طرح بھی مکمل نہ ہوا، اور وہ سات (7) تولہ سونا، اُس چھوٹے بھائی کی مِلک نہ ہوا، بلکہ تمام کا تمام سونا، اُس بڑے بھائی ہی کی مِلک رہا، لہذا سال پورا ہونے پر زکوۃ واجب ہونے کی دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں اُس بڑے بھائی پر ہی اُس کی زکوۃ فرض ہوگی، جس کو ادا کرنا اس پر لازم ہوگا۔

زکوۃ سے بچنے کیلئے اپنا سونا یا اموالِ زکوۃ میں سے کوئی مال، دوسرے کی ملک کردینا، شرعاً ناجائز و گناہ ہے،لہذا اُس بڑے بھائی کا زکوۃ سے بچنے کیلئے اس سونے کو چھوٹے بھائی کی ملک کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، اُسے چاہئے کہ اپنے اس ناجائز فعل سے توبہ کرے اور اللہ تعالی کی راہ میں خوش دلی سے اس فرض کو ادا کرے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم