logo logo
AI Search

اللہ ہمیشہ سے ہے "ہمیشہ" بھی وقت ہے تو یہ کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’ہمیشہ ‘‘ بھی ایک وقت ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے کہنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا وہ وقت کی قید سے بھی پاک ہے، اس نے وقت کو بھی بنایا۔ ذہن میں سوال آتا ہے کہ "ہمیشہ" بھی تو ایک وقت ہے۔ ہم کہتے ہیں اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تو اس طرح تو یوں ذہن میں آتا ہے جیسے وہ وقت میں ہے، تو یہ کیا معاملہ ہے ؟

جواب

درحقیقت ’’ہمیشہ‘‘ کا لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ ایک استعمال مخلوق کے لیے ہوتا ہے، جس میں زمانے کی طوالت اور تسلسل کا مفہوم شامل ہوتا ہے، جیسے انسان یا کائنات کے بارے میں کسی طویل مدت کا ذکر کرنا۔ دوسرا استعمال اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے، جس میں زمانے کا مفہوم بالکل بھی مراد نہیں ہوتا، کیونکہ زمانے کا طویل ہونا تو مخلوق کی صفت ہے، خالق کی نہیں، لہذا اللہ عزوجل کیلئے اس لفظ سے صرف ’’عدمِ ابتدا‘‘ اور’’عدمِ انتہا‘‘ مراد ہوتی ہے، یعنی جب ہم خدا کے لیے’’ ہمیشہ سے ہے ‘‘ کا جملہ استعمال کرتے ہیں، تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا وہ ذات ہے کہ جس کی کوئی ابتدا نہیں کہ وہ پہلے نہیں تھا پھر موجود ہوا، بلکہ اس کا نہ تو کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی اختتام۔لہذا’’ہمیشہ‘‘کا لفظ، زمان ووقت کے معنی میں اللہ کریم جل جلالہ کےلئے استعمال نہیں ہوتا۔

در اصل بات یہ ہے کہ الفاظ، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو پوری طرح تعبیر نہیں کرسکتے اور مخلوق اس معاملے میں عاجز ہے، لہذا جب انسان اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ حقیقت بیان کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایسی ذات ہے جس کی کوئی ابتدا ہی نہیں ہے، تو وہ اپنی مجبوری کے تحت الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے ’’ہمیشہ سے ہے‘‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی عقل لا محدود حقیقت کو براہِ راست نہیں سمجھ سکتی، اس لیے لا محدود ذات کے مفہوم کو انسانی فہم کے قریب لانے کے لیے ’’ہمیشہ سے ہے‘‘ جیسے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ تعالیٰ نے ہمیں زمانے میں گھیر دیا ہے، ہم کسی چیز کو بھی بغیر زمانے کے سمجھ نہیں سکتے۔ لہذا زبان اور فہم کی اس مجبوری کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ کے ازلی ہونے پر ہمیشہ کے لفظ سے اعتراض کرنا درست نہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ’’ہمیشہ سے ہے‘‘ کہتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے محدود الفاظ سے ایک لامحدود حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ المعتد المنتقد ہے:

’’أنه قديم، لا أول له - أي لم يسبق وجوده عدم وليس تحت لفظ القديم معنى في حق الله تعالى سوى إثبات وجود، ونفـي عـدم سابق - فـلا تظنن أن القدم معنى زائد على الذات القديمة، فيلزمك أن تقول إن ذلك المعنى أيضا قديم بقدم زائد عليه ويتسلسل إلى غير نهاية - ومعنى القدم في حقه تعالى أي امتناع سبق العدم عليه - هو معنى كونه أزليا، وليس بمعنى تطاول الزمان فإن ذلك وصف للمحدثات كما في قوله تعالى: كَالعُرْجُونَ القَدِيم‘‘

ترجمہ: اللہ تعالیٰ قدیم ہے، اس کا کوئی آغاز نہیں ہے یعنی اس کے وجود پر عدم (نہ ہونا) کبھی نہیں ہوا۔ لفظ "قدیم" کا اللہ تعالیٰ کے حق میں سوائے وجود کے اثبات اور اس سے پہلے عدم کی نفی کے اور کوئی معنی نہیں۔ اس لیے تو یہ نہ سمجھ کہ "قدیم" ذات قدیمہ پر کوئی زائد معنی ہے کہ پھر تجھ پر لازم ہوجائے کہ تو کہے کہ وہ زائد معنی بھی قدیم ہے ایسے قدم کے ساتھ جو اس پر زائد ہے اور یوں یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہونے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے قدیم کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کبھی عدم اس پر غالب نہیں رہا، یہ اس کے ازلی ہونے کا معنی ہے، اور یہ وقت کے طویل ہونے کے معنی میں نہیں کیونکہ وقت کا طویل ہونا مخلوقات کے لیے وصف ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ" ( کھجور کی پرانی شاخ جیسا )۔ (المعتقد المنتقد، صفحہ18، رضا اکیڈمی، بمبئی)

المسامرۃ بشرح المسایرۃ میں ہے:

’’(انہ)أی الباری(تعالی قدیم لا اول لہ: أی لم یسبق وجودہ عدم)وھذا التفسیر القدیم ینبہ علی ان القدم فی حقہ تعالی بمعنی الازلیۃ اللتی ھو کون وجودہ غیر مستفتح، لابمعنی تطاول الزمن فان ذلک من وصف المحدثات، کما فی قولہ تعالی کالعرجون القدیم‘‘

ترجمہ: مفہوم اوپر بیان ہوچکا۔ (المسامرۃ بشرح المسایرۃ، صفحہ22، مطبوعہ مصر)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں، چنانچہ ملفوظات اعلی حضرت میں ہے: ’’ اصل یہ ہے کہ ا تعالیٰ نے ہم کو زمانے اور جہت (یعنی سَمْت)میں گھیر دیا، کسی چیز کو بغیر زمانے کے نہیں سمجھ سکتے۔ ربُّ العزّت زمانے سے پاک ہے مگر بولتے ہیں وہ ازل میں بھی ایسا ہی تھا جیسا اب ہے اور ابد تک ایسا ہی رہے گا۔ ''تھا'' اور ہے اور'' رہے گا'' یہ سب زمانے پر دلالت کرتے ہیں اور وہ زمانے سے پاک‘‘۔

مزید ارشاد فرماتے ہیں: ’’اصل یہ ہے کہ الفاظ اس کے لیے وضع ہی نہیں کیے گئے، الفاظ تو مخلوق نے مخلوق کے لیے بنائے ہیں خدا کو عَالِم، قادِر، مُحی، مُمِیت، رَازِق، متکلِّم، مُؤمن، مُہَیمن، خالِق، باریٌ، مُصوِّر وغیرہا صفات سے موصوف کرتے ہیں اور یہ سب ہیں اسمِ فاعل ا ور اسم فاعل دلالت کرتا ہے حدو ث اور زمانہ حال یا زمانہ مستقبل پر اور وہ حدوث و زمانہ سے پاک ہے۔

’’ قَالَ اللہُ تَعَالٰی: وَ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ‘‘

ترجمہ کنز الایمان: اور باقی ہے تمہارے ربّ کی ذات۔(پ۲۷، الرحمن: ۲۷)اور اس کے سوا صدہا صیغے قرآنِ پاک نے فرمائے ہیں جو ماضی یا حال یا مستقبل سے خالی نہیں اور وہ زمانوں سے منزہ‘‘۔ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ511-517، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر:FAM-1000

تاریخ اجراء:08   رجب المرجب1447ھ/29 دسمبر 2025ء