کیا اللّٰہ پاک فرشتوں سے براہِ راست کلام فرماتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ پاک کا فرشتوں سے بلا واسطہ کلام کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اللہ پاک کا ڈائریکٹ کلام کرنا، کیا انبیائے کِرام علیہم الصلاۃ و السلام کے ساتھ خاص ہے؟ یا فرشتوں سے بھی ڈائریکٹ کلام ثابت ہے؟
جواب
اللہ پاک کا فرشتوں سے ڈائریکٹ کلام کرنا بھی ثابت ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌؕ- كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْؕ- تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْؕ- قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں بےشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لیے۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت 118)
اس آیت کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے
و المعنى هلا يكلمنا اللہ عيانا بانك رسوله كما يكلم الملائكة بلا واسطة او يرسل إلينا ملكا و يكلمنا بواسطة ذلك الملك انك رسوله كما كلم الأنبياء عليهم الصلاة و السلام على هذا الوجه
ترجمہ: معنی یہ ہے کہ (وہ کہتے ہیں) اللہ ہم سے علانیہ کیوں بات نہیں کرتا کہ تم اس کے رسول ہو، جیسے وہ فرشتوں سے بلا واسطہ بات کرتا ہے، یا ہمارے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیتا اور اس فرشتے کے ذریعے ہمیں بتائے کہ تم اس کے رسول ہو، جس طرح اس نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام سے اس طریقے پر کلام کیا۔ (تفسیر روح البیان، ج 1، ص 215، دار الفكر، بيروت)
تفسیر خزائن العرفان میں ہے یعنی بے واسطہ خود کیوں نہیں فرماتا جیسا کہ ملائکہ و انبیاء سے کلام فرماتا ہے یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی، انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء و ملائکہ کے برابر سمجھا۔ (سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ: 118)
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے
وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ۔۔ الخ
ترجمہ کنز الایمان: اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا۔ (پارہ9، سورۃ الاعراف، آیت 143)
اس کے تحت تفسير أبي السعود میں ہے
{و كلمه ربه} من غير واسطة كما يكلم الملائكة عليهم السلام
ترجمہ: ( اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا) بغیر واسطہ جیسے وہ ملائکہ علیھم السلام سے کلام فرماتا ہے۔ (تفسير أبي السعود، ج 1، ص 152، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
تفسیر بیضاوی میں ہے
و كلمه ربه من غير وسيط كما يكلم الملائكة
ترجمہ: اور اس سے اس کے رب نے بغیر واسطہ کلام فرمایا جیسے وہ ملائکہ علیھم السلام سے کلام فرماتا ہے۔ (تفسیر بیضاوی، ج 3، ص 33، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللہَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللہَ قَدْ اَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبَّهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ: إِنَّ اللہَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَ يُوْضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِيْ أَهْلِ الْأَرْضِ
ترجمہ: جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت فرماتا ہے، تو جبریل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اللہ فُلاں شخص سے محبت فرماتا ہے، تم بھی اُس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ پاک فُلاں شخص سے محبت کرتا ہے، تم بھی اُس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس کی مقبولیت زمین والوں میں رکھی جاتی ہے۔ (صحيح البخاری، بابُ كلامِ الرب مع جبريلَ و نِداءِ اللہِ الملائكةَ، صفحہ 1353، حدیث: 7485، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیث پاک کی شرح میں علامہ ابنِ بَطال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
هذا باب كالباب الذى قبله فى إثبات كلام اللہ و إسماعه إياه جبريل و الملائكة
ترجمہ: (بخاری شریف کا) یہ باب پچھلے باب کی طرح اللہ پاک کے حضرت جبریل اور فرشتوں (علیہم الصلاۃ و السلام) سے کلام کرنے اور انہیں اپنا کلام سنانے کے ثبوت میں ہے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال، جلد 10، صفحہ 493، مطبوعہ: الریاض)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4727
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1447ھ / 11 فروری2026ء