logo logo
AI Search

کاش لعنت جائز ہوتی کہنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کاش لعنت جائز ہوتی تو تم پر کرتا، یہ جملہ کہنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ادارے میں پڑھانے والے استادنے بچوں کے سبق یاد نہ کرنے پر ان کو مخاطب کرتے ہوئے یوں کہا کہ: کاش لعنت جائز ہوتی تو میں تم پر لعنت کرتا۔ پوچھنا یہ تھا کہ مسلمان پر تو لعنت کرنا جائز نہیں ہے، تو اس جملے کا کیا شرعی حکم ہے؟ کیا ایسا کہنا کفر تو نہیں ہے؟رہنمائی فرمادیں۔

جواب

قوانینِ شرعیہ کے مطابق کسی ناجائز چیز کے جائز ہونے کی تمنا کرنا، کب کفر ہوتا ہے اور کب کفر نہیں؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ ناجائز چیز کبھی جائز نہ ہوئی ہو، تو اس کے جائز ہونے کی تمنا کرنا کفر ہے اور اگر وہ چیز کبھی نہ کبھی خواہ پہلی کسی شریعت میں جائز ہو، تو اس کے جائز ہونے کی تمنا کرنا کفر نہیں ہے، مثلاً یہ تمنا کرنا کہ کاش زنا جائز ہوتا، کفر ہے، کہ زنا کبھی جائز نہیں ہوا، نہ کسی سابقہ شریعت میں اور نہ ہی دین محمدی میں، لیکن اگر کسی نے یہ تمنا کی کہ کاش رمضان کے روزے فرض نہ ہوتے یا شراب حرام نہ ہوتی، تو یہ اگرچہ غیر مناسب اور فضول جملے ہیں، لیکن کفر نہیں ہیں۔

کسی پر لعنت کرنا بہت سخت کام ہے، کہ اس کا مطلب کسی کو اللہ تعالی کی رحمت سے دھتکار نا، دور کرنا ہوتا ہے، یہی وجہ ہےکہ کسی معین فرد پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، لیکن وہ افراد کہ جن کا کفر پر مرنا ثابت ہوچکا (جیسے فرعون، ابو جہل، ابو لہب وغیرہ) ان پر لعنت کرنا جائز ہے، اسی طرح کسی کو معین کیے بغیر کسی عمومی یا خصوصی وصف کے ساتھ لعنت کرنا بھی جائز ہے، جیسے یہ کہنا کہ کافروں پر اللہ کی لعنت یا ظالموں، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ تو چونکہ لعنت ایسی چیز نہیں ہے کہ جو کبھی جائز نہیں ہوئی، بلکہ اس کے جواز کی کئی صورتیں قرآن و احادیث اور کتبِ سلف الصالحین میں موجود ہیں، لہذا عمومی صورت میں اس کے جواز کی تمنا کرنا کفر نہیں ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں شخصِ مذکور کا جملہ کاش لعنت جائز ہوتی تو میں تم پر لعنت کرتا اگرچہ کفر نہیں ہے، لیکن چونکہ اس طرح کے جملے مسلمان کی دل آزاری کا سبب بن سکتے ہیں اور مسلمان کی دل آزاری ناجائز و گناہ ہے، نیز کسی ادارے کا استاد اگر اس طرح کے جملے بولے گا تو اس کے شاگردوں پر اس کا اچھا اثر نہیں ہوگا، لہذا بحیثیتِ مسلمان ہمیں ہمارا دین اس قسم کے فضول اور لغو جملوں سے بچنے کی ہی تلقین کرتا ہے۔

عمدۃ المتکلمین، علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

لو تمنی ان لا يكون الخمر حرام او لا يكون صوم رمضان فرضا لما يشق عليه لا يكفر بخلاف ما اذا تمنی ان لا یحرم الزنا و قتل النفس بغیر حق فانہ یکفر

ترجمہ: اگر کوئی شخص یہ خواہش کرے کہ کاش شراب حرام نہ ہوتی یا رمضان کے روزے فرض نہ ہوتے، کہ یہ اس پر مشکل ہیں، تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وہ یہ خواہش کرے کہ کاش زنا حرام نہ ہوتا یا ناحق کسی کا قتل حرام نہ ہوتا، تو وہ کافر ہو جائے گا۔ (شرح العقائد النسفیۃ، صفحہ 351،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

شرح عقائد کی ذکر کردہ عبارت کے تحت علامہ عبد العزیز پرہارویرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

و القاعدۃ: أن کل ما کان حراماً فی شرائع جمیع الأنبیاء فتمنی حلہ کفر وما کا ن حلالاً ثم حرم فتمنی حلہ لیس بکفر

ترجمہ: قاعدہ یہ ہے کہ جو کام تمام انبیاء کرام کی شریعتوں میں حرام تھا اس کے حلال ہونے کی تمنا کفر ہے اور جو کبھی حلال تھا پھر حرام ہوا اس کے حلال ہونے کی تمنا کفر نہیں۔ (النبراس، صفحہ 339، مطبوعہ ملتان)

اسی طرح امام ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الضابط أن ما كان حلالاً في زمان فتمنى حله لا يكفر

ترجمہ: قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز کسی زمانے میں حلال ہو، اس کے حلال ہونے کی تمنا کرنا کفر نہیں ہے۔ (الاعلام بقواطع الاسلام، صفحہ 125،دار التقوى، سوريا)

لعنت بہت سخت چیز ہے، چنانچہ حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی شافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 505ھ / 1111ء) لعنت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

و اللعن عبارة عن الطرد والإبعاد من اللہ تعالى و ذلك غير جائز إلا على من اتصف بصفة تبعده من اللہ عز وجل و هو الكفر و الظلم بأن يقول لعنة اللہ على الظالمين و على الكافرين

ترجمہ: لعنت کا مطلب ہےاللہ تعالی (کی رحمت) سے دھتکار نا اور دور کرنا اور یہ صرف اس شخص پر جا ئز ہے جس کے اندر کوئی ایسی صفت پائی جائے جو اسے اللہ تعالی سے دور کرنے والی ہواور وہ صِفَت کُفر اور ظلم ہے، گویا لعنت کرنے والا یوں کہے کہ ظالموں اور کافروں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔ (احیاء علوم الدین، جلد 03، صفحہ 123، دار المعرفة، بیروت)

وہ افراد جن کا کفر پر مرنا ثابت ہوچکا ان پر لعنت کرسکتے ہیں، یونہی بغیر کسی کی تعیین کے کسی وصف کے ساتھ بھی لعنت کرسکتے ہیں، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

ھی لاتکون الا لکافر،ولذا لم تجزعلی معین لم یعلم موتہ علی الکفربدلیل و ان کان فاسقا متھورا کیزید علی المعتمد،بخلاف نحو ابلیس و ابی لھب و ابی جھل فیجوز، و بخلاف غیر المعین کالظالمین و الکاذبین فیجوز ایضا

ترجمہ: (لعنت) کافر کو ہی کی جا سکتی ہے،اور اسی وجہ سے کسی معین پر کہ جس کی موت کفر پر ہو نا کسی دلیل سے معلوم نہ ہو جا ئز نہیں اگر چہ وہ فاسق وفاجر ہوجیسے کہ یزید معتمد قول کے مطابق، بخلاف ابلیس، ابو جہل اور ابو لہب کے کہ ان پر لعنت کر نا، جائز ہے، اور بخلاف غیر معین کے یعنی غیر معین جیسے ظالموں، جھوٹوں پر لعنت کرنا بھی جائز ہے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 03، صفحہ 416،دار الفکر، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: لعنت بہت سخت چیزہے ہرمسلمان کو اس سے بچایاجائے بلکہ لعین کافرپر بھی لعنت جائزنہیں جب تک اس کا کفرپر مرناقرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 222، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ فضول اور لغو جملوں سے بچے اور زبان سے وہی کلمات بولے جن کی شریعت مطہرہ نے اجازت دی ہے، چنانچہ فلاح پانے والے مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ (پارہ18، سورۃ المؤمنون، آیت 03)

مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:  فلاح پانے والے مومنوں کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ ہر لَہْوو باطل سے بچے رہتے ہیں۔۔۔ یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولَغْویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ (صراط الجنان، جلد 06، صفحہ 493،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

کسی پر لعنت کرنے کے معاملے میں کیسی احتیاط ہونی چاہیے، اس حوالے سے احیاء العلوم میں لکھا ہے:

و ينبغي أن يتبع فيه لفظ الشرع فإن في اللعنة خطرا لأنه حكم على اللہ عز و جل بأنه قد أبعد الملعون وذلك غيب لا يطلع عليه غير اللہ تعالى ويطلع عليه رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم إذا أطلعه اللہ عليه

ترجمہ: اور مناسب یہی ہے کہ اس سلسلے میں شریعت کے بیان کردہ الفاظ کی پیروی کی جائے، کیونکہ لعنت میں خطرہ ہے، کہ اس میں اللہ تعالی پر اس بات کا حکم لگا نا ہے کہ اس نے ملعون کو (اپنی رحمت سے) دور کردیا ہے، حالانکہ یہ معاملہ تو غیب کا ہے جس پر اللہ تعالی یاپھراس کے بتائے سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مطلع ہوسکتے ہیں۔ (احیاء علوم الدین، جلد 03، صفحہ 123، دار المعرفة، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0168
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاخری 1447ھ / 05 دسمبر 2025ء