کیا اللّٰہ تعالیٰ کی صفات لا محدود ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ تعالیٰ کی صفات لا محدود ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یہ درست ہے کہ الله کی صفات کی تعداد کی کوئی حد نہیں؟
جواب
صفاتِ الہٰی لامحدود ہیں، اللہ پاک کی صفات کے متعلق اس کے بتائے بغیر کوئی نہیں جان سکتا اور وہ جسے جتنا بتائے اسے اتنا ہی معلوم ہوگا۔ اس نے مخلوق میں سب سے زیادہ علم اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو دیا ہے مگر اس کی کئی صفات ایسی ہیں جن پر وہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو بھی قیامت کے دن مطلع فرمائے گا جیسا کہ بخاری و مسلم کی احادیث سے ثابت ہے۔
خیال رہے کہ بعض صفات الہٰی پر مطلع نہ ہونا اس لئے ہے کہ خالق کی تمام صفات کا احاطہ مخلوق سے نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علمِ غیب کی نفی نہیں ہوسکتی۔
مشکوٰۃ المصابیح میں بحوالہ بخاری و مسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم في بعض فيأتون آدم فيقولون: اشفع لنا إلى ربك فيقول: لست لها و لكن عليكم بإبراهيم فإنه خليل الرحمن فيأتون إبراهيم فيقول لست لها و لكن عليكم بموسى فإنه كليم اللہ فيأتون موسى فيقول لست لها و لكن عليكم بعيسى فإنه روح اللہ و كلمته فيأتون عيسى فيقول لست لها و لكن عليكم بمحمد فيأتوني فأقول أنا لها فأستأذن على ربي فيؤذن لي و يلهمني محامد أحمده بها لا تحضرني الآن فأحمده بتلك المحامد و أخر له ساجدا فيقال يا محمد ارفع رأسك و قل تسمع و سل تعطه و اشفع تشفع
یعنی جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ بعض بعض میں مخلوط ہوجائیں گے پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے وہ فرمائیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم حضرت ابراہیم کا دامن پکڑو وہ اللہ کے خلیل ہیں تو وہ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم جناب موسیٰ کو پکڑو وہ اللہ کے کلیم ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے اس کے لیے میں نہیں لیکن تم حضرت عیسیٰ کو پکڑو کہ وہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں تو لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے اس کے لیے میں نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کرو تو وہ میرے پاس آئیں گے میں فرماؤں گا: ہاں! میں اس کے لیے ہوں، پھر میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا مجھے اجازت ملے گی اور ایسی حمدیں مجھے الہام کرے گا جو ابھی میرے علم میں حاضر نہیں میں ان حمدوں سے حمد کروں گا، تو ارشاد ہوگا: اے محمد! اپنے سر کو اٹھائیے اوربات کہئے سنی جائے گی، سوال کیجئے عطا ہوگا اور شفاعت کیجئے ،قبول ہوگی۔ (مشکوۃ المصابیح، حدیث 5573، جلد 9، صفحہ 522، مطبوعہ: بیروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے الفاظ اور ایسی حمدیں مجھے الہام کرے گا جو ابھی میرے علم میں حاضر نہیں کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی وہ صفات جن سے میں اس سجدے میں اللہ کی حمد کروں گا وہ مجھے ابھی نہیں بتائے گئے اس وقت ہی بتائے جائیں گے۔ خیال رہے کہ ہم بذات خود رب تعالیٰ کی حمد نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم کو حضور نہ سکھائیں،ہماری حمد حضور کے سکھانے سے ہے اور حضور کی حمد رب تعالیٰ کے سکھانے سے اور رب کی جیسی حمد حضور انور نے کی ہے اور کریں گے مخلوق میں کسی نے ایسی حمد نہ کی اسی لیے آپ کا نام احمد ہے۔ اس سجدہ میں حضورِ انور رب کی بے مثال حمد کریں گے اور مقامِ محمود پر رب تعالیٰ حضورِ انور کی ایسی حمد کرے گا جو کوئی نہ کرسکا ہوگا اس لیے حضور انور کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ و سلم۔ خیال رہے کہ حضورِ انور کا علم واقعات کو گھیرے ہوئے ہے کہ ہر واقعہ حضور کے علم میں ہے مگر اللہ تعالیٰ کے اوصاف کوئی نہیں گھیر سکتا کہ اس کے اوصاف غیر محدود ہیں لہٰذا یہ واقعہ حضور کے علم غیب کلی کے خلاف نہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج 7، ص 327، مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2372
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر1447ھ / 02 اگست2025ء