logo logo
AI Search

مزار پر سجدہ تعظیمی کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مزار پر تعظیم کی نیت سے سجدہ کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مزار پر تعظیم کی نیت سے سجدہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب

ہماری شریعت میں اللہ پاک کے علاوہ کسی کو بھی (خواہ وہ مزار ہو یا انسان وغیرہ) سجدۂ تعظیمی کرنا سخت ناجائز و حرام ہے، اور ایسا کرنے والا سخت گناہ گار اور عذاب نار کا حق دار ہے، لیکن فقط تعظیم کی نیت سے سجدہ کرنا کفر نہیں ہے، ہاں! عبادت کی نیت سے ہو، تو کفر ہے۔

تفسیر مظہری و تفسیر در منثور وغیرہ میں ہے

أن رجلا قال: يا رسول اللہ نسلم عليك كما يسلم بعضنا على بعض أفلا نسجد لك قال: لا و لكن أكرموا نبيكم و اعرفوا الحق لأهله فانه لا ينبغي أن يسجد لأحد من دون اللہ

ترجمہ: ایک صحابی نے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم! ہم آپ کو بھی ایسا ہی سلام کرتے ہیں، جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔ کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں، بلکہ اپنے نبی کی تعظیم کرو اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو، پس بے شک اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ (الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، جلد 2، صفحہ 250، مطبوعہ: بیروت)

مشکاۃ المصابیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشادفرمایا:

لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها

ترجمہ: اگر میں کسی کو کسی (مخلوق) کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح، جلد 2، صفحہ 972، حدیث: 3255، المکتب الاسلامی، بیروت)

اس حدیث پاک کے تحت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری تحریر فرماتے ہیں:

إن السجدة لا تحل لغير اللہ

ترجمہ: غیر اللہ کے لئے سجدہ حلال نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النکاح، جلد 5، صفحہ 2125، مطبوعہ: بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے

من سجد للسلطان على وجه التحية أو قبل الأرض بين يديه لا يكفر و لكن يأثم لارتكابه الكبيرة هو المختار۔ قال الفقيه أبو جعفر- رحمه اللہ تعالى – و إن سجد للسلطان بنية العبادة۔۔۔ فقد كفر

ترجمہ: جس نے کسی حاکم کو بطور تعظیم سجدہ کیا یا اس کے سامنے زمین چومی وہ کافر نہ ہوگا ہاں گناہ گار ضرور ہے کیونکہ اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ یہی مختار ہے۔ امام ابو جعفر علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اگر حاکم کو سجدہ بطور عبادت کیا تو کافر ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، جلد 5، صفحہ 368، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: مزارات کو سجدہ یا اُن کے سامنے زمین چومنا حرام اور حد رکوع تک جھکنا ممنوع۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 474، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 473، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4736
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم 1447ھ / 13 فروری 2026ء