کیا اللّٰہ تعالیٰ کو سائنسدان کہنا درست ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ تعالی کوسائنٹسٹ کہنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ اللہ تعالیٰ کو Scientist کہنا کیسا ہے؟
جواب
سائنس درحقیقت اس علم کا نام ہے جو مشاہدہ، تجربہ اور تحقیق کے ذریعے کائنات کے مخفی حقائق اور قوانین کو دریافت کرتا ہے اور اس علم کے حامل یا تجربات کی بنیاد پر کوئی نظریہ پیش کرنے والے شخص کو سائنسدان (Scientist) کہا جاتا ہے۔ سائنسی علوم اپنی ماہیت میں حادث ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا حصول پہلے سے موجود جہل یا عدمِ علم کے بعد مشاہدے اور تجربے کے مرہونِ منت ہوتا ہے، اور حدوث (کسی چیز کاعدم سے وجود میں آنا) بذاتِ خود ایک نقص ہے۔ اس کے برعکس اللہ رب العزت کی صفتِ علم ازلی اور ابدی ہے، وہ کائنات کی ہر شے کا ہمیشہ سے علم رکھنے والا ہے۔ باری تعالیٰ کا علم کسی نئی تحقیق، مشاہدہ یا تجربہ کا محتاج نہیں اور نہ ہی کائنات کے تغیر و تبدل سے اس کے علمِ کامل میں کوئی فرق واقع ہوتا ہے۔
چونکہ لفظ سائنٹسٹ(Scientist) میں حادث، تدریجی اور اکتسابی علم کا مفہوم پایا جاتا ہے جو کہ سراسر نقص ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شانِ کمال کے قطعی منافی ہے، اور اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے لیے ایسے کسی لفظ یا وصف کا اطلاق ہرگز جائز نہیں جو کسی دلیل نقلی سے ثابت نہیں اور جس میں ادنیٰ درجے کا نقص یا نقص کا وہم پایا جاتا ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کو Scientist کہنا شرعاً ناجائز وگناہ ہے۔
اس کی واضح نظیریں اللہ تعالیٰ کے لیے عارف، عاقل، فطین اور ذکی جیسے الفاظ کے اطلاق کی ممانعت ہے؛ حالانکہ لغوی اعتبار سے ان میں علم کا پہلو موجود ہے، لیکن چونکہ ان میں حدوث یا کسی سابقہ جہل کے بعد علم حاصل ہونے کا شائبہ موجود ہے، اس لیے ان کا اطلاق ذاتِ باری تعالیٰ پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ دلائل درج ذیل ہیں:
کیمبرج ڈکشنری میں سائنس کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی:
Knowledge (gained) from the careful study of the structure and behavior of the physical world, especially by watching, measurement and doing experimentation, and the development of theories to describe the results of these activities.
ترجمہ:مادی دنیا کی ساخت اور اس کے رویے کے محتاط مطالعے سے حاصل ہونے والا علم، جو خاص طور پر مشاہدے، پیمائش اور تجربات کرنے، اور ان سرگرمیوں کے نتائج کی وضاحت کے لیے نظریات وضع کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
اور آکسفورڈ ڈکشنری میں سائنٹسٹ کی تعریف یوں بیان کی:
A person who studies or is an expert in one or more of the natural sciences for example, physics, chemistry or biology.
ترجمہ:ایسا شخص جو ایک یا ایک سے زیادہ قدرتی سائنسی علوم: مثلاً فزکس، کیمسٹری یا بائیولوجی کا مطالعہ کرتا ہو یا ان کا ماہر ہو۔ سائنس کی تعریف سے واضح ہو گیا کہ یہ مادیات کے مطالعے، مشاہدے و تجربات سے بتدریج حاصل ہونے والا حادث علم ہے اور اس طرح کے علم کے حاملین کو سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا علم ازلی و ابدی ہے، وہ ہمیشہ سے ہر شے کا جاننے والا ہے، اس کا علم تدریجی و حادث نہیں جو مشاہدہ و تجربہ سے حاصل ہو، لہٰذا اس کے لیے ایسا علم محال ہے، چنانچہ علامہ علی قاری لکھتے ہیں:
(و العلم) أي:من الصفات الذاتیۃ، و ھي صفۃ أزلیۃ تنکشف المعلومات عند تعلقھا بھا، فاللہ تعالی عالم بجمیع الموجودات لا یعزب عن علمہ مثقال ذرۃ في العلویات و السفلیات، و أنّہ تعالی یعلم الجھر و السرّ و ما یکون أخفی منہ من المغیبات، بل أحاط بکلّ شیء علماً من الجزئیات و الکلیات و الموجودات و المعدومات و الممکنات و المستحیلات، فہو بکل شيء علیم من الذوات و الصفات بعلم قدیم لم یزل موصوفا بہ علی وجہ الکمال، لا بعلم حادث حاصل في ذاتہ بالقبول و الانفعال و التغیر و الانتقال
ترجمہ: (اور علم) یعنی: یہ صفاتِ ذاتیہ میں سے ہے، اور وہ ایک ایسی صفتِ ازلی ہے کہ جب معلومات کا اس کے ساتھ تعلق ہوتا ہے تو وہ منکشف ہو جاتی ہیں، پس اللہ تعالیٰ تمام موجودات کا عالم ہے، اس کے علم سے عالمِ علویات و سفلیات کی ایک ذرہ برابر چیز بھی اوجھل نہیں ہے، وہ بلند آواز، پوشیدہ بات اور اس سے بھی زیادہ چھپی ہوئی غیبی اشیاء کو جانتا ہے، بلکہ اس نے جزئیات، کلیات، موجودات، معدومات، ممکنات اور مستحیلات (ناممکنات) غرض ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس وہ اپنی قدیم صفتِ علم کے ساتھ تمام اشیاء کو جاننے والا ہے چاہے وہ ذوات ہوں یا صفات، وہ ہمیشہ سے اس صفت کے ساتھ کمال کے درجے میں موصوف ہے، اس کا علم کوئی حادث (عدم سے وجود میں آنے والا) علم نہیں ہے جو اس کی ذات میں قبولیت، اثر پذیری، تبدیلی یا انتقال سے حاصل ہوا ہو۔ (منح الروض الازھر شرح فقہ الاکبر، ص 16، مطبوعہ کراچی)
نیز اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علم ثابت ہے اور علم کے وہ معانی، اسباب و ذرائع جو مخلوق میں ہوتے ہیں، ان سے اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔امام غزالی رحمہ اللہ الاقتصاد فی الاعتقاد میں لکھتے ہیں:
إن المحققين من أهل الحق صرحوا بإثبات أنواع الإدراكات مع السمع و البصر و العلم الذي هو كمال في الإدراك دون الأسباب التي هي مقترنة بها في العادة من المماسة و الملاقاة، فإن ذلك محال على اللہ تعالى. كما جوزوا ادراك البصر من غير مقابلة بينه و بين المبصر
ترجمہ: اہل حق محققین نے سماعت، بصارت اور اس علم کے ساتھ (جو ادراک میں کمال ہے) دیگر اقسام کے ادراکات کے ثبوت کی بھی صراحت کی ہے، لیکن ان اسباب کے بغیر جو عام طور پر ان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جیسے کہ چھونا یا آمنا سامنا ہونا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر محال ہے۔ جیسا کہ انہوں نے دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے درمیان تقابل (آمنے سامنے ہونے) کے بغیر بھی بصری ادراک کو جائز قرار دیا ہے۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد، ص 60، 67، دار الكتب العلمية)
اور جب لفظScientist میں حدوث و نقص کا پہلو موجود ہے تو بالاجماع اس کا اطلاق (اللہ تعالیٰ کی ذات پر) جائز نہیں۔ اس لیے کہ ایسا لفظ جس کا اذن و منع کچھ بھی شرع (سمعیات، نقلی دلائل) میں وارد نہ ہو لیکن اس میں کسی نقص کا پہلو ہو تو اس کا اطلاق اللہ تعالٰی کے لیے جائز نہیں، چنانچہ علامہ سعد الدین تفتازانی شرح المقاصد میں لکھتے ہیں:
أسماء اللہ تعالٰی توقیفیۃ خلافا للمعتزلۃ و القاضی مطلقا و الغزالی فی الصفات و توقف امام الحرمین . ومحل النزاع ما اتصف الباری بمعناہ ولم یرد اذن ولا منع بہ ولا بمرادفہ و کان مشعرا باجلال من غیر و ھم اخلال
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں، برخلاف معتزلہ کے، قاضی (ابوبکر الباقلانی) کے جو کہ مطلقاً (جواز کے قائل) ہیں، اور امام غزالی کے جو صفات میں (جواز کے قائل) ہیں، اور امام الحرمین (علامہ جوینی) نے اس معاملے میں توقف کیا ہے۔ اختلاف کا محل وہ (لفظ) ہے جس کے معنی کے ساتھ باری تعالیٰ متصف ہو، اور اس کے بارے میں (شریعت سے) نہ تو اجازت وارد ہوئی ہو اور نہ ہی ممانعت، اور نہ ہی اس کے ہم معنی کسی لفظ کی (اجازت یا ممانعت ہو)، اور وہ لفظ بغیر کسی نقص کے وہم کے اللہ تعالیٰ کی بزرگی و جلالت پر دلالت کرتا ہو۔ پھر اللہ تعالٰی کےلیے عارف، عاقل، فطن، ذکی وغیرہ الفاظ بولنے کے عدمِ جواز کے متعلق لکھتے ہیں:
فان قیل: فلم لا یجوز مثل العارف و العاقل و الفطن و الذکی و ما أشبہ ذلک؟ قلنا: لما فیہ من الایھام لشھرۃ استعمالہ مع خصوصیۃ تمنع فی حق الباری تعالٰی فان المعرفۃ قد تشعر سبق العدم، و العقل بما یعقل العالم أی یحسبہ و یمنعہ، و الفطنۃ و الذکاء بسرعۃ ادراک ما غاب، و کذا جمیع الالفاظ الدالۃ علی الادراک حتی قالوا ان الدرایۃ تشعر بضرب من الحیلۃ و ھو اعجال الفکر و الرویۃ، و ما فیہ ایھام لا یجوز بدون الاذن وفاقا
ترجمہ: تو اگر یہ کہا جائے کہ: (اللہ تعالیٰ کے لیے) عارف، عاقل، فطن (سمجھدار) اور ذکی(ذہین) جیسے الفاظ کا استعمال کیوں جائز نہیں؟ تو ہم کہیں گے: اس لیے کہ ان الفاظ میں (نقص کے) ایہام (کا پہلو) ہے، کیونکہ ان کا استعمال ایسی خصوصیات کے ساتھ مشہور ہے جو باری تعالیٰ کے حق میں ممنوع ہیں۔ چنانچہ لفظ معرفت کبھی سابقہ جہل کے بعد حاصل ہونے والے علم کا شعور دیتا ہے، اور عقل اس چیز کا نام ہے جو عالم کو روک دے ، اور فطانت و ذکاوت غائب اشیاء (یعنی معلومات سے بطورِ استدلال مجہولات )کے ادراک میں تیزی کو کہتے ہیں۔ اسی طرح ادراک پر دلالت کرنے والے تمام الفاظ (اللہ کے لیے ممنوع ہیں)، یہاں تک کہ علماء نے فرمایا کہ لفظ درایت میں ایک قسم کے حیلے کا شعور پایا جاتا ہے اور وہ ہے غور وفکر میں جلدی کرنا اور جس لفظ میں ایہام (نقص کا وہم) ہو، وہ (شرعی) اجازت کے بغیر بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ (شرح المقاصد، ج 3، ص 256 تا 258، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور)
لہٰذا موہمِ نقص غیرمنصوص لفظ کا اطلاق جب بالاجماع ناجائز ہے تو ایسے کسی لفظ کا استعمال کرنے والا گنہگار ہوگا، چنانچہ علامہ فضل رسول بدایونی المعتقد میں لکھتے ہیں:
و اسم الجسم نقیصۃ من حیث اقتضائہ الافتقار وھو أعظم مقتض للحدوث، فلم یوجد أحد من الشرطین اللذین اعتبرھماالقائلون بالاشتقاق، وفقدان التوقیف ظاھر، فمن أطلقہ و ھو عاص بذالک الاطلاق
ترجمہ: اور جسم کا لفظ بذاتِ خود نقص ہے، اس لیے کہ وہ محتاج ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اور یہی حدوث کا سب سے بڑا مقتضی ہے، چنانچہ یہاں ان دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں جنہیں اشتقاق کے قائلین نے معتبر قرار دیا ہے، اور توقیف کا نہ ہونا تو بالکل ظاہر ہے، لہٰذا جو شخص اس نام کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق کرے وہ اس اطلاق کے سبب گنہگار ہے۔ (المعتقد المنتقد مع المعتمد المستند، ص 132، دار اھل السنۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0708
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1447ھ / 16 جنوری 2026ء