logo logo
AI Search

اللّٰہ کیلئے ید اور وجہ کا عقیدہ رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہونے والے ید اور وجہ کے الفاظ کی وضاحت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قرآن پاک میں جو اللہ عزوجل کیلئے ید، وجہ کے الفاظ ہیں۔ سنا ہے کہ ان آیات سے متعلق دو طرح کے فرقے ہیں، ایک تو ان صفات کی تاویل کرتے ہیں، جبکہ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم ان الفاظ کو بلا تاویل مانتے ہیں یعنی ید کو ہاتھ ہی مانتے ہیں، مگر یہ نہیں کہتے کہ وہ کیسا ہے، بلکہ کہتے ہیں کہ کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیا ایسا کہنا درست ہے؟ کیا وہ اہلِ سنت میں شمار ہوں گے؟

جواب

جن آیات میں وجہ اور ید کے الفاظ کا ذکر ہے، وہ آیاتِ متشابھات ہیں۔ آیاتِ متشابھات کے بارے میں اہل سنت کے دو مسلک ہیں۔ ایک جمہور ائمہ سلف کا مسلک ہے اور دوسرا ائمہ متاخرین کا مسلک ہے۔ اس کی مکمل تفصیل نیچے موجود ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ- فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﳕ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ- كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ- وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(7)

ترجمہ کنزالعرفان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔ (القرآن، پارہ 3، سورۃ آل عمران: 7)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: قرآن پاک میں دو طرح کی آیات ہیں: (1) مُحْکَمْ، یعنی جن کے معانی میں کوئی اِشْتِبَاہ نہیں بلکہ قرآن سمجھنے کی اَہلیت رکھنے والے کو آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں۔ (2) مُتَشَابِہْ، یعنی وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ یا تو سمجھ ہی نہیں آتے جیسے حروفِ مقطعات، یعنی بعض سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف جیسے سورۂ بقرہ کے شروع میں الٓمّٓ ہے اور یا متشابہ وہ ہے جس کے ظاہری معنیٰ سمجھ تو آتےہیں لیکن وہ مراد نہیں ہوتے جیسے اللہ تعالیٰ کے یَدْ یعنی ہاتھ اور وَجْہٌ یعنی چہرے والی آیات۔ ان کے ظاہری معنیٰ معلوم تو ہیں لیکن یہ مراد نہیں، جبکہ ان کے حقیقی مرادی معنیٰ میں کئی احتمال ہوسکتے ہیں اور ان میں سے کون سا معنیٰ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے یا وہ جسے اللہ تعالیٰ اس کاعلم دے (اس کے بعد) ۔۔۔ دو گروہوں کا تذکرہ ہے ۔ پہلا گروہ گمراہ اور بدمذہب لوگوں کا ہے جو اپنی خواہشاتِ نفسانی کے پابند ہیں اور متشابہ آیات کے ظاہری معنٰی لیتے ہیں جو کہ صریح گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہوتا ہے یا ایسے لوگ متشابہ آیات کی غلط تاویل کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ سچے مومنوں کا ہے جو متشابہ آیات کے معانی کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محکم و متشابہ سارے کا سارا قرآن ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو معنی متشابہ کی مراد ہیں وہ حق ہیں اوراس کا نازل فرمانا حکمت ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 502،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ جلد 29 میں رسالے بنام قوارع القھار علی المجسمۃ الفجار میں ارشاد فرماتے ہیں: (آیات متشابہات میں) ہدایت والے دوروش ہوگئے۔ اکثر نے فرمایا جب یہ ظاہری معنی قطعاً مقصود نہیں اور تاویلی مطلب متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیں، یہی بہتر کہ اس کا علم اللہ پر چھوڑیں ہمیں ہمارے رب نے آیاتِ متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا اور ان کی تعیین مراد میں خوض کرنے کو گمراہی بتایا تو ہم حد سے باہر کیوں قدم دھریں، اسی قرآن کے بتائے حصے پر قناعت کریں کہ امنا بہ کل من عند ربنا۔ جو کچھ ہمارے مولٰی کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے محکم متشابہ سب ہمارے رب کے پاس سے ہے، یہ مذہب جمہورائمہ سلف کا ہے اور یہی اسلم واولٰی ہے اسے مسلک تفویض و تسلیم کہتے ہیں۔۔۔اور بعض نے خیال کیا کہ جب اللہ عزوجل نے محکم متشابہ دو قسمیں فرما کر محکمات کو ھنّ ام الکتب فرمایا کہ وہ کتاب کی جڑ ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیہ کریمہ نے تاویل متشا بہات کی راہ خود بتادی اور ان کی ٹھیک معیار ہمیں سجھادی کہ ان میں وہ درست وپاکیز ہ احتمالات پیدا کرو جن سے یہ اپنی اصل یعنی محکمات کے مطابق آجائیں اور فتنہ و ضلال و باطل و محال راہ نہ پائیں۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کرسکتے کہ اللہ عزوجل کی یہی مراد ہے مگر جب معنی صاف و پاکیزہ ہیں اور مخالفت محکمات سے بری و منزہ ہیں اور محاورات عرب کے لحاظ سے بن بھی سکتے ہیں تو احتمالی طور پر بیان کرنے میں کیا حرج ہے اور اس میں نفع یہ ہے کہ بعض عوام کی طبائع صرف اتنی بات پر مشکل سے قناعت کریں کہ انکے معنی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور جب انہیں روکا جائے گا تو خواہ مخواہ ان میں فکر کی اور حرص بڑھے گی۔ اور جب فکر کریں گے فتنے میں پڑیں گے گمراہی میں گریں گے، تو یہی انسب ہے کہ ان کی افکار ایک مناسب و ملائم معنی کی طرف کہ محکمات سے مطابق محاورات سے موافق ہوں پھیردی جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں یہ مسلک بہت علمائے متاخرین کا ہے کہ نظر بحال عوام اسے اختیار کیا ہے اسے مسلک تاویل کہتے ہیں۔ ملتقطاً (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 123 - 124، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: اہلسنت کے دو مسلک آیاتِ متشابہات میں ہیں: سلف صالح کا مسلک تفویض کا ، ہم نہ ان کے معنی جانیں نہ ان سے بحث کریں جو کچھ ان کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہے، وہ قطعاً مراد نہیں اور جو کچھ ان کے رب عزوجل کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔امنّا بہ کل من عند ربنا۔ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ دوسرا مسلک متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 117، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1105
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک 1447ھ / 19 فروری 2026ء