logo logo
AI Search

شریعت کی توہین کرنے کا حکم - شریعت کو گولی مارو کہنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شریعت مطہرہ کی توہین کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے شوہر سے کسی کی بحث ہوئی، تو مخاطب نے کہا: "یہ شریعت کی بات ہے" اس پر میرے شوہر نے کہا: "شریعت کو گولی مارو "(نعوذ بالله)، اب میں بہت پریشانی میں ہوں، برائے مہربانی آپ رہنمائی فرمائیں؟

جواب

مذکورہ جملے میں شریعت مطہرہ کی سخت توہین ہے، اور شریعت مطہرہ کی ادنی توہین یقینا قطعا کفر و ارتداد ہے، جس وجہ سے ایسا کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا، اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ہے، لہذا ایسا کہنے والے پر فرض ہے، کہ وہ فوراً توبہ و استغفار، اور تجدید ایمان کرے، اور اگر سابقہ بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تواس کی رضامندی کے ساتھ، نئے مہرکے ساتھ، اس سے دوبارہ نکاح  کرے۔

فتاوی رضویہ میں ہے: ”مطلقًا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا، یا شریعت مطہرہ کی ادنٰی توہین کرنا، یہ تو یقینا قطعًا کفرو ارتداد ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 570، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ ہندہ نے غصے میں آکر کہا: ''چُولہے میں جائے ایسی شریعت'' یا ''مَری پڑے ایسی شریعت پر'' کیا فقرہ مذکورہ بالا سے ہندہ مرتد ہوگئی اور اسلام سے خارج ہوئی، ملخصا؟

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: "ہندہ نے پہلا فقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، ہر طرح اس کا ایمان جاتا رہا کہ اس نے شرع مطہر کی توہین کی۔"                       (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 262، 263، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4765
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک1447ھ/23 فروری 2026ء