رب آپ بنا کے لٹیا گیا شعر پڑھنا درست نہیں ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رب آپ بنا کے لٹیا گیا شعر پڑھنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ یہ شعر تصویر محمد عربی دی، رب آپ بنا کے لٹیا گیا درست ہے یا نہیں؟
جواب
مذکور خبیث و ناپاک شعر کا یہ جملہ رب آپ بنا کے لٹیا گیا معنی کے اعتبار سے کفریہ ہے، لہذا اس کو پڑھنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ لغات میں لٹیا جانا، لٹنا، لٹ جانا کے کئی معانی بیان کئے گئے ہیں، مثلاًنقصان ہونا، دھوکا کھانا، ٹھگیا جانا، گھاٹاکھانا، کچھ باقی نہ رہناوغیرہ اور یہ معانی عجز، عیب اور نقص پردلالت کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالی کی ذات ہر کمال و خوبی کی جامع اور ہر قسم کے عجز، عیب اور نقص سے پاک و منزہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے لفظ کی نسبت کرنا جوعجز اور نقص و عیب پر دلالت کرے، کفر ہے۔
اللہ تعالی کی ذات وصفات کی طرف نقص وعیب کی نسبت کرنا کفر ہے۔ چنانچہ المعتقد المنتقد میں ہے:
ان ساب اللہ تعالی بنسبۃ الکذب و العجز و نحو ذلک الیہ، کافر
ترجمہ: اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرنے والا بایں طور کہ اس کی طرف کذب اور عجز وغیرہ کی نسبت کرے، وہ کافر ہے۔ (المعتقد المنتقد مع المستند المعتمد، صفحہ 99، نوریہ رضویہ، لاھور)
اسی طرح مجمع الانہر، بحر الرئق اور فتاوی ہندیہ میں ہے:
يكفر إذا وصف اللہ تعالى بما لا يليق به أو سخر باسم من أسمائه أو بأمر من أوامره أو نكر وعده و وعيده أو جعل له شريكا أو ولدا أو زوجة أو نسبه إلى الجهل أو العجز أو النقص
ترجمہ: اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو ایسی صفت سے موصوف کرے جو اس کی شان کے لائق نہیں یا اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کا یا اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اڑائے یا اس کے وعدے اور وعید کا انکار کرے یا اللہ تعالیٰ کے لیے شریک یا اولاد یا بیوی ثابت کرے یا اللہ تعالیٰ کی طرف جہل، عجز یا کسی قسم کے نقص کی نسبت کرے، تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ (الفتاوى الهندية، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان و الإسلام، ج 2، ص 258، الناشر: مصر)
یونہی کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب میں ہے: اللہ عزوجل کی طرف جہالت یا عجز (مجبور ہونا) یا نقص (خامی) کی نسبت کرنا کفر ہے۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 138، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
لٹیا جس کی اردو لٹنا یا لٹ جانا آتی ہے، فرہنگ آصفیہ میں اس کے معانی یہ بیان کئے گئے ہیں: لٹنا یا لٹ جانا: غارت ہونا، تباہ ہونا، برباد ہونا، چوری ہونا، صفایہ پھرنا، کچھ باقی نہ رہنا، خاک میں ملنا۔ (فرھنگ آصفیہ، جلد 04، صفحہ 179، لاھور)
یونہی فیروز اللغات، نور اللغات، نئی اردو لغت اور رابعہ اردو لغت میں ہے: لٹنا: تباہ ہونا، برباد ہونا، خاک میں ملنا، تاراج ہونا، غارت ہونا، دھوکہ کھانا، ٹھگایا جانا، نقصان ہونا، گھر اجڑنا۔ (رابعہ اردو لغت، صفحہ 984، مطبوعہ انڈیا)
اردو پنچابی لغت میں ہے: لٹ جانا: لٹیا جانا، اجڑنا، برباد ہونا، ٹھگیا، موہیا جانا، گھاٹا پینا۔۔۔ لٹنا: لٹیا جانا، ٹھگیا جانا، اجڑنا، چوری ہو جانی، گھاٹا پینا۔ (اردو پنجابی لغت، ص 990، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0095
تاریخ اجراء: 08شعبان المعظم1447ھ/27جنوری2026ء