logo logo
AI Search

حضرت علی اور حضرت صدیق اکبر میں سے افضل کون؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کو اہلبیت میں شامل ہونے کی وجہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے افضل کہنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کچھ لوگ کہتے ہیں کے حضرتِ علی کرم اللہ وجھہ الکریم اہلبیت میں سے ہیں، اس لیے وہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے افضل ہیں، ایسا کہنا کیسا؟ اس کا جواب ارشاد فرمائیں۔

جواب

فاتح خیبر، اسد اللہ الغالب، حضرت مولا علی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کو رب کریم جل جلالہ نے بہت سی شان و عظمت سے نوازا ہے، من جملہ فضائل میں سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ عنا کی ایک فضیلت اہلبیت اطہار میں سے ہونا بھی ہے مگر فضیلت اور افضلیت کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ اجماع امت ہے کہ نبیوں کے بعد تمام انسانوں میں افضل ہستی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، پھر ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے، اور پھر جمہور کے مطابق سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے بعد سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کی ہے، یعنی جس طرح ان حضرات کی خلافت کی ترتیب ہے در حقیقت یہ خلافت کی ترتیب اسی افضلیت کی ترتیب پر مبنی ہے کہ جو افضل تھا وہ پہلے خلافت کے منصب پر جلوہ گر ہوا۔ نیز یہ خیال کہ ان تین حضرات کے مقابلے میں سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے نسبی قرابت حاصل ہے، آپ اہلبیت اطہار میں سے ہیں، لہذا سب سے افضل ہیں، درست نہیں کیونکہ افضلیت نسبی قرب پر نہیں ہے، ورنہ پھر سب سے افضل حضور جان عالم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کے شہزادے اور شہزادیاں، رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ہوتیں، یونہی حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما ہوتے ، بلکہ آج کل کے بھی جتنے سادات ہیں، خواہ عملی اعتبار سے کیسے بھی ہوں، وہ بھی سب سے اور جناب مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی افضل ہوتے، کہ مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ انہیں نسبی قرابت حاصل ہے، مگر یقینا ایسا نہیں ہے، تو وجہ وہی ہے کہ افضلیت کا معیار نسبی قرابت پر نہیں ہے۔

نوٹ: اس کے متعلق علمائے اہلسنت کی تفصیلی کتب بالخصوص امام اہلسنت، سیدی اعلی حضرت نور اللہ تعالی مرقدہ کی کتاب مستطاب "مطلع القمرین" اور "الزلال الانقی" کا مطالعہ کیجئے۔

کون افضل ہے اس کا انحصار ہماری چاہت پر نہیں، اس کے متعلق بڑی خوبصورت بات، امام اہلسنت سیدی و مرشدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان نور اللہ تعالی مرقدہ لکھتے ہیں: "اللہ عزوجل فرماتا ہے:

قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِۚ- یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ

(تم فرمادو کہ فضیلت اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرماتا ہے)۔ اس آیۂ کریمہ سے مسلمانوں کو دو ہدایتیں ہوئیں: ایک یہ کہ مقبولان برگاہِ احدیت میں (یعنی اللہ واحد و یکتا کے مقبول بندوں کے درمیان) اپنی طرف سے ایک کو افضل، دوسرے کو مفضول نہ بتائے کہ فضل تو اللہ تعالی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ دوسرے یہ کہ جب دلیل مقبول سے ایک کی افضلیت ثابت ہو تو اس میں اپنے نفس کی خواہش، اپنے ذاتی علاقہ نسب یا نسبت شاگردی یا مریدی وغیرہا کو اصلاً دخل نہ دے کہ فضل ہمارے ہاتھ نہیں۔"  (فتاوی رضویہ، جلد 28، صفحہ  368، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو نسب کی بنا پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینے والے شخص کے متعلق سوال ہوا، تو جواباً آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایک فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء کا اعظم و اعلیٰ ہے، تو حق تھا، مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابو بکر الصدیق کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولیٰ علی سے افضل کہا، یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے، اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے، ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیل۔ اگر جزئیت موجبِ افضلیت مرتبہ عند ﷲ ہو، تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں ﷲ عزوجل کے نزدیک امیر المومنین مولیٰ علی سے افضل و اعلیٰ ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ، جلد  29، صفحہ  274، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )

امام اعظم امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

”افضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم علی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین“

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد (یعنی دنیا میں تشریف آوری کے بعد) تمام لوگوں میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین افضل ہیں۔ (منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر، صفحہ 107 تا 110، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فائدہ: افضلیت صدیق اکبر سے متعلق تفصیلی فتوی دار الافتاء اہلسنت کے آفیشل پیج پر وائرل ہوچکا ہے۔ تفصیل کے لیےآپ وہاں سے حاصل کرکے مطالعہ کرسکتے ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4649
تاریخ اجراء:26 رجب المرجب1447ھ/ 16 جنوری 2026ء