کیا اولیاء کے جسم قبروں میں سلامت رہتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا اولیاء کے جسم قبروں میں سلامت ہوتے ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا انبیائے کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کی طرح اولیائے کرام رحمھم اللہ تعالیٰ کے اجسام بھی قبروں میں سلامت رہتے ہیں؟ سائل: محمد ذیشان(اوکاڑہ)
جواب
جی ہاں! قرآن و حدیث، محدثینِ کرام کے اقوال اور مشاہدات سے یہ بات ثابت ہے کہ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کے اجسام ان کی قبور میں سلامت رکھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اولیاء کرام کے اجسام بھی ان کی قبور میں سلامت رکھتا ہے، حتیٰ کہ ان کے کفن تک کو قبر کی مٹی نہیں کھاتی، یہ نیک ہستیاں اپنی قبور میں زندہ ہوتی ہیں، اور اپنے چاہنے والوں کو اپنی قبور میں رہ کر بھی جانتے اور پہچانتے ہیں، زائرین کا سلام سنتے اور جواب عنایت فرماتے ہیں۔ ان کا دنیا سے رخصت ہوجانا، ایسا ہی ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہونا ہے، اسی لئے قرآن و حدیث میں جہاں بھی مرنے کے بعد اجسام کے مٹی ہونے یا گلنے سڑنے کا ذکر آتا ہے تو مفسرین و محدثین کرام ان آیات کریمہ و احادیث طیبہ سے انبیاء کرام، اولیاء کرام اور شہدائے کرام کا استثناء فرما دیتے ہیں۔
قبور میں اولیاء کرام کے اجسام سلامت رہنے کا قرآنِ پاک سےاشارۃ النص کے طور پر ثبوت:
اللہ تعالیٰ نےقرآن ِ پاک میں شہدائے کرام کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ زندہ ہیں، اس آیت کے تحت مفسرین و محدثین کرام نے بیان فرمایا کہ شہداء کے اجسام ان کی قبور میں سلامت ہوتے ہیں، اور اولیاء اللہ شہداء سے افضل ہوتے ہیں، لہٰذا قبر میں ان کا جسم بھی سلامت رہتا ہے۔
شہداء كرام کے قبروں میں زندہ ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن ِپاک میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، روزی پاتے ہیں۔ (القرآن الکریم، پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت 169)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر خازن میں ہے:
”إن الشهيد لا يبلى في قبره ولا تأكله الأرض كغيره“
ترجمہ: شہید کا جسم قبر میں نہ گلتا ہے، نہ ہی اسے دوسرے مُردوں کی طرح زمین کھاتی ہے۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 319، دارالکتب العلمیہ بیروت)
اسی آیت کو نقل فرما کر علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ مرقاة المفاتیح میں لکھتے ہیں :
”وقد قال تعالىٰ في حق الشهداء: ﴿وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ﴾ والعلماء العاملون المعبر عنهم بالأولياء مدادهم أفضل من دماء الشهداء“
ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ نے شہداء كے حق میں فرمایا (اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے، ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا الخ) اور علماء عاملین کی تعبیر اولیاء سے کی گئی ہے اور علمائے عاملین کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 08، صفحہ 3354، دارالفکر)
مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتےہیں: ”قبر میں ہمارے گوشت گل سڑ کر کیڑے بنے گا، جو اولًا ہمارے اعضاء کھائیں گے، پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھالیں گے، ان حالات سے حضرات انبیاء، شہداء، اولیاء، علماء عاملین علیحدہ ہیں، کیونکہ علماء کی روشنائی شہداء کے خون سے افضل ہے۔ جب شہید کا خون پاک ہے تو علماء کی روشنائی کا کیا پوچھنا ؟ اس روشنائی سے دین قائم ہے، اس لیے یہ حضرات ان احکام سے علیحدہ ہیں۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 07، صفحہ 118، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: ”حیاتِ شہداء قرآن عظیم سے ثابت ہے اور شہداء سے علماء افضل، حدیث میں ہے "روز قیامت شہداء کا خون اور علماء کی دوات کی سیاہی تو لے جائیں گے، علماء کی دوات کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آئے گی۔ "اور علماء سے اولیاء افضل ہیں، تو جب شہداء زندہ ہیں اور فرمایا کہ انہیں مردہ نہ کہو، تو اولیاء کہ بدرجہا ان سے افضل ہیں، ضرور ان سے بہتر حی ابدی ہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 29، صفحہ 105، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
قبور میں اولیاء کرام کے اجسام سلامت رہنے کا حدیثِ پاک سے ثبوت:
حدیثِ پاک میں ہےکہ جس بدن نے گناہ نہیں کیے ہونگے، اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو زمین کی مٹی سے سلامت رکھے گا، چونکہ اولیاء اللہ بھی گناہوں سے محفو ظ ہوتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اجسام کو بھی قبر میں سلامت رکھتا ہے۔ نیز احادیثِ طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام طیبہ کو کھانا حرام قرار دیا ہے، اس حدیث کے تحت محدثین کرام نے بیان فرمایا کہ جو انبیاء کے معنیٰ میں ہوں یعنی اطاعتِ الٰہی، اجتنابِ معاصی اور قرب ِ الٰہی کی مساعی میں ان کے نقش ِ قدم پرچل کر زندگی گزاریں، اللہ تعالیٰ ان کے بدن کو بھی سلامت رکھتا ہے، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اولیاء اللہ اپنی زندگیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چل کر ہی گزارتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اجسام کو بعدِ وصال سلامت رکھتا ہے۔ جیسا کہ کثیر مشاہدات سے یہ بات ثابت ہے۔
اولیاء الله کے اجسام ثابت ہونے کے متعلق صحیح بخاری میں ہے:
”عن هشام بن عروة، عن ابیہ لما سقط عليهم الحائط في زمان الوليد بن عبد الملك، أخذوا في بنائه، فبدت لهم قدم، ففزعوا وظنوا أنها قدم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فما وجدوا أحدا يعلم ذلك، حتى قال لهم عروة، لا واللہ! ما هي قدم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما هي إلا قدم عمر رضي اللہ عنه“
ترجمہ: حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک کے عہد حکومت میں (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کی) دیوار گری اور لوگ اسے بنانے لگے، تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا، لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدم مبارک ہے، کوئی شخص ایسا نہیں تھا، جو قدم کو پہچان سکتا، آخر کار حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نہیں! اللہ گواہ ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔ (صحیح بخاری، جلد 02، صفحہ 106، حدیث: 1390، دار طوق النجاۃ)
كنزالعمال، جامع الاحادیث اور جمع الجوامع میں ہے:
والنظم للاول: ”عن قتادة رضی اللہ عنہ قال: بلغني أن الأرض لا تسلط على جسد الذي لم يعمل خطيئة“
ترجمہ: حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس جسم نے گناہ نہ کیے ہوں، زمین اس پر مسلط نہیں کی جائے گی۔ (کنزالعمال، جلد 12، صفحہ 481، مطبوعہ مؤسسة الرسالة)
علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں:
”فإن اللہ تعالى حرم على الأرض أن تأكل من أجساد الأنبيا، وكذا من في معناهم من الشهداء والأولياء، بل قيل: ومنهم المؤذنون المحتسبون فإنهم من قبورهم أحياء“
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا ءکرام علیھم السلام کے اجسام کو حرام فرما دیا ہے اور ایسے ہی جو لوگ انبیاء کرام علیھم السلام کے معنی میں ہیں، شہداء اور اولیاء كرام میں سے (اللہ پاک نے ان کے اجسام کو بھی زمین پر حرام فرما دیا ہے)، بلکہ کہا گیا ہے کہ انہی میں سے ثواب کی نیت سے اذان دینے والے مؤذن بھی ہیں، بیشک یہ سب اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 08، صفحہ 3505، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
قرآن و حدیث میں جہاں مرنے کے بعد اجسام کے گلے سڑنے کا ذکر موجود ہے، ان آیات و احادیث سے انبیاء كرام، اولیاء كرام اور شہدائے کرام و غیرہم مقربین بارگاہ الہٰی ہستیاں مستثنیٰ ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًاۚ-ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ(3) قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْۚ-وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ﴾
ترجمہ کنز العرفان: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے (تو اس کے بعد پھر زندہ کئے جائیں گے) یہ پلٹنا دور ہے۔ ہم جانتے ہیں، جو کچھ زمین ان سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے۔ (القرآن الکریم، پارہ26، سورۃ ق، آیت: 3، 4)
تفسیر روح البيان میں ہے:
”ان أجساد الأنبياء والأولياء والشهداء لا تبلى ولا تتغير لما ان اللہ تعالى قد نقى أبدانهم من العفونة الموجبة للتفسخ“
ترجمہ: بیشک انبیاء کرام، اولیاء کرام اور شہداء کے اجسام نہ گلتے ہیں، اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی آتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اجسام کو اس تعفن اور بدبو سے پاک فرما دیا ہے، جو عام طور پر گلنے سڑنے کا سبب بنتی ہے۔ (تفسیر روح البیان، جلد 03، صفحہ 439، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”انبیاء، شہداء اور اولیاء اپنے اَجسام اور کفنوں کے ساتھ زندہ ہیں: یاد رہے کہ بعض عام مؤمنین اور دیگر انتقال کر جانے والوں کے اَجسام قبر میں اگرچہ سلامت نہیں رہتے، البتہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، شہداء اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مبارک جسم قبروں میں سلامت رہتے ہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 09، صفحہ 457، مکتبۃ المدینہ)
صحیح بخاری کی حدیثِ پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”ليس من الإنسان شيء إلايبلى، إلا عظما واحدا وهو عجب الذنب، ومنه يركب الخلق يوم القيامة“
ترجمہ: انسان کا ہر جز بوسیدہ ہوجائے گا، مگر ایک ہڈی اور وہ عجب الذنب ہے، اور اسی سے ہی انسان کا جسم دوبارہ بنایا جائے گا۔ (صحیح بخاری، جلد 06، صفحہ 169، مطبوعہ دار طوق النجاہ بیروت)
اس حدیثِ پاک سے انبياء كرام، اولیاء کرام اور شہداء کرام وغیرہم (جن کا احادیثِ طیبہ میں ذکر موجود ہے) مستثنیٰ ہیں، اسی طرح کی حدیثِ پاک کی شرح میں شرح الزرقانی میں ہے:
”قال ابن عبد البر: هذا عموم يراد به الخصوص لما روي في أجساد الأنبياء والشهداء أن الأرض لا تأكلهم۔۔۔وزاد غيره: الصديقين والعلماء العاملين، والمؤذن المحتسب۔۔۔ “
ترجمہ: امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ عموم ہے اور اس سے خصوص مراد لیا جائے گا، کیونکہ انبیاء كرام علیھم الصلوٰۃ والسلام اور شہداء کے متعلق روایت کیا گیا ہے کہ بیشک زمین ان کے اجسام کو نہیں کھائے گی۔۔۔امام ابن عبدالبر کے علاوہ نے اس میں مزید افراد کا اضافہ کیا ہے، صدیقین، علماء عاملین (یعنی اولیاء كرام) اور ثواب کی نیت سے اذان دینے والا (وغیرہم)۔ (شرح الزرقانی علی المؤطا، جلد 2، صفحہ 122، مطبوعہ مکتبۃ الثقافۃ القاھرہ)
مذکورہ بالاحدیثِ پاک کے تحت مرقاۃالمفاتیح میں ہے:
”واستثنى الأنبياءوالشهداءوالأولياءوالعلماء من ذلك “
ترجمہ: انبیاء كرام علیھم السلام، اولیاء كرام اور علمائے عاملین (اولیاء الله)اس سے مستثنی ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 08، صفحہ 3354، دار الفکر بیروت)
اولیاء كرام وصال ظاہری کے بعد صرف ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔
چنانچہ علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ) لکھتے ہیں:
”اولياء اللہ لايموتون ولكن ينتقلون من دار الی دار آخر “
ترجمہ: اللہ کے ولی مرتے نہیں، وہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہوتے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 04، صفحہ 1541، دارالفکربیروت)
شیخ محقق، علامہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”اولیاء خدائے تعالٰی نقل کردہ شدندازیں دارفانی بداربقا وزندہ اند نزد پرودگار خود، ومرزوق اندوخوشحال اند، ومردم را ارزاں شعورنیست“ ترجمہ: ﷲ تعالیٰ کے اولیاء اس دار فانی سے داربقا کی طرف کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتاہے، وہ خوش حال ہیں، اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔ (اشعۃ اللمعات، کتاب الجھاد، باب حکم الاسراء ، جلد 03، صفحہ 402، مطبوعہ لکھنؤ)
قبور میں اولیاء کرام کے اجسام سلامت رہنے کا مشاہدات کثیرہ سے ثبوت:
چنانچہ عظیم محدث، علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ شرح الصدور میں لکھتے ہیں کہ علامہ قشیری رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں تھا، بابِ بنی شیبہ پر ایک نوجوان مُردہ پڑا پایا، جب میں نے اس کی طرف نظر کی، تو اس نے کہا:
”يا أبا سعيد !أما علمت أن الأحباء أحياء وإن ماتوا وإنما ينقلون من دار إلى دار“
تو مجھے دیکھ کر مسکرا یا اور کہا: اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ ﷲ تعالیٰ کے پیارے زندہ ہیں، اگر چہ مرجائیں، وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
عاشقِ دُرود، صاحب دلائل الخیرات، حضرت سیدنا محمد بن سلیمان جزولی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر انور بھی 77 سال بعد شق ہوئی (فوجدوہ کھیئتہ یوم دفن و لم تعد علیہ الارض و لم یغیر طول الزمان من احوالہ شیئا)، تو لوگوں نے ان کو اسی حالت پر پایا، جس طرح وہ دفن کرنے والے دن تھے، زمین نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا اور نہ ہی زمانہ کے گزر جانے نے ان کی حالت کو تبدیل کیا۔ (جامع کرامات اولیاء، جلد 01، صفحہ 276، مطبوعہ مرکز اھلسنت برکات رضا، ھند)
اس متعلق مزید مشاہدات کے واقعات پڑھنے کے لئے علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف "شرح الصدور " اور امام ابن ابی الدنیا کی مایہ ناز تصنیف "من عاش بعد الموت" کا مطالعہ فرمائیں۔
خلاصہ کلام:
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں: ”اہلِسنَّت کے نزدیک انبیاء وشہداء عَلَیْہِمُ التَّحِیَّۃُ وَ الثَّنَاءاپنے اَبدانِ شریفہ سے زندہ ہیں، بلکہ انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کےابدانِ لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں کہ وہ ان کو کھائے، اسی طرح شہداء و اولیاء عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ وَ الثَّناءکے اَبدان وکفن بھی قبور میں صحیح و سلامت رہتے ہیں، وہ حضرات روزی ورزق دئیےجاتے ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحہ 431، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0188
تاریخ اجراء: 06 رجب المرجب1447ھ/27 دسمبر