logo logo
AI Search

اسلام قبول کرنے کے لئے گواہ بنانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اسلام قبول کرنے کے لئے گواہ بنانا ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسلام قبول کرنے کے لئے گواہ ہونا ضروری ہے؟ گواہ کون ہونے چاہئیں؟

جواب

اُصول و قوانین شریعت کی روشنی میں اصل ایمان تصدیق بالقلب یعنی سچے دل سے ان تمام باتوں کی تصدیق  کرنے کانام ہے جن کا تعلق ضروریاتِ دین سے ہے، کسی بھی شخص کے صاحبِ ایمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہے۔

جہاں تک لوگوں کے سامنے اقرار کرنے یا کسی کو اس پر گواہ بنانے کا معاملہ ہے، تو جمہور علمائے متکلمین کے نزدیک اقرار باللسان اصلِ ایمان کے لیے شرط نہیں، یعنی لوگوں کے سامنے اس کا اقرار و اظہار اور انہیں اس پر گواہ بنانا قبولِ اسلام اور اصلِ ایمان کے لیے شرط و ضروری نہیں، البتہ دنیا میں اِجرائے احکام کے لیے اقرار کرنا شرط ہے، تاکہ اس کے مسلمان ہونےکی حیثیت سے اس پر اسلامی احکام جاری ہوسکیں، یعنی لوگ اس کو مسلمان سمجھتے ہوئے اس کے پیچھےنماز ادا کر سکیں، فوت ہوجائے، تو اس کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی، اس کاکفن، دفن اسلامی طریقہ کار کے مطابق کر سکیں اور اس کومسلمانوں کے قبرستان میں دفنا سکیں، وغیرہ۔

اب یہ تفصیل کہ کتنے افراد کے سامنے اقرار و اظہار کرنا ضروری ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہ کہ دنیا میں اجرائے احکام کے لیے امام المسلمین یا کسی ایک مسلمان کے سامنے اعلان و اظہار کافی ہوگا، بلکہ تصدیق بالقلب کے بعد شرعی احکام پر عمل کرنا ہی اس اعلان و اظہار کے قائم ہو جائے گا، جبکہ کوئی بھی خلافِ اسلام کام ظاہر نہ ہو، اسی بنا پر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اکیلے میں کلمۂ شہادت پڑھ لیا اور کسی کے سامنے اس کا اقرار نہیں کیا، تو وہ عنداللہ مومن ہی ہے اور قیامت میں نجات پائے گا، لیکن چونکہ لوگوں کے سامنے اس نے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کیا، تو انہیں اس کے قبولِ اسلام کا علم ہی نہیں، تو دنیاوی احکام میں اس کو کافر سمجھا جائے گا اور جنازہ وغیرہ ادا نہیں کیا جائے گا، یہ حکم بھی تب ہے، جبکہ اقرار کی نوبت نہ آئی ہو، یا اس سےاقرار کا مطالبہ نہ کیا گیا، لیکن اگر کوئی مطالبۂ اقرار کے باوجود، اقرار نہ کرے، تو وہ مسلمان نہیں ہوگا۔

ہاں! شرعاً یہ عمل مستحسن اور بہت اچھا ہے کہ زبان سے اقرار کرنے کے بعد نیک لوگوں کو بھی اپنے ایمان کا گواہ بنا لے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کے حواریوں کا عمل منقول ہے کہ انہوں نے ایمان قبول کرنے کے بعد حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کو اپنے ایمان کا گواہ بنایا تھا، اسی وجہ سے علما فرماتے ہیں کہ نیک لوگوں کو اپنے ایمان کا گواہ بناتے رہنا چاہیے۔

خلاصہ کلام: اس تفصیل سے واضح ہوا کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا قطعاً لازم و ضروری نہیں، بلکہ اگر کسی شخص نے اکیلے میں کلمۂ شہادت پڑھ لیا، تو اس کے مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہے اور اب وہ احکامِ شرعیہ پر عمل کر سکتا ہے، جبکہ ضروریاتِ دین کا انکاریا کوئی بھی خلافِ اسلام کام ظاہر نہ ہو۔

ایمان تصدیق بالقلب کا نام ہے، چنانچہ ناصر الدين عبد الله بن عمر بيضاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 685ھ) لکھتے ہیں:

”و اما فی الشرع فالتصدیق بما علم بالضرورۃ انہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کالتوحید و النبوۃ و البعث و الجزاء“

ترجمہ: اور بہرحال شرعی لحاظ سے ایمان سے مراد، ان باتوں کی تصدیق کرنا ہے جن کا دینِ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہونا ضروری طور پر معلوم ہو، جیسا کہ توحید، نبوت، قیامت میں اٹھنا، اور جزا (یعنی ثواب و عقاب)۔ (تفسیر البیضاوی، صفحہ  132، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ایمان تصدیق قلبی کا نام اور اقرار اجرائے احکام کے لیے شرط ہے، چنانچہ علامہ سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 791ھ / 1388ء)کی  شرح العقائد النسفیۃ  میں ہے:

”(الايمان في الشرع: هو التصديق بما جاء به من عند الله تعالى)أي: تصديق النبـي عليه السلام بالقلب في جميع ما علم بالضرورۃ (مجيئه به من عند اللہ تعالى إجمالا) وأنه كاف في الخروج عن عهدة الايمان۔۔۔(والاقراربه) أي: باللسان۔۔۔ وذهب جمهور المحقّقين إلى أنه التصديق بالقلب، وإنما الاقرار شرط( لاجراء الأحكام في الدنيا)، لِمَا أنّ تصديق القلب أمر باطن لا بدّ له من علامة، فمن صدّق بقلبه ولم يقرّ بلسانه فهو مؤمن عند اللہ, وإن لم يكن مؤمناً في أحكام الدنيا“

 ترجمہ: شرع میں ایمان سے مراد اس کی تصدیق کرنا ہے جو رسول اللہ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام اللہ کے پاس سے لائے یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ان تمام باتوں کی دل سے اجمالاً تصدیق کرنا جن کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنا ضروری طور پر معلوم ہو، اصلِ ایمان کے لیے یہی کافی ہے، جمہور محققین یہی فرماتے ہیں کہ ایمان تصدیق بالقلب ہی ہے اور زبان سے اس کا اقرار، تو یہ فقط دنیاوی احکام کے اجراء کے لیے شرط ہے، کیونکہ تصدیق باطنی معاملہ ہے، تو اس کی کوئی ظاہری نشانی بھی ہونی چاہیے۔پس جو دل سے تصدیق کرلے، لیکن زبان سے اقرار نہ کرے، تو وہ اللہ کے ہاں مومن ہی ہے، اگرچہ دنیاوی احکام میں مومن نہیں۔ (شرح العقائد النسفیۃ، ملخصاً، صفحہ  276، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اقرار باللسان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے امام کمال الدین محمد بن ابی شریف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 906ھ/1501ء) ”الفرائد فی حل شرح العقائد“ میں لکھتے ہیں:

”قوله: (وإنما الاقرار شرط لاجراء الأحكام في الدنيا) أي كالصلاة عليه وخلفه، والدفن في مقابر المسلمين والمطالبة بالزكاة، ونحو ذلك، قال في شرح المقاصد: ولا يخفى أن الاقرار لهذا الغرض لا بد أن يكون على وجه الإعلان والاظهار على الامام وغيره من أهل الاسلام بخلاف ما كان لاتمام الايمان، فإنه يكفي مجرد التكلم به، وإن لم يظهر على غيره“

ترجمہ: اور اقرار صرف دنیا میں احکامِ اسلام، جیسےاس پر نماز جنازہ پڑھنا، یا اس کے پیچھے نماز ادا کرنا، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا، زکوۃ کا مطالبہ اور دیگر احکام جاری کرنے کے لیے شرط ہے، شرح مقاصد میں فرمایا: اور مخفی نہیں کہ اس غرض کے لیے اقرار اعلانیہ  اور امام المسلمین یا کسی مسلمان کے سامنے ہونا ضروری ہے، بخلاف وہ جو اتمامِ ایمان کے لیے ضروری ہے ، تواس کا فقط زبان سے ادا کر دینا ہی کافی ہے، اگرچہ کسی دوسرے کے سامنے اظہار نہ کرے۔ (الفرائدفی حل شرح العقائد، مبحث الایمان، صفحہ 418، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اور علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) ”منح الروض الازھر فى شرح فقہ الأکبر “میں ”شرح المقاصد “کے حوالے سے یہی کلام نقل کرنے کے بعد مزید لکھتے ہیں:

”والظاهر أن التزام الشرعيات يقوم مقام ذلك الاعلان كما لا يخفى على الأعيان“

ترجمہ: اور ظاہر یہ ہےکہ شرعی احکام کا التزام کر لینا اس اعلان کے قائم مقام ہو جائے گا، جیساکہ اہل علم حضرات پر مخفی نہیں۔ (شرح فقہ الاکبر، صفحہ  156، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اجرائے احکام کے لیے کسی ایک شخص سامنے اقرار کر لینا کافی ہے، اس کی نظیر یہ مسئلہ شرعیہ بھی ہے کہ فقہاء کرام فرماتے ہیں: جب کسی شخص کا کافر ہونا معروف ہو، لیکن کوئی ایک مسلمان اس کے مسلمان ہوجانے کی خبردے دے، تواسے مسلمان ہی تصور کیاجائے گا، چنانچہ علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ/1219ء) لکھتے ہیں:

’’قال ابن سماعۃ عن محمد رحمہ اللہ: فی رجل مات وترک ابنین، أحدھما مسلم والآخر نصرانی، فقال المسلم منھما: أسلم أبی قبل موتہ۔۔۔ یصلی علی المیت بإخبار الابن المسلم أنہ أسلم لأنہ أخبر بخبر دینی وہو وجوب الصلاۃ علیہ، وخبر المسلم الواحد فی أمور الدین مقبول‘‘

ترجمہ: ابن سماعہ نے امام محمد علیہ الرحمۃ سے روایت کیا: ایک شخص دو بیٹے چھوڑ کر مرا ایک مسلمان اور دوسرا عیسائی۔ مسلمان نے کہا کہ میرے باپ نے مرنے سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا۔ مسلمان بیٹے کی خبر پر اس میت کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس لیے کہ اس نے ایک دینی کام کی خبردی اور وہ اس پر نماز کا واجب ہونا ہے اور اُمورِ دین میں ایک مسلمان کی خبر مقبول ہے۔ (المحیط البرھانی، کتاب الشھادات، جلد 8، صفحہ 412، دار الکتب العلمیۃ)

صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ’’ایک شخص مرا جس کا کافر ہونا معلوم تھا، مگر اب ایک مسلمان اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دیتا ہے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اور مسلمان مرا اور ایک شخص اس کے مرتد ہونے کی شہادت دیتا ہے، تو محض اس کے کہنے سے اسے مرتد نہیں قرار دیا جائے گا اور جنازہ کی نماز ترک نہیں کی جائے گی۔ ‘‘ (بھارشریعت، جلد 3، صفحہ 658، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مطالبۂ اقرار پر انکار کیا، تو ایمان قبول نہ ہونے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340 ھ/ 1921ء) لکھتے ہیں: ”شرح مقاصد“و ”شرح تحریر “پھر ”ردالمحتار “حاشیہ در مختار باب المرتدین میں ہے:

المصر علی عدم الاقرار مع المطالبۃ بہ کافر وفاقا لکون ذلک من امارات عدم التصدیق

یعنی جس سے اقرارِ اسلام کا مطالبہ کیا جائے اور وہ اقرار نہ کرنے پر اصرار رکھے، وہ بالاتفاق کافر ہے کہ یہ دل میں تصدیق نہ ہونے کی علامت ہے۔ (رد المحتار، 3/283، ط: دار احیاء التراث  العربی)۔۔۔مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اُس شخص کے بارے میں جو قلب سے اعتقاد رکھتا تھا اور بغیر کسی عذر و مانع کے زبان سے اقرار کی نوبت نہ آئی، (اس کے متعلق) علماء کا اختلاف کہ یہ اعتقاد بے اقرار اُسے آخرت میں نافع ہوگا یا نہیں، نقل کرکے فرماتے ہیں۔

قلت لکن بشرط عدم طلب الاقرار منہ فان ابی بعد ذٰلک فکافر اجماعا

یعنی یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس سے اقرار طلب نہ کیا گیا ہو اور اگر بعد طلب بھی باز رہے، جب تو بالا جماع کافر ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، ملخصاً، جلد  29، صفحہ  701، 702، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: اصل ایمان صِرف تصدیق کا نام ہے اعمالِ بدن تو اصلاً جُزوِ ایمان نہیں۔ رہا اقرار اس میں  تفصیل یہ ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کے اظہار کا موقع نہ ملا، تو عِندَ اللہ مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اس سے مطالبہ کیا گیا(مَثَلاً پوچھا گیا، کیا آپ مسلمان ہیں ؟) اور اقرار نہ کیا، تو کافِر ہے اور اگر مُطالَبہ نہ کیا گیا تو (چُونکہ کسی کو معلوم ہی نہیں  کہ یہ مسلمان ہوچکا ہے لہٰذا) اَحکامِ دنیا میں کافِر سمجھا جائے گا، نہ اس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں  کے قبرِستان میں  دفن کریں  گے مگر عند اللہ مومن ہے اگر کوئی اَمرخِلافِ اسلام ظاہِر نہ کیا ہو۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 93، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اپنے ایمان پر گواہ بنانا مستحسن اور بہتر ہے، چنانچہ رب تبارک و تعالیٰ عیسی علیہ السلام کے حواریوں کا قول بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

(فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ)

ترجمہ کنز العرفان:  پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر پایا تو فرمایا: اللہ کی طرف ہو کر کون میرا مددگار ہوتا ہے؟ مخلص ساتھیوں نے کہا: ’’ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ اس پر گواہ ہوجائیں کہ ہم یقینامسلمان ہیں۔ (القرآن، پارہ3، سورۃ آل عمران، الآیۃ: 52)

مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتےہیں: ”ہم کو چاہئے کہ ہم حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مقبولان بارگا ہ الٰہی کو اپنے ایمان کا گواہ مانیں۔زائرین مدینہ سلام الوداع میں الوداعیہ کلمات کے ساتھ یہ بھی عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضور گواہ رہیں کہ میں آپ کا امتی ہوں، پڑھتا ہوں۔ لا إِلٰهَ إِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ ان کلمات کی اصل یہ آیت کریمہ ہے۔ دیکھو حواریوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارے اسلام کے گواہ بن جائیں۔“ (تفسیرنعیمی، جلد  3، صفحہ 474، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب میں ہے: سوال: کیا کافِر کیلئے یہ ضَروری ہے کہ کسی نہ کسی مسلمان کے ہاتھ پر توبہ کر کے مسلمان ہو؟ جواب:  ایمان لانے کیلئے کسی مسلمان کے ہاتھ ہی پر توبہ کرنا شَرط نہیں۔ البتہ اپنے اسلام کا اظہار کرے۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 558، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9646
تاریخ اجراء: 05جمادی الاخریٰ1447ھ/27 نومبر2025 ء