logo logo
AI Search

مصیبت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مصیبت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کئی افراد ایسے جملے بولتے ہیں کہ جن میں مصیبت و پریشانی پہنچنے کی نسبت اللہ عزوجل یا تقدیر کی جانب کی ہوتی ہے، اگرچہ ان کا ارادہ گستاخی کا نہیں ہوتا، جیسے اللہ کی طرف سے بیماری یا مصیبت آئی ہے یا تقدیر میں لکھی تھی اس لئے آئی ہے، اللہ پاک ٹال دے گا وغیرہ وغیرہ۔ تو کیا ایسا کہنا کفر ہے؟

جواب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر اچھائی، برائی، نیکی، بدی کو پیدا کرنے والا اللہ عزوجل ہے، لیکن اگر کسی پر مصیبت و پریشانی آ جائے، تو اسے تقدیر اور مشیت الہی کی طرف منسوب کرنا نامناسب ہے، کفر ہرگز نہیں، کیونکہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی بندے کو نعمت، بہتری و اچھائی ملے، تو اس کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کرے اور اگر کوئی مصیبت، پریشانی و برائی پہنچے، تو اس کو رب عزوجل کی طرف منسوب نہ کرے، بلکہ اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔

ہر چیز کا خالق اللہ عزوجل کے ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ہے: ﴿خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اس نے ہر شے کو پیدا کیا ہے۔ (القرآن، پارہ7، سورۃ الانعام، آیت102)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ادب کے پیشِ نظر مرض کی نسبت اپنی جانب اور شفاء کی نسبت اللہ عزوجل کی طرف کی، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ (القرآن، سورۃ الشعراء، آیت80)

مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت امام خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

”أضاف المرض إلى نفسه استعمالا للأدب وإن كان المرض والشفاء من اللہ“

ترجمہ: ادب کی وجہ سے مرض کی نسبت اپنے نفس کی طرف کی ہے اگرچہ مرض اور شفاء اللہ عزوجل کی طرف سے ہیں۔ (تفسیر خازن، ج3، ص 327، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ایک اور مقام پر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ﴾

ترجمۂ کنز الایمان: سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ (القرآن، پارہ7، سورۃ الانعام، آیت1)

مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت مفتیِ اہلِ سنت، شیخ القرآن ابو صالح مفتی محمد قاسم قادری اطال اللہ ظلَّہ علیَّ لکھتے ہیں: ”یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الٰہی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔“ (صراط الجنان، جلد 3، صفحہ66، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

شر اللہ عزوجل کی طرف منسوب نہ کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”الخير كله في يديك والشر ليس إليك“

ترجمہ: ساری بھلائیاں تیرے قبضے میں ہیں اور برائی تیری طرف منسوب نہیں۔ (صحیح مسلم، ج2، ص 185، مطبوعه دار الطباعۃ عامرۃ، ترکیا)

علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:

”الشر لا يضاف إليك بحسن التأدب ولذا لايقال: يا خالق الخنازير وإن خلقهاوهذا كقوله تعالى عن إبراهيم عليه السلام وإذا مرضت فهو يشفين مضيفا المرض إلى نفسه والشفاء إلى ربه“

ترجمہ: حسن ادب کی وجہ سے شر کو رب کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اسی وجہ سے خنزیروں کو پیدا کرنے والے نہیں کہا جاتا، اگرچہ ان کو رب عزوجل نے ہی پیدا فرمایا ہے اور یہ اسی طرح ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول کے بارے میں فرمایا کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو وہ مجھے شفاء دیتا ہے کہ انہوں نے مرض کی اضافت اپنے نفس کی طرف کی اور شفاء کی اضافت رب عزوجل کی طرف کی۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد2، صفحہ673، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

کشف المناہج والتناقیح فی تخریج احادیث المصابیح“ میں ہے:

”والخير كله في يديك والشر ليس إليك: قال الخطابي وغيره: فيه الإرشاد إلى الأدب في الثناءِ على اللہ عزوجل بأن يضاف إليه محاسن الأموردون مساوئها على جهة الأدب“

ترجمہ: ساری بھلائیاں تیرے قبضے میں ہیں اور برائی تیری طرف منسوب نہیں، علامہ خطابی علیہ الرحمہ اور ان کے علاوہ نے فرمایا ہے کہ اس میں اس ادب کی طرف رہنمائی ہے کہ بطور ادب اللہ عزوجل کی حمد وثناء کرنے میں اچھے کاموں کو منسوب کیا جائے، برے کاموں کو منسوب نہ کیا جائے۔ (کشف المناھج والتناقیح فی تخریج احادیث المصابیح، جلد1، صفحہ 342، مطبوعہ الدار العربية للموسوعات، بيروت)

کشف المشکل من حدیث الصحیحین “ میں ہے:

” والشر ليس إليك: أي ليس مضافا إليك.وقد يشكل هذا فيقال: أليس كل شيء بقدر؟فالجواب: أن المعنى: لا يضاف الشر إليك فتخاطب به تأدبا لك، فلا يقال: يا قاتل الأنبياء، ويا مضيق الرزق، وإنما تخاطب بما يليق بالأدب، فيقال: يا كريم يا رحيم“

ترجمہ: اور شر تیری طرف سے نہیں، یعنی تیری طرف منسوب نہیں اور اس پر یہ اشکال کیا جا سکتا ہے کہ کیا ہر چیز تقدیر میں نہیں ہوتی؟ تو جواب یہ ہے کہ اس جملے کا  معنی یہ ہے: ادب کے طور پر شر کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا تاکہ آپ کو اس سے مخاطب نہ کیا جائے، لہذا یہ نہیں کہا جاتا: اے انبیاء کو قتل کرنے والے، اور اے رزق کو تنگ کرنے والے بلکہ رب عزوجل کو اس چیز سے مخاطب کیا جاتا ہے جو ادب کے لائق ہو، لہذا کہا جاتا ہے: اے کریم، اے رحیم۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین، ج1، ص206، مطبوعہ دار الوطن)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبد الرب شاکر عطاری مدنی

مصدق: مفتی محمدقاسم عطاری

فتوی نمبر:Sar-9592

تاریخ اجراء: 07جمادی الاولیٰ1447 ھ/30اکتوبر2025ء