logo logo
AI Search

خدا بھی نیچے آ جائے تو یہ کام نہیں کروں گا کہنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اس جملے "خدا بھی نیچے آ جائے تو یہ کام نہیں کروں گا" کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

چند افراد کاروباری جگہ پر کھڑے ہو کر آپس میں جھگڑ رہے تھے، تو اسی دوران ایک نے (معاذ اللہ) اس طرح کے الفاظ کہے کہ: "اگر اب خدا بھی نیچے آ جائے تو میں یہ گاڑی یہاں سے نہیں ہٹاؤں گا۔ " اور جب کہنے والے کو سمجھایا گیا، تو اس نے (معاذ اللہ) مزید یہ کہاکہ: "ہاں میں خدا سے بھی بڑا ہو گیا ہوں۔ "اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب

دریافت کی گئی صورت میں جس شخص نے یہ جملے کہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا، اگر شادی شدہ تھا، تو اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اس پر لازم ہے کہ فوراً اپنے ان دونوں جملوں سے توبہ کرے، اور تجدید ایمان کرے، اور بیوی کو نکاح میں لانا چاہتا ہے، تو اس کی مرضی سے نئے مہرکے ساتھ دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

”إذا قال: لو أمرني الله بكذا لم أفعل فقد كفر كذا في الكافی“

ترجمہ: جب کوئی کہے کہ اگر اللہ بھی مجھے ایسا حکم دے تو میں نہیں کروں گا تو وہ کافر ہو جائے گا، ایسا ہی کافی میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 258، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی شارح بخاری میں ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے یہ جملہ کہا تھا کہ ”اگر خدا اتر کر آوے تب بھی میں (مکان) نہیں بننے دوں گا“ پھر اس سے اس کے بیٹے نے کہا کہ کیا آپ خدا سے بڑھ کرہیں؟ تو اس نے کہا کہ ”ہاں میں خدا سے بڑھ کر ہوں۔“

اس کے جواب میں مفتی شریف الحق امجدی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بکر کا باپ زید کافر و مرتد ہوگیا، اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اس کے تمام اعمالِ حسنہ اکارت ہوگئے، اس نے دو کفر بکا، بلکہ تین۔ ”خدا اتر کر آئے جب بھی نہیں بننے دوں گا“ اس میں دو کفر ہیں، اور ”میں خدا سے بڑھ کر ہوں“ تیسرا کفر۔۔۔ اس پر فرض ہے کہ ان کفریات سے توبہ کرے، کلمہ پڑھ کر پھرسے مسلمان ہو، بیوی کو رکھنا چاہے تو پھر سے نکاح کرے۔“ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 165، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4687
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1447 ھ/27 جنوری 2026ء