logo logo
AI Search

امتی کیا خود خدا شیدا ہے تمہارا یہ نعتیہ شعر پڑھنا کیسا؟

اللہ تعالی کےلیے "شیدا"کالفظ استعمال کرنا

مجیب: عبدالرب شاکرعطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-776

تاریخ اجراء: 03ذیقعدۃالحرام1443 ھ/03جون2022 ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

سلام میں یہ شعر کہنا "امتی کیا خود خدا شیدا ہے تمہارا" کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال میں بیان کردہ شعر پڑھنا ہرگز جائز نہیں کہ اس شعرمیں اللہ تعالی کے لئے "شیدا" کا لفظ استعمال کیاگیاہے اور "شیدا" کے معانی لغت میں یہ بیان ہوئے: "آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق" اور اللہ تعالی ان سب سے منزہ و پاک ہے لہذا یہ شعر ہر گز نہ پڑھا جائے۔

فتاوی شارح بخاری میں ہے: (اللہ تعالی) کو شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنی سوء کا احتمال ہے۔ شیدا کا معنی آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ہے۔ اللہ تعالی ان تمام باتوں سے منزہ ہے۔ (فتاوی شارح بخاری،ج 1، ص 141، مکتبہ برکات المدینہ،کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم