اللہ تعالی کو روح پھونکنے والا کہنا
اللہ تعالی کی طرف روح پھونکنے کے الفاظ کی نسبت کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام کا پہلے جسم بنایا، پھر اس میں روح ڈالی، لیکن اگر کوئی یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونکی تو کیا حکم ہے؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اللہ تعالی کی طرف روح پھونکنے کی نسبت کرنے میں بھی مراد روح ڈالنا، جاری کرنا، ہی ہوتاہے، لہذا اس طرح کا جملہ بولنے میں حرج نہیں ہےکہ یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔
قرآن پا ک میں ارشادخداوندی ہے:
(فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ(۷۲))
ترجمہ کنزالایمان: پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا۔ (سورہ ص، پارہ 23، آیت 72)
تفسیرجلالین میں اس کے معنی کو یوں بیان کیا گیا ہے "{ونفخت} أجريت {فيه من روحي}" ترجمہ: اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں یعنی روح ڈال دوں، جاری کردوں۔ (تفسیرجلالین، ص 437، مطبوعہ لاہور)
المستدرک للحاکم میں ہے
"عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما اقترف آدم الخطيئة قال: يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي، فقال الله: يا آدم، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه؟ قال: يا رب، لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا لا إله إلا الله محمد رسول الله فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، فقال الله: صدقت يا آدم، إنه لأحب الخلق إلي ادعني بحقه فقد غفرت لك ولولا محمد ما خلقتك"
ترجمہ: امیر المؤمنین، حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آدم (علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام) سے لغزش واقع ہوئی، عرض کی اے میرے رب! میں تجھے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما! تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اے آدم! تو نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کیوں کر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی انہیں پیدا نہ کیا؟ عرض کی اے میرے رب! جب تونے مجھے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی طرف کی روح پھونکی، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا: لا الٰہ الاﷲ محمّد رسول ﷲ(عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) تو میں نے جانا، تو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا، جو تجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اے آدم! تو نے سچ کہا، بیشک وہ مجھے تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہے، تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیری مغفرت فرمادی، اگر محمد نہ ہوتے تو میں تجھے نہ بناتا۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، جلد3، صفحہ216، حدیث نمبر4281، مطبوعہ: کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4562
تاریخ اجراء:01 رجب المرجب1447ھ/22دسمبر2025ء