دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور پر لوگ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کہہ کر پکارتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ کو حاضر و ناظر کہہ سکتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ یہ کہنا کفر ہے؟ برائے مہربانی درست رہنمائی فرمائیں۔
اللہ عزوجل پر پوری کائنات میں سے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، سب اُس پر عیاں ہے، وہ سب دیکھتا ہے اور اپنی اسی صفتِ کمال کو قرآن مجید میں شہید و بصیر سے تعبیر فرماتا ہے۔ لوگ اسی مفہوم میں حاضر و ناظر کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی اس صفت کو حاضر و ناظر سے تعبیر کرنا، اگرچہ کفر نہیں، لیکن کہنے کی بھی شرعاً اجازت نہیں، لہٰذا اس سے احتراز کرنا لازم ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سے چندایک درج ذیل ہیں:
اللہ عزوجل کو فقط اُسی نام سے پکارا جا سکتا ہے، جو توقیفی ہو یعنی جو نام قرآن و سنت میں وارد ہو یا جس پر امت کا اجماع ہو، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے لیے بلا اجازت شرعی اپنی طرف سے کوئی نام استعمال نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ اللہ عزوجل کے لئے نام "حاضر و ناظر " نہ تو قرآن و سنت میں وارد ہوا ہے اور نہ ہی اس نام کے ساتھ اللہ کو پکارنے کے جواز پر امت کا اجماع ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن میں سے کسی نے اللہ تعالیٰ کے لئے حاضر و ناظر کے الفاظ استعمال نہیں کئے، لہٰذا ان الفاظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
نیز ممانعت کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ لفظِ"حاضر "کے معنی لغت میں ہے: شہری، صحن، جو چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو، اور "ناظر" کے معنی آنکھ کے ڈیلے کی سیاہی، جبکہ نظر کے معنی کسی امر میں تامل وتفکر کرنا، کسی چیز کا اندازہ کرنا اور آنکھ سے کسی چیز میں تامل کرنا۔ اگر دیکھا جائے، تو اس میں ایسے معنی بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے بولنا جائز نہیں ہیں اور علمائے کرام لکھتے ہیں کہ ایک لفظ کے چند معانی ہو ں جن میں سے کچھ معنی بُرے ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد بھی نہ ہوا ہو، تو ایسے لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر کرنا، جائز نہیں ہے۔
اللہ عزوجل کے لیے لفظِ "شہید" کے اطلاق کے متعلق قرآن مجید میں ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔ (القرآن، پارہ17، سورۃ الحج، آیت17)
اللہ عزوجل کے بصیر ہونےکے متعلق قرآن مجید میں ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔ (القرآن، پارہ17، سورۃ الحج، آیت75)
اللہ پاک کے اسمائے توقیفیہ کے متعلق قرآن مجید میں ہے:
﴿وَلِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں وہ جلد اپنا کیا پائیں گے۔ (القرآن، پارہ09، سورۃ الاعراف، آیت180)
مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت امام علاؤ الدین محمد بن علی المعروف امام خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 741ھ)لکھتے ہیں:
”وقوله سبحانه وتعالى: فادعوه بها يعني ادعوا اللہ باسمائه التي سمى بها نفسه او سماه بها رسوله ففيه دليل على ان اسماء اللہ تعالى توقيفية لا اصطلاحية“
ترجمہ: اور اللہ پاک کا یہ ارشاد: اس کو اُنہی ناموں سے پکارو یعنی ان ناموں سے جن سے اُس نے خود کو موصوف کیا یا جن ناموں کے ساتھ اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُسے پکارا، لہٰذا اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے اسماء توقیفی ہیں، نہ کہ اصطلاحی۔ (تفسیر خازن، جلد2، صفحہ 277، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”اللہ تعالیٰ کے ناموں میں حق و اِستقامت سے دور ہونا کئی طرح سے ہے۔
ایک تو یہ ہے کہ اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اِطلاق کرنا، جیسا کہ مشرکین نے اِلٰہ کا" لات" اور عزیز کا" عُزّیٰ"اور منان کا "مَنات" کرکے اپنے بتوں کے نام رکھے تھے، یہ ناموں میں حق سے تَجاوُز اور ناجائز ہے۔
دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا نام مقرر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کو سخی کہنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اَسماء تَوقِیفیہ ہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد3، صفحہ480، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”حضرت حق جلَّ وعلا کو "ناطق" کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ شرح سے ثابت نہ ہوا۔ اسمائے الہٰیہ توقیفیہ ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ، کا جواد ہونا اپنا ایمان، مگر اسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شرع میں وارد نہیں۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد27، صفحہ173، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حاضر و ناظر کے لغوی معانی کے متعلق المنجد میں ہے”اَلْحُضْرَۃ، اَلْحِضْرَۃ، اَلْحَضْرَۃ: القرب، الفناء“ ترجمہ: نزدیکی، صحن۔ (المنجد، صفحہ 134، مطبوعہ بیروت)
مختار الصحاح میں ہے: ”(الناظر) فی المقلۃ السواد الاصغر“ ترجمہ: آنکھ کے ڈیلے میں چھوٹا سیاہ دائرہ۔
”(النظر) و (النظران) تامل الشیء بالعین“ ترجمہ: آنکھوں سے کسی چیز کو غور وتامل کے ساتھ دیکھنا۔ (مختار الصحاح، صفحہ586، مکتبۃ لبنان)
المنجد میں ہے:
”(نظر، نظراً) فی الامر: تدبرہ وفکر فیہ، یقدرہ“
ترجمہ: سوچنا، غورو فکرکرنا، اندازہ کرنا۔ (المنجد، صفحہ 890، مطبوعہ بیروت)
وقارالفتاوی میں ہے: ”حاضر و ناظر کے جو معنی لغت میں ہیں ان معانی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان الفاظ کا بولنا جائز نہیں ہے۔ "حاضر" کے معنی عربی لغت کی معروف و معتبر کتب "المنجد " اور " مختار الصحاح " وغیرہ میں یہ لکھے ہیں: نزدیکی، صحن، حاضر ہونے کی جگہ، جو چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو اسے حاضر کہتے ہیں۔اور ناظر کے معنی "مختار الصحاح " میں آنکھ کے ڈیلے کی سیاہی، جبکہ نظر کے معنی کسی امر میں تفکر و تدبیر کرنا، کسی چیز کا اندازہ کرنا اور آنکھ سے کسی چیز میں تامل کرنا لکھے ہیں۔ ان دونوں لفظوں کے لغوی معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کو پاک سمجھنا واجب ہے۔ بغیر تاویل ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ پر نہیں بولا جا سکتا۔ اسی لیے اسماء حسنی میں حاضر و ناظر بطور اسم یا صفت شامل نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لیے آتے ہیں اور نہ ہی صحابہ کرام اور تابعین یا ائمہ مجتہدین نے یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کیے ہیں۔“ (وقار الفتاوٰی، جلد1، صفحہ66، 67، بزم وقارالدین، مطبوعہ کراچی)
محال معنی کے احتمال رکھنے والے لفظ کو اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرنے کی ممانعت کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
”ان مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع عن التلفظ بھذا الکلام“
ترجمہ: محض محال معنی کا وہم ہی اس کلام کو بولنے سے مانع ہونے کے لیے کافی ہے۔ (حاشیۃ ابن عبادین، جلد9، صفحہ652، مطبوعہ کوئٹہ)
فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں:
”جس لفظ کے چند معنی ہوں اور کچھ معنی خبیث ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو، تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل پر منع ہے۔ “ (فتاوی شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 137، مطبوعہ مکتبہ برکات المدینہ )
اللہ پاک کو ہر جگہ حاضر و ناظر کہنے کہ متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا: ”خدا کو ہر جگہ حاضر کہنا کیسا ؟الجواب: اللہ عزوجل جگہ سے پاک ہے یہ لفظ بہت بُرے معنی کا احتمال رکھتا ہے اس سے احتراز لازم ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد14، صفحہ640، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل سمیع وبصیر ہے، ہر چیز کو سنتا اور سب کو دیکھتا ہے اور وہ مکان سے پاک ہے یہ کہنا کہ وہ فلاں جگہ یا سب جگہ موجود ہے، غلط ہے۔ وہ موجود ہے، مگر جگہ سے منزہ و برتر، جب جگہ نہ تھی اور زمانہ بھی نہ تھا جب بھی وہ موجود تھا اور اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔“ (فتاویٰ امجدیہ، جلد4، صفحہ274، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: عبد الرب شاکر العطاری المدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Sar-9719
تاریخ اجراء: 16رجب المرجب1447 ھ/06جنوری2026ء