logo logo
AI Search

انبیاء کے بعد سب سے پہلے جنت میں جانے والا کون؟

انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟

دارالافتاء اھلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا یہ بات درست ہے کہ بروز قیامت انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے پہلے جنت میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جائیں گے ؟       سائل: حافظ حامد رضا ( مریدکے، لاہور)

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بروز قیامت جنت میں سب سے پہلے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام، پھر دیگر انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لے جائیں گے، انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے پہلے جنت میں جانے والے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، قرآنِ پاک کی تفاسیر، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث طیبہ، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال یہاں تک کہ امیر المومنین، مولی المسلمین حضرت مولا علی، شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا صریح قول موجود ہے؛ اسی طرح شروحاتِ احادیث، کتبِ عقائد اور فضائل و مناقب میں اس کی صریح نصوص موجود ہیں۔

جنت میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے جائیں گے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:

اَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ

ترجمہ: قیامت کےدن جنت میں سب سے پہلے میں داخل ہوں گا اور اس پر فخر نہیں۔ (شعب الایمان، حب النبی ﷺ، جلد 3، صفحہ 74، مطبوعہ ھند )

امتوں میں سے سب سے پہلے امتِ محمدیہ جنت میں جائے گی، چنانچہ صحیح مسلم میں حدیثِ پاک ہے:

” قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ“

ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ہم ( دنیا میں ) سب سے آخر میں آنے والے ہیں، قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے ہم ہی ہوں گے۔ (الصحیح لمسلم، کتاب الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ، ج 2، ص 585، مطبوعہ بیروت )

جنت میں سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبر ﷜کے جانے کے متعلق تفاسیر سے دلائل:

اللہ رب العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾

ترجمۂ کنز الایمان: ”صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ (پارہ 10، سورۃ التوبۃ، آیت 40)

اس آیتِ کریمہ کے تحت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

”وفى الآية دلالة على علو طبقة الصديق وسابقة صحبته وهو ثانيه حين خرج مهاجرا وثانيه فى الغار وثانيه فى الخلافة وثانية فى القبر بعد وفاته وثانيه فى انشقاق الأرض عنه يوم البعث وثانيه فى دخول الجنة“

ترجمہ: اس آیتِ کریمہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مرتبہ کی بلندی پر، آپ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ معیت کی سبقت پر دلالت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کےموقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ثانی تھے، غار میں، خلافت میں، وفات کے بعد مزار شریف میں، بروزِ قیامت زمین جب کھلے گی، تو اس وقت اٹھنے میں اور جنت میں داخل ہونے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ثانی ہیں۔ (تفسیر روح البیان، سورۃ التوبۃ، آیت 40، جلد 3، صفحہ 435، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

قرآنِ پاک میں ایک دوسرے مقام پر ہے:

﴿وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ- ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ﴾

ترجمۂ کنز الایمان: ”اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔“ (پارہ 24، سورۃ الزمر، آیت 68)

اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے:

”أول من يدخل الجنة من هذه الامة ابو بكر رضى اللہ عنه“

 یعنی: اس امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جانے والے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوں گے۔ (تفسیر روح البیان، سورۃ الزمر، آیت 68، جلد 8، صفحہ 139، مطبوعہدار الفکر، بیروت )

احادیث طیبہ سے دلائل:

ابو داؤد شریف میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

”قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "أتاني جبريل عليه السلام فأخذ بيدي، فأراني بابَ الجنَّة الذي تدخُلُ منه أمتي"، فقال أبو بكر: يا رسول الله وَدِدتُ أني كنتُ معك حتى أنظرَ إليه، فقال رسولُ الله-صلى الله عليه وسلم-: "أمَا إنَّك يا أبا بكْرِ أوَّلُ مَن يدخُلُ الجنةَ من أُمتي"“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبریل امین علیہ السلام آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور جنت کا وہ دروازہ دِکھایا، جہاں سے میری امت جنت میں داخل ہوگی، تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا، تاکہ وہ دروازہ میں بھی دیکھ سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر ! کیا آپ اس سے خوش نہیں کہ میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جانے والے آپ ہی ہوں گے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 7، صفحہ 48، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ، بیروت)

امام حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ نے المستدرک للحاکم میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کو صحیح اور امام بخاری و امام مسلم کی شرائط کے مطابق کہا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: ”هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلٰى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ“ مفہوم واضح ہے۔ (المستدرک للحاکم، معرفۃ الصحابۃ، جلد 3، صفحہ 77، دار الکتب العلمیہ، بیروت )

اس کی تعلیق میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے شیخین (امام بخاری و امام مسلم) رحمھما اللہُ کی شرائط کے مطابق قرار دیا ہے، اور پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی روایت کو ابوداؤد شریف کے حوالے سے اپنی کتاب ”المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال“ کے صفحہ نمبر 444 پر نقل کیا ہے۔

امام طبرانی (المتوفیٰ 360ھ) نے المعجم الاوسط میں، امام ابن بشران بغدادی (المتوفیٰ 430ھ) نے اپنی امالی میں، اور ان کے علاوہ کثیر جلیل القدر محدثین کرام نے اس حدیثِ پاک کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے فضائل کے باب میں نقل کیا ہے۔

امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 509 ھ)، امام ابن فاخر اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 564ھ) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیثِ پاک لکھتے ہیں:

واللفظ للاول”وأول من يدخل الجنة أبو بكر وعمر “

یعنی: جنت میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ داخل ہوں گے۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 1، صفحہ 27، دار الکتب العلیہ، بیروت )

امیر المومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم سے بھی صراحتاً منقول ہے کہ جنت میں سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جائیں گے، چنانچہ امام قوام السنۃ ( المتوفیٰ 535 ھ) بیان کرتےہیں:

”أَنَّ عَلِيًّا - رَضِيَ اللہُ عَنْهُ - قَالَ أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ فَقِيلَ لَهُ: بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ قِيلَ: فَيَدْخُلانِهَا قَبْلَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللہُ عَنْهُ -: إِي وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَيَدْخُلَنَّهَا قَبْلِي“

ترجمہ: مولائے کائنات شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہُ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں خبر نہ دوں ، جو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں جائیں گے ، تو آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا: کیوں نہیں اے امیر المؤمنین ! توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا یہ دونوں حضرات آپ سے بھی پہلے جنت میں داخل ہوں گے ؟ تو مولائے کائنات رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج کو چیرا اور اس سے درخت کو اُگایا، یہ دونوں حضرات مجھ سے بھی پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (الحجہ فی بیان المحجۃ، جلد 2، صفحہ 370، مطبوعہ ریاض )

امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفیٰ 597ھ)لکھتے ہیں:

” عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هٰذِهِ الأُمَّةِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " “

مفہوم گزر گیا۔ (العلل المتناھیہ فی احادیث الواھیہ، جلد 1، صفحہ 196، مطبوعہ فیصل آباد )

شروحاتِ احادیث سے دلائل:

علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ ( 743ھ) لکھتے ہیں:

”لما تمنى رضي الله عنه قيل له: لا تتمنى النظر إلى الباب فإن لك ما هو إلى منه وأجل، وهو دخولك فيه أول أمتي“

ترجمہ: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس دروازے کو دیکھنے کی تمنا کی، تو آپ سے کہا گیا: اے ابو بکر ! آپ اس کی تمنا نہ کریں، کیونکہ وہ دروازہ جس کے لیے ہے، وہ آپ ہی ہیں اور اس میں سے میرا جو سب سے پہلے امتی گزرے گا، وہ آپ ہی ہوگے۔ (شرح الطیبی علی المشکاۃ، جلد 12، صفحہ 3852، مطبوعہ ریاض )

علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

” (إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي) أي فسترى بابها وتدخلها قبل كل أحد من أمتي، وفيه دليل على أنه أفضل الأمة، وإلا لما سبقهم في دخول الجنة“

 ترجمہ: یعنی اے ابو بکر آپ اس دروازے کو دیکھ لیں گے اور میری امت میں سے سب سے پہلے آپ ہی جنت میں داخل ہوں گے۔ اس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پوری امت سے افض ہونے کی دلیل ہے، ورنہ پوری امت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ جنت میں نہ جاتے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 9، صفحہ 3890، مطبوعہ دار الفکر، بیروت )

ابن رسلان رملی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 844 ھ)ابو داؤد شریف والی حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:

”هٰذه خصيصة من خصائص أبي بكر الصديق مما لم يشاركه فيها أحد من الصحابة ولا من دونهم، ولأبي بكر -رضي الله عنه- خصائص تزيد على الثلاثين هذه منها، وهي كونه أول من يدخل الجنة من هذه الأمة، كما أنه أول من أسلم من الرجال۔۔۔۔ الخ“

ترجمہ: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت بھی ان خصائص میں سے ہے، جن میں کوئی اور صحابی یا صحابی سے نیچے درجہ والا آپ کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اس طرح کے فضائل 30 سے زیادہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس امت میں سے سب سے پہلے جنت میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ داخل ہوں گے، جیسا کہ مَردوں میں سے سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔۔۔ الخ ( شرح ابی داؤد لرسلان، جلد 18، صفحہ 158، مطبوعہ دار الفلاح للبحث العلمی )

کتبِ فضائل و مناقب سے دلائل:

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معروف کتاب ” فضائل الصحابۃ “ میں، امام عشاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 451ھ) فضائلِ ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں مذکورہ بالا ابو داؤد شریف والی روایت کو یوں نقل کیا ہے:

واللفظ للاول ” عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أتاني جبريل عليه السلام فأخذ بيدي، فأراني باب الجنة الذي تدخل منه أمتي»، فقال: أبو بكر: وددت يا رسول الله، أني كنت معك حتى أنظر إليه، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي» “

 مفہوم گزر چکا۔ (فضائل الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت )

امام طبری رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفیٰ 694ھ) نے ”ریاض النضرہ فی مناقب العشرۃ “ میں اسی کا عنوان قائم کر کے اس کے تحت مذکورہ بالا حدیثِ پاک کو نقل کیا، چنانچہ لکھتےہیں:

” ذكر اختصاصه بأنه أول من يدخل الجنة من أمة محمد -صلى الله عليه وسلم: عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أتاني جبريل -عليه السلام- "۔۔۔ الخ “

مفہوم واضح ہے۔ (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، جلد 1، صفحہ 164، دار الکتب العلمیہ، بیروت )

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں چالیس احادیث پر مشتمل ایک خوبصورت رسالہ لکھا ہے، اس رسالے میں اس حدیثِ پاک کو نقل کرتے ہوئے اس کی تحکیم یوں فرماتے ہیں:

” عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (أتاني جبريل فأخذ بيدي فأراني باب الجنة الذي يدخل منه أمتي) . قال أبو بكر: وددت أني كنت معك حتى أنظر إليه، قال: (أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي) .اخرجه أبو داوود وغيره، وصححه الحاكم من طريق اخر

 مفہوم واضح ہے۔ (الروض الانیق فی فضل الصدیق، الحدیث السابع عشر، صفحہ 36، مطبوعہ بیروت)

کتبِ عقائد سے دلائل:

امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 385 ھ ) شرح مذاہب اہلسنت میں لکھتے ہیں:

”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّتِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللہِ، أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» تَفَرَّدَ أَبُو بَكْرٍ بِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، لَمْ يَشْرَكْهُ فِيهَا أَحَدٌ

ترجمہ: (پوری حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ) اس فضیلت میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ منفرد ہیں اور کوئی بھی آپ کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ (شرح مذاھب اھل السنۃ، فضیلۃ ابی بکر الصدیق ﷜، ص 132، مطبوعہ قاھرہ)

تفسیر نسفی کےمصنف امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ ( المتوفیٰ 710 ھ)نے الاعتماد فی الاعتقاد کے نام سے عقائدِ اہلسنت کے متعلق کتاب لکھی، جس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا عقیدہ لکھنے کے بعد اس پر دلیل کے طور پر اسی حدیثِ پاک کو نقل فرمایا، چنانچہ لکھتے ہیں:

” فقد أجمع أهل السنة والجماعة على أن أفضل الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر رضي الله عنه۔۔۔ قال: (أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي) “

مفہوم واضح ہے۔ (الاعتماد فی الاعتقاد، فصل فی ترتیب الصحابۃ، صفحہ 507 تا 511، مکتبۃ الازھریہ للتراث )

دیگر علمائے کرام کے اقوال سے دلائل:

علامہ ضیاء مقدسی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 643ھ) اپنی کتاب ”صفۃ الجنۃ و النار“ میں عنوان قائم کیا: ”امتِ محمدیہ میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے کا ذکر“ اور پھر اس کے تحت حدیثِ پاک کو نقل کیا، چنانچہ لکھتے ہیں:

”ذكر أول من يدخل الجنة من أمة محمد صلى الله عليه وسلم: عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاني جبريل فأراني باب الجنة الذي تدخل منه أمتي فقال أبو بكر يا رسول الله وددت أني كنت معك حتى أنظر إليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي“

مفہوم واضح ہے۔ (صفۃ الجنۃ و النار، ذکر اول من یدخل الجنۃ الخ، صفحہ 154، مطبوعہ ریاض)

خادم الحدیث علامہ نجم الدین غیطی اسکندری شافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 984 ھ، جن کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: شیخ الاسلام فقیہ محدث عارف باللہ زکریا انصاری قدس سرہ الشریف کے تلمیذ اور حافظ ابنِ حجر عسقلانی کے تلمیذ التلمیذ اور شاہ ولی اللہ وشاہ عبدالعزیز رحمھم اللہ کے سلسلہ حدیث میں استاد ہیں)، یہ لکھتے ہیں:

”قد ثبت في الحديث أنّ أول مَن يدخل الجنة رسول الله، صلى الله عليه وسلم، قبل بني آدم على الإطلاق، وأول مَن يدخلها من الأمم أمته، وأول مَن يدخل إليها من هذه الأمة أبو بكر الصديق رضي الله عنه“

ترجمہ: حدیثِ پاک سے ثابت ہے کہ پوری اولادِ آدم سے پہلے علی الاطلاق سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جنت میں داخل ہوں گےاور امتوں میں سے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی امت ہی داخل ہوگی اور پھر اس امت میں سے سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جنت میں داخل ہوں گے۔ (اجوبۃ النجم الغیطی، صفحہ 7، المکتبۃ الشاملہ )

تفسیر جلالین پر معروف حاشیہ ”حاشیۃ الجمل“ کے مصنف علامہ عجیلی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ 1204ھ) اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:

”(قَوْلُهُ وَأَبَا بَكْرٍ) يَعْنِي الصِّدِّيقَ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ۔۔۔ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ بَادَرَ بِتَصْدِيقِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَوَّلُ خَلِيفَةٍ فِي الْإِسْلَامِ وَأَوَّلُ أَمِيرٍ أُرْسِلَ إلَى الْحَجِّ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَمَنَاقِبُهُ كَثِيرَةٌ شَهِيرَةُ“

 یعنی آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی عبد اللہ بن ابو قحافہ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے ہی سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی تصدیق کی، اسلام کے پہلے خلیفہ اور آپ کو ہی حج میں سب سے پہلے امیر بنایا گیا اور جنت میں سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ہی داخل ہوں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بہت کثیر تعداد میں اور معروف ہیں۔ (فتوحات الوھاب بتوضیح شرح منھج الطلاب، جلد 2، صفحہ 97، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

سبل الہدیٰ و الرشاد میں باقاعدہ یہی ہیڈنگ بنا کر اس کے تحت مذکورہ بالا حدیثِ پاک کو یوں نقل کیا گیا:

”الخامس- في أنه خير من طلعت عليه الشمس وغربت، وأنه أول من يدخل الجنة من هذه الأمة وغير ذلك من بعض فضائله. روى أبو داود وأبو نعيم في فضائل الصّحابة والحاكم عن أبي هريرة- رضي الله تعالى عنه-۔۔۔ الخ“

ترجمہ: پانچویں فصل اس بارے میں کہ سوج جس پر طلوع و غروب ہوتا ہے، ان میں سب سے افضل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور اس امت میں سے سب سے پہلے جنت میں آپ داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کچھ فضائل کے بارے میں۔امام ابو داؤد، امام ابو نعیم اصفہانی نے فضائلِ صحابہ میں اور امام حاکم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنے حدیثِ پاک روایت کی ہے۔۔۔ الخ۔ (سبل الھدی و الرشاد، جلد 11، صفحہ 255، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ زبیدی رحمۃ اللہ علیہ اتحاف السادۃ المتقین میں لکھتےہیں:

”من كان افضل كان الى الجنة أسبق وأول من يدخل الجنة نبينا صلى الله عليه وسلم كما ثبت فى الصحيح وأما من يدخلها أولا بعده صلى الله عليه وسلم فابو بكر“

ترجمہ: جو سب سے زیادہ افضل ہے، وہ جنت میں بھی سب سے پہلے جائے گا اور جنت میں سب سے پہلے تشریف لےجانے والے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جیسا کہ حدیثِ صحیح میں ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جائیں گے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، جلد 3، صفحہ 111، مطبوعہ بیروت)

پاک و ہند کے معتبر و مستند علمائے کرام کے اقوال سے دلائل:

شیخ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت علی والی روایت نقل کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

”واخرج ابوالقاسم عن عبد خير صاحب لواء علي ان علياً قال الا اخبركم باوّل من يدخل الجنه من هذه الامه بعد نبيها؟ فقيل له: بلي يا اميرالمؤمنين قال ابوبكر ثم عمر قيل فتدخلانها قبلك يا اميرالمؤمنين فقال علي: اِي والذي فلق الحبه وبَرء النسمه ليدخلانها“

مفہوم گزر چکا۔(ازالۃ الخفاء، جلد 1، صفحہ 222، 271، مطبوعہ بیروت )

شیخ الاسلام و المسلمین مجدد دین و ملت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”دربارِ نبوت میں جو قرب و وجاہت حضراتِ شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حاصل ہے، کوئی دوسرا بھی اس میں شرکت رکھتا ہے؟ جس قدر نگاہِ غامض کی جائے گی، اسی قدر جاہ و منزلتِ شیخین سب سے بلند و بالا نظر آئے گی۔ اب ہم اس مضمون کو تیس وجہ سے ثابت کرتے ہیں، جن سے حجتِ الہٰی قائم ہوجائے اور مخالف و موافق کو جائے تردد و انکار باقی نہ رہے۔۔۔۔ (پھر 24 نمبر وجہ میں لکھتے ہیں:) بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے اول اس امت سے وہ شخص جو داخلِ جنت ہوگا، صدیق اکبر ہیں۔

اخرجہ ابو داود و المستدرک للحاکم عن ابی ھریرۃ قال: (أما إنك يا أبا بكر أول من يدخل الجنة من أمتي)۔

 (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین، صفحہ 221 تا 240، مطبوعہ مکتبہ بھارِ شریعت، لاھور )

امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ مولائے مسلمین مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی حدیثِ پاک یوں نقل فرماتے ہیں: ”حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں: ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی، میں نے امیر المؤمنین مولیٰ علی سے عرض کی، رسول ا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ فرمایا: ابوبکر و عمر۔ میں نے عرض کی: یا امیر المؤمنین! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے؟ فرمایا:

”ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشھا“

ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 15، صفحہ 680، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”خیال رہے کہ سب سے پہلے جنت میں حضور انور تشریف لے جائیں گے، پھر سارے نبی، پھر حضور انور کی امت، پھر دوسرے نبیوں کی امتیں اور اِس امت میں سب سے پہلے ابوبکر صدیق تو لازم آیا کہ بعدِ انبیاء سب سے پہلے جناب صدیق اکبر جنت میں جائیں گے۔ اس سے پتہ لگا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل ہیں بعد انبیاء سب سے پہلے جنت میں داخلہ آپ کا ہی ہوگا۔“ (مرأۃ المناجیح، جلد 8، صفحہ 357، مبطوعہ ضیاء القرآن، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد انیس سرور عطاری

مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: 2874-Aqs

تاریخ اجراء: 21جمادی الاُخریٰ 1447ھ/13 دسمبر 2025 ء