logo logo
AI Search

عذاب قبر کا انکار کرنا کیسا؟

عذاب قبرکا انکارکرنے والے کا حکم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-166

تاریخ اجراء:11ذوالقعدۃ الحرام 1443 ھ/ 11جون  2022ء

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عذاب قبر کا انکار کرنے والے کیلئے کیا حکم شرعی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عذاب قبر کا انکار کرنا، گمراہی و بے دینی ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں قرآن پاک کی آیت مبارکہ کے الفاظ ”سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ“ (یعنی عنقریب ہم انہیں دومرتبہ عذاب دیں گے) کے تحت فرمایا: ”دو مرتبہ عذاب دینے سے مراد یہ ہے ایک بار تو دنیا میں رسوائی اور قتل کے ساتھ اور دوسری مرتبہ قبر میں عذاب دیں گے۔ پھر انہیں بڑے عذاب یعنی عذابِ دوزخ کی طرف پھیرا جائے گا جس میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ  تعالیٰ منافقین کو تین بار عذاب دے گا ایک مرتبہ دنیا میں، دوسری مرتبہ قبر میں اور تیسری مرتبہ آخرت میں۔اسی آیت میں عذاب قبر کا بھی ثبوت ہے۔ بعض بے علم لوگ اور منکرینِ حدیث، عذاب ِقبر کا انکار کرتے ہیں یہ صریح گمراہی ہے۔ اِس بارے میں اَحادیث بکثرت ہیں۔ (تفسیرصراط الجنان جلد4،صفحہ224،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم