کیا فرشتوں کو غیب کا علم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا فرشتوں کو بھی علمِ غیب ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرشتوں کو غیب کا علم ہے؟
جواب
جس قدر غیبی علوم پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو مطلع فرمایا اتنا ان کو غیب کا علم ہے۔
تفسیر سمرقندی میں ہے:
(وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ) يعني الملائكة لا يعلمون الغيب، لأن بعض الناس يعبدون الملائكة و يرجون شفاعتهم. فأخبر أنهم لاَ يَمْلِكُونَ شَيْئاً وَ لاَ يعلمون مما تقدمهم و لا مما بعدهم، إلا بما أنبأهم اللہ تعالى و يقال لا يدركون جميع علمه و الإحاطة في اللغة إدراك الشيء بكماله (اِلَّا بِمَا شَآءَ) فيعلمهم
یعنی اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے یعنی فرشتے غیب کا علم نہیں رکھتے، کیونکہ بعض لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ (فرشتے) نہ کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ ہی غیب کا علم رکھتے ہیں، نہ ان چیزوں کا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں اور نہ ان چیزوں کا جو ان کے بعد آئیں گی، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا ہو۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے تمام علم کا احاطہ نہیں کر سکتے، کیونکہ احاطہ کے معنی ہیں کسی چیز کو مکمل طور پر جان لینا۔ مگر جتنا وہ چاہے یعنی اللہ انہیں جتنا علم عطا کرے، وہی جانتے ہیں۔ (تفسیر سمرقندی، جلد 1، صفحہ 223، دار الکتب العلمیہ بیروت)
کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جوا ب میں ہے: عموماً فرشتوں کو حسبِ حاجت اُن کے شعبے کے متعلق علمِ غیب تَفویض کیا جاتا ہے۔ مثلاً بادلوں کو چلانے اور بارِش برسانے والے ملائکہ کو اِن امور کے متعلقق علمِ غیب دیا جاتا ہے۔ اِسی طرح جنین یعنی ماں کے رحم میں جو بچّہ ہوتا ہے اُس کے پیدا ہونے نہ ہونے، اُس کے رِزق وغیرہ حتّٰی کہ قبر تک کے مقام تک کا علم اُس پر مامور فرشتوں کو عنایت فرمایا جاتا ہے۔ اِسی طرح ملک الموت سیدنا عزرائیل علیہ الصلوٰۃ و السلام اور ان کے مُعاوِنین ملائکہ کوتمام ذُو الاَرواح کی اموات کے اوقات و مقامات سے باخبر کیا جاتا ہے۔ یوں ہی محفاظین اعمال لکھنے والوں کو۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 302، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1973
تاریخ اجراء: 17ربیع الآخر1446ھ / 21اکتوبر2024ء