مجیب: ابوصدیق محمد ابوبکر عطاری
فتوی نمبر: WAT-1549
تاریخ اجراء: 14رمضان المبارک1444 ھ/05اپریل2023 ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید کہتا ہے کہ گوتم بدھ اور رام کے بارے میں ہمیں سکوت کرنا چاہیے کیا پتا یہ اللہ کے نبی ہوں۔ کیا اس کا ایسا کہنا درست ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
زید کا مذکورہ قول درست نہیں ہے،ان کے جوحالات ان کے ماننے والوں کی کتابوں میں لکھے ہیں ،وہ خودان کے نبی ہونے کے منافی ہیں ۔درست بات یہ ہے کہ ان کے متعلق یہی عقیدہ ہونا چاہیے کہ رام کرشن اور گوتم بدھ ہر گز نبی نہیں ہیں اوران کونبی مانناسخت جہالت وگمراہی ہےاوراپنی اٹکل سے کسی کونبی ماننا منجر الی الکفر (کفرکی طرف لے کر جانے والا)ہے۔
یاد رہے ہمیں اس بات کا مکلف کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث میں جن انبیاء کرام کے بارے میں بتا یا گیا ہے ان پر اسی تفصیل کے ساتھ ایمان لائیں اور جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں کچھ مذکور نہیں ان کے بارے میں اجمالاً یہ ایمان رکھیں کہ جتنے بھی نبی و رسول خدا کی طرف سے آئے سب برحق تھے۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ کسی کو بالتخصیص نبی کہنے کے لئے محض اپنے اندازے اور اوہام کافی نہیں بلکہ قرآن و احادیث میں اس کو نبی قرار دیا گیا تو ہی کسی کو نبی کہہ سکتے ہیں۔ اور جوان کے حالات، ان کے ماننے والوں کی کتابوں سے معلوم ہیں ان کے پیش نظریہ لوگ ہرگز ہر گز نبی نہیں ہوسکتے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اللہ کے آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم پر اللہ تعالی نے سلسلہ نبوت ختم فرما دیا ہے،آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو اخری نبی ماننا ضروریات دین میں سے ہے، آپ کے مبعوث ہونے کے بعد جو کسی اورکو نبوت ملنے کا دعوی کرے کافر ومرتد ہے۔
فتاوی فقیہ ملت میں ہے:کسی شخص کونبی کہنے کے لئے قرآن حدیث سے ثبوت چاہئے اورہندوں کے پیشواوں کے بارے میں نبی ہونے پرقرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا اس لئے ہم انہیں نبی نہیں کہہ سکتے ہیں۔ لہذارام کرشن ،گوتم بدھ وغیرہ ہرگزنہیں انہیں نبی ورسول خیال کرنا سخت جہالت وگمراہی ہے۔ (فتاوی فقیہ ملت،جلد1،صفحہ24، شبیر برادرز،لاہور)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا:کیابدھ،کرشن،رام، کنفیوش، مان سقراط، فیثا غورث وغیر ہم رسول ہوسکتے ہیں؟ آپ علیہ الرحمۃ نے اس کے جواب میں فرمایا: بل ادلیل شرعی کسی غیرنبی کونبی کہنا کفر ہے اور مذکورہ بالا اشخاص کے نبی ہونے پرکوئی دلیل نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ جوان کے حالات معلوم ہیں ان کے پیش نظریہ لوگ ہرگزنبی نہیں ہوسکتے۔ (فتاوی شارح بخاری ،جلد1،صفحہ611،برکات المدینہ،کراچی)
مزید اسی میں فرماتے ہیں: رام لچھمن ہرگزنبی نہیں تھے ان کے جواحوال خود کتب ہندد سے ثابت ہیں وہ اس کے منافی ہیں کہ وہ نبی ہوں حضرت شیخ ہندی احمدسرہندی مجددالف ثانی نے اپنے مکتوبات میں ان کے بارے لکھاہے کہ :”ضلوافاضلوا“ وہ خود گمراہ تھے اورانہوں نے دوسروں کوبھی گمراہ کیا، ہندو کے مذہبی کتابوں کے علاوہ ان کا کوئی ذکر کہیں نہیں ملتا ہےاگر کہیں ہے تو ہندو ہی کی مذہبی کتابوں سے منقول ہوکر یعنی سوائے ہندوؤں کی کتابوں کے اس پر کوئی دلیل نہیں کہ یہ لوگ بھی موجود تھے یانہیں؟ ان کے وجود کی دلیل کی صرف تواتر ہنود ہے اس لیے جوان کے وجود کا قائل ہو اس پر لازم ہے کہ جن کتابوں سے ان کے وجود کا ثبوت ہے ان کتابوں میں ان کے احوال مذکورہیں ان کو بھی سچا مانے یہ ہٹ دھرمی ہوگی کہ جن کتابوں سے ان کا وجود ثابت تو معتبر مانتے اوران کے حالات غیر معتبر۔ جن کتابوں سے ان کا وجود ثابت انہیں سے ان کے ایسے حالات ثابت جوان کے نبی ہونے کےمنافی کسی کونبی کہنا اس وقت جائز جب اس کا ثبوت قرآن واحادیث سے ہواٹکل پچو سے کسی کو نبی کہنا جائز نہیں بلکہ منجرالی الکفر۔ واللہ تعالی اعلم۔ (فتاوی شارح بخاری ،جلد1،صفحہ613،برکات المدینہ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم