بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا عبادت اور پوجنا ایک ہی بات ہے؟ اگر کسی مسلمان نے یہ کہا ہو کہ ہم کسی کو نہیں پوجتے اور اس کی مراد پوجا سے وہ تھی جو ہندو مراد لیتے ہیں، تو ایسے شخص پر کیا حکم ہوگا؟
پوجا اور عبادت دونوں ہم معنی ہیں، اگر کسی نے کہا کہ ہم کسی کو نہیں پوجتے اور مراد غیر خدا کو پوجنا تھا (اور مسلمان سے یہی متصور ہے، نیز عرف میں بھی جب پوجا لفظ بولا جائے تو عموماً مراد غیر مسلموں کے خدا کی پرستش ہی ہوتی ہے کہ مسلمان تو عبادت کا لفظ استعمال کرتے ہیں) تو اس پر کوئی حکم کفر نہیں۔
پوجا کے معانی کے متعلق فیروز اللغات میں ہے: پوجا: عبادت، پرستش، بندگی۔ (فیروز اللغات، صفحہ 307، مطبوعہ، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1883
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1446ھ / 06 ستمبر2024ء