logo logo
AI Search

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا انکار کرنا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا انکار کرنے والے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی کا انکار کرے، اس کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ کافر ہو جاتا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور آپ پر موت طاری نہیں ہوئی، قرب قیامت میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام زمین پر نزول فرمائیں گے اور کئی سال زندہ رہ کر وصال فرمائیں گے۔ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا زمین پر واپس تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور حق ہے، اور اس کا اعتقاد رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت میں سے ہے؛ کہ یہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ اس عقیدے کا انکار کرنے والا اہل سنت سے خارج، سخت خطا کار اور گمراہ ہے، البتہ اس پر حکم کفر نہیں۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِترجمہ کنز العرفان: اور بے شک عیسیٰ ضرور قیامت کی ایک خبر ہے۔ (پارہ25، سورۃ الزخرف 43، آیت 61)

علامہ ابو الفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 774ھ/1373ء) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”قال مجاهد: " وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ " أي: آية للساعة خروج عيسى ابن مريم قبل يوم القيامة، وهكذا روي عن أبي هريرة رضي اللہ عنه وابن عباس وأبي العالية وأبي مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم، وقد تواترت الأحاديث عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أنه أخبر بنزول عيسى ابن مريم عليه السلام قبل يوم القيامة إماما عادلا وحكما مقسطا“

ترجمہ: امام مجاہد نے فرمایا: "اور بے شک وہ قیامت کی خبر ہے" یعنی قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ الصلوۃ و السلام کا ظاہر ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے، اور یہی بات حضرت ابوہریرہ، سیدنا ابن عباس، ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک وغیرہ سے مروی ہے۔ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث متواترہ مروی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوۃ و السلام کے عادل امام اور منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہونے کی خبر دی۔ (تفسير ابن كثير، تفسير سورة الزخرف، جلد 7، صفحہ 236، دار طيبة)

مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/1971ء) مذکورہ بالا آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قریب قیامت اترنا برحق ہے؛ کیونکہ وہ علامت قیامت ہے۔“ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 787، فرید بکڈپو لمیٹڈ، دہلی)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، مسند احمد وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:

”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: والذي نفسي بيده، ‌ليوشكن ‌أن ‌ينزل ‌فيكم ‌ابن ‌مريم ‌حكما ‌مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد“

ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تم میں حضرت ابنِ مریم (عیسیٰ علیہ الصلوة و السلام) ایک عادل حاکم کے طور پر نازل ہوں گے؛ پس وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور (اس زمانے میں) مال اتنا بڑھ جائے گا کہ کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری، كتاب البيوع، باب قتل الخنزير، جلد 2، صفحہ 774، حدیث 2109، دار ابن كثير، دمشق)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

وعقيدة نزوله من ضروريات مذهب أهل السنّة نطقت به الأحاديث المتواترة، فمن أنكرها أو أولها بخروج رجل يماثل عيسى فهو ضال مضل، والصحيح الثابت بالدلائل: أنه عليه الصلوة والسلام رفع حياً ولم يطرأ عليه الموت إلى أن ينزل فيحكم الدين ثم يتوفى فيدفن مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، وهذا قول الجمهور والمخالف فيه من المخطئين“

ترجمہ: اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام کے نزول کا عقیدہ ضروریاتِ مذہب اہل سنت میں سے ہے، احادیثِ متواترہ اِسے واضح بیان کرتی ہیں، لہذا جو شخص اس کا انکار کرے یا اس کی حضرت عیسی علیہ الصلوٰۃ السلام کے مشابہ کسی شخص کے ظاہر ہونے کے ساتھ تاویل کرے، تو وہ گمراہ ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ اور صحیح بات جو دلائل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور ان پر موت طاری نہیں ہوئی یہاں تک کہ وہ نازل ہوں گے اور دین کو مضبوط فرمائیں گے، پھر اُن کا وصال ہوگا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ یہی جمہور علما کا قول ہے اور اس امر میں مخالفت کرنے والا خطا کاروں میں سے ہے۔ (المعتمد المستند علی المعتقد المنتقد، الباب الثالث في السمعيات، صفحہ 305، دار اهل السنة، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”جمہور اَئمۂ کرام کا مذہب یہی ہے کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی انتقال نہ فرمایا، قریبِ قیامت نزول فرمائیں گے، دجال کو قتل کریں گے، برسوں رہ کر انتقال فرمائیں گے، روضۂ پاک حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں ایک مزار کی جگہ خالی ہے، وہاں دفن ہوں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 547، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ/2001ء) سے سوال ہوا کہ ”قیامت کے آثار میں سے یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد کے مینارے پر اتریں گے اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے اور شادی بھی فرمائیں گے اور اولاد بھی ہو گی اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور میں دفن ہوں گے۔ زید کہتا ہے کہ اس پر میرا ایمان ہے، اور بکر کہتا ہے کہ میں ان باتوں کو نہیں مانتا، تو زید کا قول احادیث کریمہ سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور بکر کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ “ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: ” زید کا قول احادیث کریمہ معتبرہ سے ثابت ہے، اور بکر جو مذکورہ باتوں کو نہیں مانتا وہ گمراہ ہے، اس پر توبہ لازم ہے۔ “ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 78،  اکبر بک سیلرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-971

تاریخ اجراء:  08 جمادی الاولی1447ھ/31 اکتوبر 2025ء