کیا کراما کاتبین ہر ایک کے ساتھ الگ الگ ہوتے ہیں ؟
کیا اعمال لکھنے والے فرشتے ہر ایک کے ساتھ الگ الگ ہوتے ہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کِرَاماً کاتبین ہر ایک کے ساتھ الگ الگ ہوتے ہیں یا صرف دو ہی ہیں جو سب کے اعمال لکھتے ہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
کِراماً کاتبین ہر انسان کے ساتھ الگ الگ ہوتے ہیں۔ نیز جب کسی کا انتقال ہوتا ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ان دونوں فرشتوں کو اس کی قبر پر ہی مقرر فرما دیتا ہے، اگر وہ مسلمان تھا، تو تسبیح، تعریف، تکبیر اور کلمہ طیبہ وغیرہ پڑھتے رہتے ہیں، اور اس کی نیکیاں فوت شدہ مسلمان کے لئے لکھتے رہتے ہیں، اور اگر کافر ہوتا ہے، تو اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
مؤمن کے مرنے کے بعد اس کے کراماً کاتبین فرشتوں کے متعلق شعب الایمان میں ہے
”أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: وكل اللہ بعبده المؤمن ملكين يكتبان عمله فإذا مات قال الملكان اللذان وكلا به يكتبان عمله: قد مات فتأذن لنا فنصعد إلى السماء فيقول اللہ عزوجل: سمائي مملوءة من ملائكتي يسبحوني فيقولان: أفنقیم في الأرض؟ فيقول اللہ: أرضي مملوءة من خلقي يسبحوني فيقولان: فأين؟ فيقول قوما على قبر عبدي فسبحاني واحمداني وكبراني وهللاني واكتبا هذه لعبدي إلى يوم القيامة‘‘
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے دو فرشتوں کو اپنے مومن بندے پر مقرر کر رکھا ہے، جو اس کے اعمال(خیر و شر) لکھتے رہتے ہیں، جب یہ انسان فوت ہوجاتا ہے، تو یہ دونوں فرشتے جو مؤمن پر مقرر کئے گئے تھے، کہتے ہیں: اے ہمارے رب عزوجل!یہ شخص تو اب وفات پاچکا ہے، ہمیں اجازت مرحمت فرما کہ ہم آسمان کی طرف رجوع کریں، تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرا آسمان میرے فرشتوں سے پُر ہے، جو میری تسبیح بیان کرتے ہیں، وہ عرض کرتے ہیں: کیا ہم زمین پر ٹھہرے رہیں؟ اللہ تعالی فرماتا ہے: زمین بھی میری مخلوق سے بھری ہوئی ہے، جو میری تسبیح بیان کرتی ہے، وہ عرض کرتے ہیں: ہم کہاں رہیں؟ تو اللہ تعالی فرماتا ہے: تم میرے اس بندے کی قبر پر رکے رہو اور میری تسبیح، تعریف، کبریائی اور کلمہ طیبہ پڑھتے رہو اور یہ سب کچھ میرے اسی بندے کے لئے قیامت تک کے لئے لکھتے رہو۔ (شعب الایمان، جلد12، صفحہ324، حدیث: 9462، مکتبۃ الرشد، ریاض)
کافر کے مرنے کے بعد اس کے کراماً کاتبین فرشتوں کے متعلق شرح الصدور میں ہے
”وأما العبد الكافر إذا مات صعد ملكاه إلى السماء فيقال لهما ارجعا إلى قبره والعناه“
ترجمہ: اور بہرحال جب کافر مرتا ہے، اس پر مقرر فرشتے آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، تو انہیں حکم ہوتا ہےکہ اس کافر کی قبر کی طرف لوٹ جاؤ اور اس پر لعنت کرو۔ (شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور، جلد1، صفحہ293، دار المعرفۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4539
تاریخ اجراء:21جمادی الثانی1447ھ/13دسمبر2025ء