logo logo
AI Search

"جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا" شعر کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ کے لیے یہ جملہ کہنا کیسا کہ جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہاں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

اس شعر کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

معاذ اللہ، اس شعر میں اللہ پاک کو عاجز و بے بس قرار دیا گیا ہے جو کہ صریح کفر ہے۔

سیدی امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلا محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی اپنی کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ میں اس شعر ’’بے چینیاں سمیٹ کر سارے جہان کی / جب کچھ نہ بن سکا تو مِرا دل بنا دیا‘‘ کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’اس شعرکے مصرعِ ثانی کے ان الفاظ ’’جب کچھ نہ بن سکا‘‘ میں اللہ عَزَّوَجَل کو ’’عاجِز و بے بس‘‘ قرار دیا گیا ہے جو کہ صریح کفر ہے۔‘‘ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2322

تاریخ اجراء: 23ذو الحجۃ الحرام1446ھ/20جون2025ء