logo logo
AI Search

عذاب قبر اور میزان ضروریات دین سے ہیں؟

کیا عذاب قبر اور اعمال کا وزن ، ضروریات دین سے ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عذاب قبر اور اعمال کا وزن، یہ ضروریات دین سے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عذاب قبر اور وزنِ اعمال،ان دونوں کا تعلق ضروریات دین سے نہیں بلکہ یہ ضروریات اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں، ان کا انکار کرنے والا بدعتی اور گمراہ ہے، اور ان کے ثبوت پربہت سی آیاتِ قرآنیہ و احادیث نبویہ شاہد ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

 اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: 

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ- وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ

ترجمۂ کنز الایمان: آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔(القرآن، پارہ 24، سورة المؤمن، آیت 46)

مذکورہ بالاآیت کریمہ کی تفسیر میں امام فخرالدین رازی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:

احتج أصحابنا بھذہ الآیة علی اثبات عذاب القبر

ترجمہ: اس آیت سے ہمارے علماء نے عذاب قبر کے اثبات پر استدلال کیا ہے۔ (التفسیر الکبیر، ج 27، ص 521، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے:

أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: ان أحدكم اذا مات عرض عليه مقعده بالغداة و العشي ان كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة و ان كان من أهل النار فمن أهل النار فيقال: هذا مقعدك حتى يبعثك اللہ يوم القيامة

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرجاتاہے، توصبح و شام اس پر اس کا مقام پیش کیا جاتا ہے۔ جنتی پر جنت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانہ ہے، یہاں تک کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 1379، ج 2، ص 99، دار طوق النجاۃ)

میزان عمل کے متعلق اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے

وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔ (القرآن، پارہ 08، سورۃ الاعراف، آیت 08)

اس کے تحت صراط الجنان میں ہے: "صحیح اور متواتر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ قیامت کے دن ایک میزان لاکر رکھی جائے گی جس میں دو پلڑے اور ایک ڈنڈی ہو گی۔ اس پر ایمان لانا اور اسے حق سمجھنا ضروری ہے، رہی یہ بات کہ اس میزان کے دونوں پلڑوں کی نوعیت اور کیفیت کیا ہوگی اور اس سے وزن معلوم کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ یہ سب ہماری عقل اور فہم کے دائرے سے باہر ہے اور نہ ہم اسے جاننے کے مُکَلَّف ہیں، ہم پر غیب کی چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے، ان کی نوعیت اور کیفیت اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ بہتر جانتے ہیں۔ (صراط الجنان، ج 3، ص 270، مکتبۃ المدینہ)

حدیث پاک میں ہے:

يوضع الميزان يوم القيامة فلو وزن فيه السماوات و الأرض لوسعت

ترجمہ: قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا اگر اس میں آسمانوں اور زمینوں کا وزن کیا جائے تو وہ اس کی بھی گنجائش رکھتا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین، رقم الحدیث 8918، ج 5، ص 478، مطبوعہ کراچی)

ضروریات اہل سنت کے بارے میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "ضروریاتِ مذہبِ اہلِ سنت و جماعت: ان کا ثبوت بھی دلیلِ قطعی سے ہوتا ہے، مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوعِ شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے، اسی لئے ان کا منکر کافر نہیں، بلکہ گمراہ، بدمذہب، بددین کہلاتا ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 29، ص 385، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

منکرِ عذابِ قبر کے حکم کے بارے میں المسامرة شرح المسایرة میں ہے:

و الاحادیث فی ھذا الباب کثیرة تبلغ حد الاشتھار و انکار الخبر المشھور بدعة و ضلالة

ترجمہ: عذاب قبر سے متعلق کثیر احادیث وارد ہیں، جو حدِ شہرت کو پہنچی ہوئی ہیں اور خبر مشہور کا انکار بدعت و گمراہی ہے۔ (المسامرة شرح المسایرة، الاصل الثانی و الثالث، ص 223، دار الکتب العلمیة، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: "عذاب و تنعیم ِ قبر کا انکار وہی کرے گا، جو گمراہ ہے۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 1، ص 113، مکتبة المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-3056

تاریخ اجراء:11ربیع الاول1446ھ/14ستمبر2024ء