کیا حساب و کتاب کے بعد لوح و قلم بھی فنا ہو جائیں گے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا لوح و قلم بھی فنا ہو جائیں گے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حساب و کتاب کے بعد لوح و قلم بھی فنا ہوجائیں گے؟
جواب
لوح و قلم فنا نہیں ہوں گے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ البدور السافرہ میں، اسی طرح علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں تحریر فرماتے ہیں:
(واللفظ للاول) قال الامام النسفي فى بحر الكلام قال اهل السنة و الجماعة سبعة لا تفنى العرش و الكرسي و اللوح و القلم و الجنة و النار و أهلها من ملائكة العذاب و الحور العین و الأرواح
ترجمہ: امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ بحر الکلام میں فرماتے ہیں کہ اہل سنت و جما عت کا قول ہے کہ سات چیزیں فنا نہیں ہوں گی: (1) عرش (2) کرسی (3) لَوح (4) قلم (5) جنت اور اس میں موجود حوریں وغیرہ (6) جہنّم اور اس میں موجود عذاب کے فرشتے (7) روحیں۔ (البدور السافرۃ، صفحہ 82، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بيروت)
حاشیۃ الصاوی علی تفسیر جلالین میں ہے:
یستثنی منہ ثمانیۃ اشیاء نظمہا السیوطی فی قولہ: ثمانية حكم البقاء يعمها... من الخلق و الباقون في حيز العدم هي العرش و الكرسي نار و جنة... و عجب و أرواح كذا اللوح و القلم
ترجمہ: آٹھ چیزیں اس سے مستثنی ہیں، جنہیں امام سیوطی نے اپنے اس قول میں بطورِ شعر بیان کیا کہ مخلوق میں سے آٹھ چیزوں کے لئے حکمِ بقاء ہے، اور باقی حیزِ عدم میں ہیں، وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں: عرش، کرسی، نار، جنت، عجب الذنب، ارواح، یونہی لوح و قلم۔ (حاشیۃ الصاوی علی تفسیر جلالین، جلد 03، صفحہ 167، دار الکتب العلمیۃ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3566
تاریخ اجراء: 16 شعبان المعظم 1446ھ / 15 فروری 2025ء