پل صراط کے انکار کا حکم
پل صراط حق ہے، کثیر احادیث صحیحہ میں اس کا ذکرہے، اس کا انکار کرنا، گمراہی ہے۔ المعتقد المنتقد میں ہے
”الصراط، و هو جسر ممدود على ظهر النار، أدق من الشعر وأحد من السيف، يرده كل الخلائق۔۔۔۔۔۔وکثیر من المعتزلۃ ینکرونہ وھو ممکن وارد علی جھۃ الصحۃ فی الاخبار الکثیرۃ فردّه ضلالة“
ترجمہ: صراط: اور وہ ایک پل ہے جو جہنم کی پشت پر کھینچا ہوا ہے، جو بال سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے، تمام مخلوق اس پر سے گزرے گی۔ اور بہت سارے معتزلہ اس کا انکار کرتے ہیں جبکہ وہ فی نفسہ ممکن ہے، کثیرصحیح احادیث میں اس کا ذکر آیاہے، پس اس کا انکار کرنا گمراہی ہے۔ (المعتقد المنتقد، صفحہ235، النوریۃ الرضویۃببلشنک، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4603
تاریخ اجراء: 12رجب المرجب1447ھ/02جنوری2026ء