مجیب: ابوصدیق محمد ابوبکر عطاری
فتوی نمبر: WAT-1398
تاریخ اجراء: 22رجب المرجب1444 ھ/14فروری2023ء
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بارہ خلفا جو قریش سے ہوں گے اور قیامت تک بارہ پورے ہوں گے، ان کے نام و غیرہ کے متعلق تفصیل سے بتا دیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
ان 12 میں سے 9 کی توتعیین ہے، بقیہ 3 کی تعیین پرکوئی یقین نہیں۔ ان کی تعیین اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کےعلم میں ہے۔
ان میں سے 9 کی تفصیل یہ ہے کہ:
ان میں سے 8 تو گزر چکے اوروہ یہ ہیں: حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم ، عثمان غنی، علی مرتضٰی، حسن مجتبی، امیر معاویہ، عبداﷲ بن زبیر، عمر بن عبدالعزیز۔ رضی اللہ تعالی عنہم۔
اورایک باقی ہیں، اور وہ ہیں، حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
امام اہل سنت ، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے اسی بارے میں سوال ہوا تو آپ علیہ الرحمہ نے جوابا فرمایا: اس سے مراد وہ خُلفاء ہیں کہ والیانِ اُمّت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریں، ان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔ نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہے، اُن میں سے خلفائے اربعہ وامام حسن مجتبی و امیر معاویہ و حضرت عبداللہ بن زبیر و حضرت عمر بن عبدالعزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ یہ نو ہوئے باقی تین کی تعیین پر کوئی یقین نہیں۔ (فتاوی رضویہ ، ج27، ص 51، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور )
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ان میں سے آٹھ گزر گئے صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی مرتضٰی، حسن مجتبی، امیر معاویہ، عبداﷲ بن زبیر، عمر بن عبدالعزیز، اور ایک یقیناً آنے والے ہیں، حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین باقی تین کی تعیین اﷲ و رسول کے علم میں ہے۔ (فتاوی رضویہ ، ج29، ص 219، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم