logo logo
AI Search

سب کچھ پہلے سے لکھا ہے تو دنیا میں آنے کی کیا وجہ ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سب کچھ پہلے سے لکھا ہے تو ہم دنیا میں کیوں آئے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جو ہم کرتے ہیں یا جو کریں گے سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا ہے، تو ہم دنیا میں کیوں آئے؟

جواب

"پہلے سے لکھا ہوا ہونے" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا ہمیں زبردستی کرنا پڑتا ہے بلکہ اللہ عزوجل کو پہلے سے معلوم ہے کہ ہم اپنی مرضی سے کیا کریں گے، جیسا ہم کرنے والے تھے اُس نے اپنے علم ازلی سے جان کر وہی لکھا ہے۔

اس کو ایک مثال سے سمجھیں: ( بلا تشبیہ ) ایک استاد اپنے شاگرد کو بہت اچھی طرح جانتا ہے، امتحان سے پہلے استاد اپنی ڈائری میں لکھ لیتا ہے کہ "یہ طالب علم فیل ہو جائے گا" کیونکہ استاد نے اسے پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب نتیجہ آتا ہے اور طالب علم فیل ہو جاتا ہے، تو کیا وہ طالب علم یہ کہہ سکتا ہے کہ ”میں اس لیے فیل ہوا کیونکہ سر نے پہلے سے لکھ دیا تھا" ؟ نہیں! وہ فیل اپنی کوتاہی سے ہوا، استاد کا لکھنا صرف اس کا ”علم (knowledge)“ تھا، اس نے زبردستی فیل نہیں کیا۔

اب سوال یہ ہے کہ جب اللہ عزوجل کو معلوم ہے کہ فلاں جنتی ہے اور فلاں جہنمی، تو دنیا میں بھیجنے کی ضرورت کیا تھی؟ سیدھا جنت یا جہنم میں کیوں نہیں ڈال دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اللہ انسانوں کو بغیر دنیا میں بھیجے جہنم میں ڈال دیتا تو انسان اعتراض کرتا کہ ”اے اللہ! تو نے مجھے موقع ہی نہیں دیا، اگر تو مجھے دنیا میں بھیجتا تو میں بہت نیک اعمال کرتا۔ تو نے مجھ پر ظلم کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں اس لیے بھیجا تاکہ ”امتحان“ واقع ہو جائے اور انسان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم اپنے اختیار کا استعمال کر کے یہ ثابت کریں کہ ہم جنت کے حق دار ہیں یا جہنم کے۔ اللہ کا لکھا ہونا اس کے لامحدود علم کی دلیل ہے، ہماری مجبوری کی نہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

 (الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ)

 ترجمۂ کنز العرفان: وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی بہت عزت والا، بہت بخشش والا ہے۔ (القرآن، سورۃ الملک، پارہ29، آیت: 2)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”یہاں زندگی اور موت پیدا کرنے کی حکمت بیان کی جا رہی ہے کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہاری موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ دنیا کی زندگی میں وہ اپنے اَحکامات اور مَمنوعات کے ذریعے تمہاری آزمائش کرے کہ کون زیادہ فرمانبردار، مخلص اور شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق عمل کرنے والا ہے اور کوئی اپنے برے اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتا کیونکہ وہ غالب ہے اور گناہگاروں میں سے جو توبہ کرے اسے وہ بخشنے والا ہے۔۔۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمیں زندگی عطا کئے جانے اور ہم پر موت مسلّط کئے جانے کی حکمت یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے معاملے میں ہماری جانچ ہو جائے کہ ہم میں سے کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کیسی اطاعت کرتا ہے تاکہ آخرت میں جب ا طاعت گزاروں کو انعامات ملیں اور نافرمانوں کو سزائیں ملیں تو کوئی یہ اعتراض نہ کر سکے کہ اطاعت گزاروں کو انعامات اور نافرمانوں کو سزا کیوں ملی۔ یاد رکھیں کہ دنیا کی زندگی ایک دن ضرور ختم ہو جائے گی جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ (صراط الجنان، جلد10، صفحہ 238، 239، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسل علیھم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرما کر لوگوں کا عذر ختم فرمادیا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

(رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا)

ترجمۂ کنز العرفان: (ہم نے) رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے) تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی) نہ رہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (القرآن، سورۃ النساء، پارہ6، آیت: 165)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے "رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کا مقصد نیک اعمال پر ثواب کی بشارت اور برے اعمال پرعذاب سے ڈرانا ہے اور ایک حکمت یہ ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کے بعد لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے مطیع و فرمانبردار ہوتے۔" (صراط الجنان، جلد2، صفحہ359، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: ”زید کہتا ہے جو ہوا اور ہوگا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہوگا پھر بندہ سے کیوں گرفت ہے اور اس کو کیوں سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا اس نے کون سا کام کیا جو مستحق عذاب کا ہوا جو کچھ اس نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک سے ثابت ہورہا ہے کہ بلاحکم اُس کے ایک ذرّہ نہیں ہلتا۔ پھر بندے نے کون سا اپنے اختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافر یا فاسق، جو بُرے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو بُرے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہوں گے تو بھلے، بہرحال تقدیر کا تابع ہے پھر کیوں اس کو مجرم بنایا جاتا ہے ؟ چوری کرنا، زنا کرنا، قتل کرنا، وغیرہ وغیرہ جو بندہ کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہی کرنا ہے ایسے ہی نیک کام کرنا ہے۔“

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”زید گمراہ بے دین ہے، اُسے کوئی جوتا مارے، تو کیوں ناراض ہوتا ہے، یہ بھی تو تقدیر میں تھا۔ اس کا کوئی مال دبالے، تو کیوں بگڑتا ہے، یہ بھی تقدیر میں تھا۔ یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتاہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اُس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد29، صفحہ 284-28، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے ”وہی ہر شے کا خالق ہے، ذوات ہوں خواہ افعال، سب اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔۔۔ ہر بھلائی، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا، تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اُس نے لکھ دیا۔زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اُس کے لیے بھلائی لکھتا، تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ1، صفحہ11، 12، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4600

تاریخ اجراء: 12رجب المرجب1447ھ/02جنوری2026ء