logo logo
AI Search

کیا منیٰ مکہ میں شامل ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

منیٰ مکۃ المکرمہ میں شامل ہے یا باہر ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا منٰی مکہ شریف کا ہی حصہ ہے یا باہر ہے؟ یعنی مسافر کے لیے یہاں کیا حکم ہوگا؟

جواب

منٰی شرعی طور پر مکہ مکرمہ کی آبادی سے الگ اور خارج شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں مکہ کی عمارتیں اور آبادی پھیل کر منٰی سے مل چکی ہیں، لیکن حج کے احکامات اور مسافر کے مسائل میں اسے مکہ شہر کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔

لہذا اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ میں 15 دن سے کم قیام کرے اور پھر منٰی چلا جائے، تو وہ منٰی میں "مسافر" ہی شمار ہوگا اور چار رکعت والی فرض نمازیں "قصر" (دو رکعت) پڑھے گا۔ اگر کوئی حاجی مکہ اور منٰی کے ایام ملا کر 15 دن پورے کر رہا ہو (مثلاً 10 دن مکہ میں اور 5 دن منٰی میں)، تو وہ شرعاً "مقیم" نہیں بنے گا بلکہ مسافر ہی رہے گا۔ مقیم ہونے کے لیے کسی ایک جگہ میں مسلسل 15 دن قیام کی نیت ضروری ہے۔

چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے، ’’ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما فی موضعين فإن كان كل منهما أصلا بنفسه نحو مكة ومنى والکوفۃ والحیرۃ لایصیر مقیما ترجمہ: اور اگر کسی مسافر نے دو الگ الگ جگہوں پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی، اور وہ دونوں جگہیں اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتی ہوں (یعنی ایک دوسرے کے تابع نہ ہوں)، جیسے مکہ اور منٰی، یا کوفہ اور حیرہ، تو وہ شخص مقیم نہیں ہوگا (بلکہ شرعی طور پر مسافر ہی رہے گا اور قصر نماز پڑھے گا)۔‘‘ (الفتاوی الھندیۃ جلد 1صفحہ 140مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے، ’’دو جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی اور دونوں مستقل ہوں جیسے مکہ و منیٰ تو مقیم نہ ہوا اور ایک دوسرے کی تابع ہو جیسے شہر اور اس کی فنا تو مقیم ہو گیا۔‘‘ (بہار شریعت حصہ 4، صفحہ 745 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-049

تاریخ اجراء: 25 ربیع الاول 1448ھ/07 اگست 2026ء