logo logo
AI Search

کیا کسی کا استعمال شدہ احرام پہن کر عمرہ ادا ہو سکتا ہے؟

 

کسی کا استعمال شدہ احرام پہن کر عمرہ ادا کر نا

مجیب:مولانا محمد علی عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-2958

تاریخ اجراء: 27محرم الحرام1446 ھ/03اگست2024  ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

   کیا کسی کا استعمال کیا گیا احرام کوئی دوسرا شخص پہن کر عمرہ ادا کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   احرام کے لئے نئی چادریں ہونا شرط نہیں ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ احرام کی چادریں نئی یاپاک دھلی ہوئی ہوں،  لہذا اگر کسی نے احرام استعمال کیا ہوا ہے اور وہ پاک صاف ہے تو دوسرا شخص بھی اسے پہن کر عمرہ ادا کر سکتا ہے، البتہ دُھلا ہوا نہ ہو، تو دھو لینا چاہئے، تاکہ استحباب پر عمل ہو جائے۔

   در مختار میں ہے” وكذا يستحب (لمريد الْإِحرام )۔۔۔ لبس إزار۔۔۔ ورداء ۔۔۔جديدين أو غسيلين طاهرين“ترجمہ:اسی طرح احرام باندھنے والے شخص کے لیے مستحب ہے کہ وہ ایسا تہبند اور چادر پہنے جو دونوں نئی ہوں یا پاک دھلی ہوئی ہوں۔

   اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”وفي عدم غسل العتيق ترك المستحب“ ترجمہ: اور پرانی چادروں کو نہ دھونا یہ مستحب کو ترک کرنا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحج،ج 2،ص 481،دار الفکر،بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم