رنگین احرام پہننا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
احرام کی چادریں رنگین پہننا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: عبد القادر، حیدر آباد
جواب
احرام کی چادروں کا سفید ہونا مستحب ہے کہ احادیث مبارکہ میں سفید لباس پہننے کی ترغیب وارد ہوئی اور اسے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ قرار دیا گیا۔ نیز ہمارےمعاشرےمیں رائج بھی سفید چادریں ہیں، اگر کوئی دوسرے رنگ کی چادر بطور احرام باندھے تو لوگ جہالت کی وجہ سے باتیں بنائیں گے اور ایسا کام جو لوگوں کی انگشت نمائی کا سبب ہو اسے چھوڑ دینا چاہئے تاکہ لوگ تشویش میں نہ پڑیں لہٰذا احرام میں سفید چادر ہی استعمال کی جائے۔ البتہ! اگر کسی نے دوسرے رنگ کی چادریں پہنیں تو یہ بھی ناجائز وگناہ نہیں، کہ اصل مقصد بغیر سلا ہوا لباس اور ستر عورت ہے، خواہ وہ کسی رنگ کی چادروں سے حاصل ہو۔
مناسک ملا علی قاری میں ہے: (و یلبس من احسن ثیابہ ثوبین جدیدین او غسلین ابیضین) وصف لثوبین و ھو الافضل من لون اخر کما ھو فی امر الکفن مقرر لقولہ صلی اللہ علیہ و سلم البسوا الثیاب البیض فانھا اطھر و اطیب و کفنوا فیھا موتاکم رواہ جماعۃ ترجمہ: اور وہ اپنے بہترین کپڑوں میں سے دو نئے کپڑے پہنے، یا دو دھلے ہوئے سفید کپڑے پہنے۔ دونوں کپڑوں کے لیے سفید رنگ کی صفت بیان کی گئی ہے، اور یہ دوسرے رنگوں کے مقابلے میں افضل ہے، جیسا کہ کفن کے معاملے میں بھی یہ بات مقرر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہیں، اور اپنے مُردوں کو انہی میں کفن دو،اسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ (مناسک ملا علی قاری، صفحہ 110، مطبوعہ کوئٹہ)
یونہی درمختار میں ہے: (جديدين أو غسيلين طاهرين) أبيضين ككفن الكفاية، و هذا بيان السنةو الا ستر العورۃ کاف ترجمہ: محرم دو نئی یا دھلی ہوئی پاک اور سفید چادریں پہنے جیسا کہ کفن کفایہ ہوتا ہے اور یہ سنت احرام کا بیان ہے، ورنہ ستر عورت کافی ہے۔
اس کے تحت خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: (قوله جديدين) أشار بتقديمه إلى أفضليته، و كونه أبيض أفضل من غيره و في عدم غسل العتيق ترك المستحب بحر (قوله ككفن الكفاية) التشبيه في العدد و الصفة ط (قوله و هذا) أي لبس الإزار و الرداء على هذه الصفة بيان للسنة و إلا فساتر العورة كاف فيجوز في ثوب واحد و أكثر من ثوبين و في أسودين ترجمہ:نئی چادریں ہوں، مصنف علیہ الرحمہ نے ان کو مقدم کرنے سے ان کی افضلیت کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ان کا سفید ہونا دوسرے رنگوں کی نسبت افضل ہے۔ اور پرانے کپڑے کو نہ دھونا مستحب کو ترک کرنا ہے بحر۔ مصنف کا قول: کفنِ کفایت کی طرح یہ تشبیہ تعداد اور صفت دونوں میں ہے۔ طحاوی۔ مصنف کا قول: ’’اور یہ‘‘ یعنی اسی طریقے کے مطابق تہبند اور چادر پہننا سنت کی وضاحت ہے، ورنہ ستر کو ڈھانپنے والا کپڑا کافی ہے۔ لہٰذا ایک ہی کپڑے میں احرام جائز ہے، اور دو سے زیادہ کپڑوں میں بھی، اور دو سیاہ کپڑوں میں بھی جائز ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 03، صفحہ 559، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاویٰ رضویہ میں ہے: مرد سِلے کپڑے اتاریں، ایک چادر نئی یا دُھلی اوڑھیں اور ایک ایسا ہی تہبند باندھیں، یہ کپڑے سفید بہتر ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 731، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایسا کام جو انگشت نمائی کا سبب بنے منع ہے چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لباس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ایک اور نکتہ یادر رکھنا چاہئے کہ اپنے ملک اور شہر میں عام مسلمانوں کی جو وضع اور طرز و طریقہ ہو اسے چھوڑدینا اور دوسری وضع جو تشہیر اور انگشت نمائی کا سبب ہے اسے اختیار کرنا مکروہ ہے۔ چنانچہ علماء کرام فرماتے ہیں اپنے شہر کی عادت اور طریقہ کار سے باہر ہوجانا وجہ شہرت اور مکروہ ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 193، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-7613
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ / 03 ستمبر 2026ء