logo logo
AI Search

حائضہ عورت عمرے کا احرام کہاں سے باندھے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حائضہ عورت عمرے کا احرام کہاں سے باندھے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کوئی عورت ہند سے مکۂ مکرمہ عمرہ کرنا جائے اور اس دوران اس کے حیض کے ایام چل رہے ہوں، تو اب وہ عمرہ کا احرام کہاں سے باندھے گی اپنے ملک سے یا مسجدِ عائشہ سے؟

جواب

حیض کی حالت میں عمرے کا احرام باندھنا جائز ہے، لہٰذا ایسی عورت اپنے میقات پر یا میقات سے پہلے کہیں سے بھی عمرے کی نیت کرسکتی ہے۔ یونہی اگر پاکی کی حالت میں احرام باندھا ہو تو محض حیض آنے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، ان دونوں صورتوں میں عورت پرلازم ہے کہ وہ پاک ہونے کا انتظار کرے، جب پاک ہوجائے تو طہارت کی حالت میں تمام افعالِ عمرہ ادا کر کے عمرہ مکمل کرے۔ یاد رہے کہ عمرے کی ادائیگی کرتے ہوئے طواف کرنا اس کا رکن یعنی فرض ہے، اور واجباتِ طواف میں سے ایک واجب نجاست حکمیہ یعنی حیض و نفاس اور جنابت وغیرہ سے پاک ہونا ہے۔ لہٰذا عورت حیض کی حالت میں عمرے کا طواف ہرگز نہ کرے بلکہ مسجد شریف میں بھی داخل نہ ہو ورنہ گناہگار ہوگی۔ اور اگرعورت نے حیض کی حالت میں طواف اور بقیہ ارکان ادا کرلیے تو اس کا عمرہ ادا ہوجائے گا، مگروہ گناہ گار ہوگی اور دَم بھی لازم ہوگا۔ نیز اس پر لازم ہوگا کہ جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اس طواف کا اعادہ کرے ایسا کرنے سے دم ساقط ہوجائے گا اور اگر طواف کا اعادہ کیے بغیر وطن چلی گئی تو واجب کے ترک کے سبب اس پردَم لازم ہوگا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1990
تاریخ اجراء: 25 ربیع الآخر 1446ھ / 29 اکتوبر 2024ء