حجر اسود کے استلام کا طریقہ اور اس کے مسنون آداب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حجر اسود کا استلام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم جب طواف کرتے ہیں، تو کیا ہر چکرمیں استلام کے لئے کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا ہوگا یا رخ کیے بغیر بھی صرف ہاتھوں کے اشارے سے استلام کر دیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
طواف کرنے والے کے لیے حجرِ اسود کا استلام سنت ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ طواف کے شروع میں اور پھر ہر چکر کے آخر میں بھی حجرِ اسوَد کا استِلام اُس وقت کیا جاتا ہے، جب حجرِ اسود آپ کی سیدھ میں ہو۔ استلام ہر چکر میں سنت ہے اور اس کے لیے طواف کے شروع میں حجرِ اسود کی طرف منہ (یعنی سینہ) کرنا بھی سنت ہے جبکہ طواف کے دوران ہر چکر کے آخر میں استلام کے لیے حجرِ اسود کی طرف منہ کرنا مستحب ہے۔
لباب المناسک اور اس کی شرح مسلک المتقسط میں ہے: "(یحاذی الحجر فیقف بحیالہ) ای بمقابلتہ (و یستقبلہ) ای بوجھہ (و ۔۔۔ یستلم الحجر ۔۔۔ و سن الاستلام فی کل شوط و ان استلمہ فی اولہ و آخرہ أجزأہ) ۔۔۔ (سنن الطواف: استلام الحجر مطلقا) ای من غیر قید الأولیۃ و الآخریۃ و الأثنائیۃ و ان کان بعضھا آکد من بعض ۔۔۔ (واستقبال الحجر فی ابتدائہ) ای بخلاف استقبالہ فی أثنائہ فاِنہ مستحب، ملخصا" ترجمہ: (طواف کرنے والا) حجرِ اسود کے سامنے آکر اس کے مقابِل یعنی سیدھ میں کھڑا ہو اور اس کی طرف رخ یعنی اپنا چہرہ کرے اور حجرِ اسود کا استلام کرے اور استلام ہر چکر میں سنت ہے لیکن اگر کسی نے طواف کے شروع اور آخر میں استلام کیا (اور بیچ میں استلام نہیں کیا)، تو یہ بھی کافی ہوگا۔ حجرِ اسود کا استلام مطلقا طواف کی سنتوں میں سے ہے یعنی شروع، آخر اور درمیان کی قید کے بغیر، اگرچہ اس (یعنی شروع ، آخر اور درمیان) میں سے بعض کی تاکید بعض سے زیادہ ہے اور طواف کے شروع میں حجرِ اسود کی طرف منہ کرنا بھی سنت ہے یعنی اس کے برخلاف طواف کے درمیان (یعنی ہر چکر کے آخر) میں منہ کرنا مستحب ہے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک، صفحہ 144، 146، 176، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1840
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1445ھ / 21 جولائی 2023ء