کرائے پر چیز لے کر قبضہ سے پہلے چیز کرائے پر دینے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کرائے پر چیز لے کر بغیر قبضہ لیے کرائے پر دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی چیز کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دینے کے لئے اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے یا بغیر قبضہ بھی آگے کرائے پر دیا جاسکتا ہے؟
جواب
جس چیز کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دیا جائے اگر وہ منقولی ہو تو اسے آگے کرائے پر دینے سے پہلے اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے اور اگر وہ غیر منقولی ہو تو اسے قبضے سے پہلے بھی کرائے پر دینا جائز ہے۔
منقولی اشیاء کو قبضے سے قبل آگے کرائے پر دینا
منقولی اشیاء کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دینے کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فلو منقولا لم يجز قبل القبض كذا فى التتار خانية‘‘ یعنی:اگر وہ شے منقولی ہو تو اسے قبضے سے پہلے آگے کرائے پر دینا جائز نہیں جیسا کہ فتاوی تتارخانیہ میں ہے۔(رد المحتار مع در مختار ،جلد9،صفحہ125،مطبوعه دار عالم الکتب ، ریاض)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’ومن استاجر شيئا فان كان منقولا فانه لايجوز له ان يؤاجره قبل القبض‘‘ یعنی:جس نے کسی چیز کو کرائے پر لیا اور اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے کرائے پر دینا چاہتا ہے تو اگر وہ چیز منقولی ہے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے کرائے پر دینا جائز نہیں۔(فتاوی عالمگیری، جلد4،صفحہ425،مطبوعه پشاور)
غیرمنقولی اشیاء کو قبضے سے قبل آگے کرائے پر دینا
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ’’للمستاجر ايجار الماجور لآخر قبل القبض ان كان عقارا وان كان منقولا فلا‘‘ یعنی:مستاجر کے لئے جائز ہے کہ وہ اجارے پر لی گئی چیز کو قبضہ سے پہلے کرائے پر دے جبکہ وہ چیز غیر منقولی ہو اگر منقولی چیز ہے تو اسے قبضہ سے پہلے آگے کرائے پر دینا جائز نہیں۔(مجلة الاحكام العدلية، صفحہ109،مطبوعه كراچی)
مجلۃ الاحکام کی مندرجہ بالا عبارت ”وان كان منقولا فلا“کے تحت شرح مجلۃ میں ہے: ’’ان اجارة المنقول قبل قبضه لاتصح، وانما تصح بعد قبضه بخلاف العقار، فان اجارته صحيحة قبل القبض وبعده‘‘ یعنی:منقولی اشیاء کا اجارہ قبضے سے قبل درست نہیں ، یہ فقط قبضہ کے بعد ہی درست ہوتا ہے برخلاف غیر منقولی اشیاء کے کہ غیر منقولی اشیاء کا اجارہ قبضے سے پہلے اور بعد دونوں درست ہے۔(شرح مجلة للاتاسى ، جلد2،صفحہ686،مطبوعه پشاور)
جوہرہ نیرہ میں ہے: ’’استاجر منقولا لم يجز للمستاجر ان يوجره قبل قبضه كما فى البيع، وان كان غير منقول واراد ان يوجره قبل القبض فانه يجوز عندهما خلافا لمحمد كالاختلاف فى البيع‘‘ یعنی:منقولی چیز کو کرائے پر لیا تو کرائے پر لینے والے کے لیے اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے کرائے پر دینا جائز نہیں جیسا کہ بیع میں ہے اور اگر غیر منقولی چیز کو قبضے سے پہلے آگے کرائے پر دینا چاہے تو شیخین کے نزدیک جائز ہےبر خلاف امام محمد کے بیع والے اختلاف کی طرح۔ (الجوهرة النيرة، جلد1،صفحہ578،مطبوعه بيروت)
غیر منقولی چیز کو کرائے پر لے کر آگے کرائے پر دینے سے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’ومن استاجر شيئا ...وان كان غير منقول فاراد ان يواجره قبل القبض فعند ابى حنيفة وابى يوسف يجوز‘‘ یعنی:جس نے کسی چیز کو کرائے پر لیا ۔۔۔ اگر وہ چیز غیرمنقولی ہے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے کرائے پر دینا امام اعظم اور امام ابویوسف کے نزدیک جائز ہے۔(فتاوی عالمگیری، جلد4،صفحہ425،مطبوعه پشاور ملتقطا)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-0237
تاریخ اجرا: 21ذوالقعدۃالحرام1445ھ30مئی2024ء