بجلی چوری میں کسی کی مدد کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بجلی چوری میں مدد کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ میں الیکٹرک کے کام سے وابستہ ہوں اور بعض اوقات مجھے عوام کی طرف سے غیر قانونی بجلی کے کنڈے لگانے یا پہلے سے لگے ہوئے کنڈوں کی مرمت کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کیا میرے لیے غیر قانونی بجلی کا کنڈا لگانا یا اس کی مرمت کرنا ، جائز ہے؟ مہربانی فرما کر شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب
کنڈے لگا کر بجلی استعمال کرنا غیر قانونی اور ناجائز عمل ہے اور اس ناجائز کام پر معاون و مددگار بننا بھی جائز نہیں۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر ہمیں ناجائز کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا بجلی کے کُنڈے لگانا بلاشبہ ایک ناجائز کام میں معاون و مددگار بننا ہے جو کہ جائز نہیں اور اس پر حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔
گناہوں کے کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرنے کی ممانعت سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:” وَلَاتَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ “ترجمہ کنز الایمان:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 2)
امام ابو بکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: ”نهی عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالى“ یعنی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر دوسرے کی مدد کرنے سے روکا گیا ہے۔(احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 429، مطبوعہ کراچی)
ناجائز کام پر اجارہ کرنے سے متعلق بحر شرح کنز میں ہے: ”(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهی)؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه“ یعنی گانے، نوحہ کرنے، اور لہو و لعب پر اجارہ جائز نہیں؛ کیونکہ معصیت کا استحقاق عقد سے بھی نہیں ہو سکتا تو بغیر استحقاق کے اجرت بھی لازم نہیں ہو گی کیونکہ مبادلہ استحقاق کے وقت ہی ہو سکتا ہے ۔ اگر اجرت دے دی اور قبضہ بھی کر لیا تو حلال نہیں ہو گی اور مالک کو واپس کرنا واجب ہوگا۔(بحر الرائق، جلد 8، صفحہ23، مطبوعہ دارالكتاب الاسلامي)
بہارِ شریعت میں ہے:”گناہ کے کام پر اجارہ ناجائز ہے مثلاً نوحہ کرنے والی کو اُجرت پر رکھا کہ وہ نوحہ کرے گی جس کی یہ مزدوری دی جائے گی۔ گانے بجانے کے ليے اجیرکیاکہ وہ اتنی دیر تک گائے گا اور اُس کویہ اُجرت دی جائے گی۔ ملاہی یعنی لہو و لعب پراجارہ بھی ناجائز ہے۔ گانا یا باجا سکھانے کے ليے نوکر رکھتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔ ان صورتوں میں اُجرت لینا بھی حرام ہے اور لے لی ہوتو واپس کرے اور معلوم نہ رہا کہ کس سے اُجرت لی تھی تو اُسے صدقہ کردے کہ خبیث مال کا یہی حکم ہے۔“(بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 144، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
چوری کی بجلی کے متعلق فتاوی فقیہ ملت میں ہے:”چوری سے بجلی جلانا منع ہے کہ اس میں حکومت کو دھوکا دینا اور اس کے قانون کو توڑنا ہے۔ اپنے کو اہانت کے لیے پیش کرنا، اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ اور عزت کی حفاظت کرنا ، ذلت و رسوائی سے بچنا ضروری ہے۔“(فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ لاہور)
فتاوی بریلی شریف میں ہے:”چوری سے بجلی چلانا، جائز نہیں ہے اور دیانت داری کے بھی خلاف ہے۔“ (فتاوی بریلی، صفحہ 104، مطبوعہ لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-720
تاریخ اجرا: 28ربیع الاول1447ھ/22ستمبر2025ء