شراکت داری ختم کرکے سامان خرید لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پارٹنرشپ ختم کرنے پر ایک شریک کا مال خرید لینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شر عِ متین اس مسئلے میں کہ میں نے ایک شخص کے ساتھ کنفیکشنری کا کاروبار شراکت داری میں کیا۔ میں نے انیس لاکھ روپے سرمایہ لگایا اورشریک نے بھی اتنی ہی رقم لگائی۔ نفع و نقصان میں بھی دونوں کا آدھا آدھا حصہ تھا،البتہ کام میں کرتا تھا ، دوسرا شریک کام نہیں کرتا تھا ۔کچھ عرصے بعد ہمارے درمیان اختلاف ہوا جس کی وجہ سےمیرا شریک شراکت داری کامعاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اور جو شرکت کا سامان ہے وہ باہمی رضا مندی سے میں خریدنا چاہتا ہوں ،سامان کی کل مالیت پچیس لاکھ روپے بنی ہے۔کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اس میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں ہے؟
جواب
اگر شرکت کا سرمایہ سامان کی صورت میں موجود ہو اور فریقین اسی حالت میں شرکت ختم کرنا چاہیں تو ایسا کرنا درست ہے۔شراکت داری کا معاہدہ ختم کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہےکہ مالِ شرکت نقد کی صورت میں تبدیل ہوچکا ہو لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شراکت داری کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد باہمی رضامندی سے ایک شریک دوسرے شریک کا حصہ خریدنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو اس کے حصے کے پیسےدے کر خرید سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
شرکت میں نقصان سے متعلق اصول یہ ہے کہ دونوں فریق کے مال کے تناسب کا اعتبار ہوگا۔ اگر شرکت میں دونوں فریق کا مال برابر ہو جیسا کہ سوال میں ذکر کردہ صورت میں ہے اور نقصان ہوجائے تو نقصان فریقین پر برابر تقسیم ہوگا۔
مالِ شرکت سامان کی صورت میں موجود ہونے کی حالت میں اگر کسی شریک نے شرکت کو فسخ کردیا تو اس کا حکم بیان کرتے ہوئے علامہ فخر الدين حسن بن منصور الأوزجندی الفرغانی الحنفی (المتوفى سنة 592 ھ)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”فتاوی قاضی خان “میں لکھتے ہیں: ”شريكان شركة عنان اشتريا أمتعة ثم قال أحدهما لصاحبه لا أعمل معك بالشركة وغاب فعمل الحاضر بالأمتعة فما اجتمع كان للعامل وهو ضامن لقيمة نصيب شريكه لأن قوله لا أعمل معك بالشركة بمنزلة قوله فاسختك الشركة وأحد الشريكين إذا فسخ الشركة ومال الشركة أمتعة قالوا يصح فسخه وفي المضاربة بعد ما صار المال عروضا لا يصح فسخه“ یعنی:شرکتِ عنان کرنے والے دو شریکوں نے سامان خریدا پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں تیرے ساتھ کام نہیں کرتا اور غائب ہوگیا اور موجود شخص نے سامان میں تصرف کیا تو جو مال جمع ہوا، وہ کام کرنے والے کا ہے اور یہ اپنے شریک کے حصے کی قیمت کا ضامن ہوگا۔کیونکہ شریک کا ” میں تیرے ساتھ کام نہیں کروں گا “کہنا”میں نے تیرے ساتھ شرکت کوفسخ کیا “کہنے کے حکم میں ہے۔ دونوں شریکوں میں سے کوئی ایک شریک جب شرکت کو فسخ کردے اور مالِ شرکت سامان کی صورت میں ہوتو فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ شرکت کو فسخ کرنا صحیح ہےجبکہ مضاربت میں مال سامان کی صورت میں ہو تو اس وقت مضاربت فسخ کرنا صحیح نہیں ہے۔(فتاوی قاضی خان،جلد03،صفحہ565،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ )
علامہ زين الدين بن إبراہیم بن محمد، المعروف بابن نجيم المصری (المتوفى: 970 ھ)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”البحر الرائق“ میں لکھتے ہیں : ” ان أحدالشريكين إذا فسخ الشركة وما لها أمتعة قالوا يصح فسخه“ یعنی: دونوں شریکوں میں سے کوئی ایک شریک جب شرکت کو فسخ کردے اور مالِ شرکت سامان کی صورت میں ہوتو فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ شرکت کو فسخ کرنا صحیح ہے۔(البحر الرائق،جلد7،صفحہ268،مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
علامہ محمد بن علی بن محمد الحِصْنی المعروف بعلاء الدين الحصكفی الحنفی (المتوفى:1088 ھ)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”در مختار “میں لکھتے ہیں : ” أحد شريكين إذا فسخ الشركة، ومالها أمتعة) صح“ یعنی:دونوں شریکوں میں سے کسی شریک نے شرکت کو اس حالت میں فسخ کیا کہ مالِ شرکت سامان کی صورت میں تھاتو یہ درست ہے ۔
علامہ سید محمد أمين بن عمر الدمشقی الحنفی (المتوفى: 1252ھ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”صح “ کے تحت لکھتے ہیں: ” أي الفسخ “ یعنی: شرکت فسخ کرنا درست ہے۔(رد المحتار معہ در مختار،جلد05،صفحہ656،مطبوعہ دار الفکر)
اسی طرح درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: ” تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين أو بإنكاره الشركة أو بقول أحدهما للآخر لا أعمل معك فإنه بمنزلة فاسختك وتنفسخ ولو كان مال الشركة موجودا في حالة العروض“۔۔۔إذا قال أحد الشريكين للآخر بعد عقد الشركة وبعد شراء أمتعة للشركة : لا أعمل معك ثم غاب فباع الشريك الحاضر الأمتعة المذكورة فيكون الربح الحاصل للشريك البائع ويجب عليه ضمان بدل تلك الأمتعة للغائب لأن قوله لا أعمل معك هو فسخ للشركة وأحد الشريكين مالك لحق فسخ الشركة حتى لو كان مال الشركة عروضا بخلاف المضا ربة وهو المختار“ یعنی: دونوں شریکوں میں سے ایک کے شرکت فسخ کرنے سے یا شرکت کا انکار کرنے سے یا ایک کے دوسرے کو لا اعمل معککہنے سے شرکت فسخ ہوجائے گی کیونکہ فاسختک ، تنفسخ کے حکم میں ہے اگرچہ مالِ شرکت سامان کی حالت میں موجود ہو۔عقد شرکت ہوجانے اور شرکت کا سامان خریدے جانے کے بعد ، دو شریکو ں میں سے ایک نے دوسرے کو کہامیں تیرے ساتھ کام نہیں کروں گا اور پھر غائب ہوگیا اور موجود شریک نے مذکورہ سامان بیچا تو حاصل ہونے والا نفع بیچنے والے کا ہے اور اس پر شرکت کے سامان کا تاوان دینا لازم ہے کیونکہ اس کا” میں تمہارے ساتھ کام نہیں کروں گا “کہنا شرکت کو ختم کرنا ہے اورہر شریک شرکت کو ختم کر نے کا مالک ہے اگرچہ شرکت کا مال سامان کی صورت میں ہو بخلاف مضاربت کے ، یہی مختار ہے۔(درر الحکام شرح مجلہ الاحکام،الکتاب العاشر، جلد03،صفحہ390،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
اسی طرح صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ”بہار شریعت “میں لکھتے ہیں :” دونوں میں ایک نے شرکت کو فسخ کردیا اگرچہ دوسرا اِس فسخ پر راضی نہ ہو جب بھی شرکت فسخ ہوگئی بشرطیکہ دوسرے کو فسخ کرنے کا علم ہو اور دوسرے کو معلوم نہ ہو ا تو فسخ نہ ہوگی اور یہ شرط نہیں کہ مال شرکتروپیہ اشرفی ہو بلکہ اگر تجارت کے سامان موجود ہیں جو فروخت نہیں ہوئے اور ایک نے فسخ کر دیا جب بھی فسخ ہو جائے گی۔۔۔۔ کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ کام نہ کرونگا تو یہ بھی فسخ ہی ہے، شرکت جاتی رہے گی اور اموالِ شرکت کی قیمت اپنے حصہ کے موافق شریک سے لےگا اور شریک نے اموال کوبیچ کر کچھ منافع حاصل کیے تو منفعت سے اسے کچھ نہ ملے گا۔“ (بہار شریعت ، جلد2، صفحہ513، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
شرکت میں نقصان کے اصول سے متعلق رد المحتار میں ہے: ’’و ما کان من وضیعۃ او تبعۃ فکذلک ولا خلاف ان اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدر راس المال باطل۔ملخصا۔‘‘ یعنی : (شرکت میں) جو کچھ نقصان اور تاوان ہوگا ،تو وہ اسی طرح ہوگا (یعنی ان کے مالوں کی مقدار کے مطابق ہوگا)اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ راس المال کی مقدار کے برخلاف نقصان کی شرط کرنا باطل ہے۔ (رد المحتار معہ درالمختار،جلد4،صفحہ305،مطبوعہ بیروت)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ”بہار شریعت “میں لکھتے ہیں :’’نقصان جو کچھ ہوگا وہ راس المال کے حساب سے ہوگا، اس کے خلاف شرط کرنا باطل ہے، دونوں کے روپے برابر ، برابر ہیں اور شرط یہ کی کہ جو کچھ نقصان ہوگا اس کی تہائی فلاں کے ذمہ اور دو تہائیاں فلاں کے ذمہ ، یہ شرط باطل ہے اور اس صورت میں دونوں کے ذمہ نقصان برابر ہوگا۔‘‘(بہار شریعت،جلد2،صفحہ491،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: IEC-715
تاریخ اجرا: 08ربیع الاول1447ھ/02ستمبر2025ء